Tuesday, October 27, 2020
Home خصوصی رپورٹس کیا بھٹو اب بھی زندہ ہے؟ (سید ماجدعلی)

کیا بھٹو اب بھی زندہ ہے؟ (سید ماجدعلی)

Bilawalپیپلزپارٹی نے باغ جناح میں ایک بڑا جلسہ منعقد کرکے بلاول بھٹو زرداری کو میدان سیاست میں اتار دیا۔ اگرچہ پاکستانی سیاست میں اس کے عملی کردار کا آغاز اب ہوا ہے ، مگر پیپلز پارٹی کی سیاست میں اس کے کردار کا آغاز جنم لینے سے ہوگیا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پیپلزپارٹی نے اپنی صفوں میں سالہا سال سے طاری جمود کو توڑ کر ایک کامیاب جلسہ کرنے کی کوشش کی جس میں میرے تخمینے کے مطابق کم از کم ایک لاکھ افراد شریک ہوئے لیکن یہ کہنا ہرگزمناسب نہیں ہوگا کی نئی تاریخ رقم ہوگئی اور سابقہ تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے۔ اگرماضی پر ایک نگاہ ڈالیں تو اسی مقام پر جماعت اسلامی، ایم کیو ایم، تحریک انصاف ، جے یو آئی (ف) اور دفاع پاکستان کونسل بھی کامیاب جلسے منعقد کرچکی ہے۔
شہرقائد کی تاریخ کا سب سے بڑا جلسہ بلاول کے نانا ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف 20 فروری 1977 کواسی مقام پر، پاکستان قومی اتحاد کے زیر اہتمام ہوا تھا جس میں اس وقت 16 لاکھ افراد نے شرکت کی۔ اس جلسے کی مثال ایسے ہی ہے جیسے تحریک انصاف پشاور میں اپنی طاقت کا مظاہرہ کرے یا مسلم لیگ (ن) لاہور میں لاکھوں کارکن جمع کرلے۔ اگر پیپلز پارٹی کراچی کے بجائے لاہور یا راولپنڈی کا انتخاب کرتی اور طاقت کا بھرپور مظاہرہ کرنے میں کامیاب رہتی تو یقیناً پاکستانی سیاست پر اس کے دور رس اثرات مرتب ہوتے۔ اگرچہ پیپلزپارٹی کے خوابیدہ ورکر کو جگانا بھی مقصود تھا مگراس جلسے کا اصل مقصد نواز حکومت کو آکسیجن فراہم کرنا تھا جو تحریک انصاف کے جلسوں کے نتیجے میں سخت دباﺅ میں نظر آرہی تھی۔ جب تک بلاول کی تقریر آغاز نہیں ہوا، اور سانحہ ماڈل ٹاﺅن کا ذکر شروع نہیں ہوا، یوں لگ رہا تھا جیسے مسلم لیگ (ن) کی کسی ذیلی تنظیم کا جلسہ ہو کیونکہ بلاول کی توپوں کا رخ تحریک انصاف اور حکومت سندھ میں ان کی حلیف جماعت ایم کیو ایم کی طرف ہی تھا۔
جب مغل بادشاہ نصیرالدین محمد ہمایوں فوت ہوا تو شہزادہ جلال الدین محمد اکبرکم سن تھا اور امور حکومت سنبھالنے کے قابل نہ تھا مگر موروثی اصولوں کے تحت اسے تخت پر بیٹھا دیا گیا اور بیرم خان کو اس کا سیاسی اتالیق مقرر کردیا گیا۔ مگر جب شہزادے اکبر نے شعور کی دہلیز پر قدم رکھا تو بیرم خان نے تمام اختیارات شہنشاہ اکبر کے حوالے کردیئے اور خود حج کے سفر پر چلاگیا۔ میرا خیال ہے کہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کو بھی شاید اس بات کا احساس ہوگیا ہے کہ اب بھٹوﺅں کی جاگیر سمجھی جانیوالی پارٹی بلاول کے سپرد کرکے حج پر نکل جانے کا وقت آن پہنچا ہے، لیکن انہیں یہ بات معلوم نہیںکہ یہ نہ تو مغلیہ عہد ہے اور نہ بلاول کی حیثیت جلال الدین محمد اکبر کی سی ہے۔ اب لوگوں میں کسی حد تک یہ احساس بیدار ہوچکا ہے کہ یہ ملک بھٹوﺅں نے پٹے پر لے رکھا ہے نہ اس پر شریفوں کی اجارہ داری ہے۔ ہتھیلی پر سرسوں اگانے اور لوگوں کو بے وقوف بنانے کا وقت گزرچکا گیا۔
gogoپیپلز پارٹی آمریت کے ساتھ دینے والوں کا رونا بہت روتی ہے شائد اس کو علم نہیں پیپلز پارٹی نے بھی آمریت کی گود میں ہی پرورش پائی ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو کی سحر انگیز شخصیت ایک طویل عرصے تک رومانویت کا محورو مرکز رہی ہے، اب اس کے نام پر جیالے کو پارٹی کے کھونٹے سے نہیں باندھا جاسکتا۔ ایئر مارشل اصغر خان جنہوں نے تحریک استقلال کی بنیاد رکھی اور ایک وقت میں وہ بہت مقبول سیاسی رہنما تھے، بھٹو نے انہیں پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیار کرنے کی دعوت دی۔ اصغر نے پوچھا، آپ کی پارٹی کا منشور کیا ہے؟ آپ کے پاس کیا منصوبہ ہے؟ اس پر مرحوم ذوالفقار علی بھٹو نے ہنستے ہوئے کہا، منصوبہ حکومت کرنے کا ہے۔ عوام جاہل ہیں اورمجھے معلوم ہے کہ انہیں کس طرح بے وقوف بنانا ہے۔ بھٹو جیسے نابغہ روگار شخص کو بھی یہ بات یاد نہ رہی کہ تمام افراد کو مستقل بیوقوف نہیں بنایا جاسکتا ہے۔ جن کا خیال یہ ہے کہ بھٹو کی سحر انگیز شخصیت کا جادو کم نہیں ہوا اور اب بھی قائم و دائم ہے، انہیں اپنے اس خیال پر نظر ثانی کرلینی چاہئے کیونکہ بھٹو نے اپنی شخصیت کے سحر کی بنیاد پر سندھیوں کے نہیں پنجابیوں کے دل جیتے۔ بھٹو کو ہر دلعزیز قائد لاڑکانہ نے نہیں لاہور نے بنایا۔
1970 کے انتخابات میں بھٹو نے سندھ سے صرف 18 نشستیں جیتیں جبکہ پنجاب سے 62 نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ اگر بھٹو ازم ختم نہیں ہوا تو پھر پیپلزپارٹی کا پنجاب سے تقریباً صفایا کیوں ہوگیا اور یہ سندھ کی جماعت بن کر کیوں رہ گئی؟
تاریخ شاہد ہے کہ پیپلزپارٹی نے عوام کی ہمدردیاں سمیٹنے اور ووٹ لینے کیلئے ہمیشہ مظلومیت کا پرچم اٹھائے رکھا۔ ایک ایسی پارٹی جسے اسٹیبلشمنٹ نے دبانے کی ہرممکن کوشش کی، جسے کبھی مدت اقتدار مکمل نہیں کرنے دیا گیا۔ جس کے قائد اوراس کی بیٹی کو قتل کردیا گیا۔ کراچی کے حالیہ جلسے میں بلاول بھٹو زرداری اور ان کے والد گرامی آصف زرداری کے خطاب سے یوں لگتا ہے جیسے انہوں نے اب بھی مظلومیت کے اسی علم کو اٹھا کر آگے بڑھنے کی حکمت عملی تیار کی ہے۔ مگرمیرا نہیں خیال کہ اب یہ حکمت عملی کار گر ثابت ہوسکے گی۔ جب آصف زرداری نے اپنی تقریر میں کہا کہ ہم برسراقتدار آکرہرکسان کو شمسی توانائی سے چلنے والا ٹیوب ویل مفت فراہم کریں گے تو لوگوں کے ذہن میں یہ سوال ضرور اٹھا ہوگا کہ جب آپ نے پانچ سال تک حکومت کی تو تب یہ کام کیوں نہ ہوسکا اور اب کیسے یقین کرلیا جائے کہ آپ کی آمد پر دودھ اور شہد کی نہریں بہنے لگیں گی۔ تعجب ہے کہ جب یہ لوگ یہ نعرہ لگاتے ہیں روٹی اور کپڑا اورمکان،مانگ رہا ہر انسان، تو انہیں ذراہ برابر شرم نہیں آتی؟ اگر سالہا سال کے اقتدار کے باوجود بھی لوگ روٹی کپڑا اورمکان مانگ رہے ہیں تو پھر ووٹ کس بنیاد پر کس منہ سے مانگ رہے ہیں؟ اگر عوام کو ایک بار پھر بے وقوف بنانا ہی ہے تو چہروں کے ساتھ ساتھ کم از کم نعرے اور منشور بدل لیں، پرانا مال دھوکہ دہی سے بیچنا ہے تو پیکنگ اور ریپر ہی بدل لیں۔

majid.ali1960@gmail.com

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular

چھالیہ اگر گٹکا نہیں ہے تو کیوں ضبط کی جارہی ہے؟ سندھ ہائیکورٹ

کراچی : سندھ ہائیکورٹ نے پولیس کی جانب سے چھالیہ ضبط کرنے اور مقدمات درج کرنے کے خلاف درخواست کی سماعت پر...

کیپٹن(ر)صفدرکی گرفتاری، تحقیقاتی کمیٹی کا روزانہ کی بنیاد پر اجلاس کا فیصلہ

کراچی :سندھ حکومت کی تحقیقاتی کمیٹی نے کیپٹن(ر)صفدرکی گرفتاری کے واقعے کی تحقیقات کیلئے روزانہ کی بنیاد پر اجلاس کا فیصلہ کرلیا...

کراچی ترقیاتی کمیٹی کا نالوں پر قائم آبادیوں کو منتقل کرنے کا فیصلہ

کراچی: وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ کی سربراہی میں کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں صوبائی وزیر سعید غنی، کور کمانڈر...

سرجانی ٹاؤن, 5سالہ بچی عروہ فہیم گھر کے قریب سے اغواء

کراچی:سرجانی ٹاؤن سیکٹر4 ڈی سے 5 سالہ بچی عروہ فہیم گھر کے قریب سےاغواء ,پولیس کے مطابق گزشتہ روز پیر تقریبا رات...