بلیوٹوتھ ٹیکنالوجی (عاصمہ عزیز)

1موجودہ دور میں سمارٹ فونز سمیت تقریبا تمام الیکٹرونک کے آلات میں استعمال ہونے والی بلیو ٹوتھ ٹیکنالوجی کو استعمال کرنے کا اتفاق سب کو ہی ہو ہو گا۔ لیکن درحقیقت بیلوٹوتھ کیا ہے اور اس کو یہ نام کیوں دیا گیا اکثر ہمارے ذہن میں یہ سوال گردش کرتا ہے۔ تو جانتے ہیں کچھ معلومات اور حقائق موجودہ دور میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی بلوٹوتھ کے بارے میں۔
بلیوٹوتھ ایک عالمی وائرلیس مواصلات کا ذریعہ ہے جو محدود فاصلے پر واقع ڈیواسز کے درمیان رابطہ قائم کرتا ہے۔ یہ ایک لو پاور کمیونیکیشن ہے جو محدود رینج پر واقع سمارٹ فونز، سمارٹ ٹی وی، لیپ ٹاپ، ٹیبلٹس وغیرہ کے درمیان مختلف ڈیٹا کو منتقل کرنے کا ذریعہ ہے۔ یہ بالکل وائی فائی کی طرح کا م کرتا ہے کیوں کہ اس میں ڈیٹا کی منتقلی کے لیے کسی کیبل کی ہمیں ضرورت نہیں پڑتی۔ لیکن بلیوٹوتھ ٹیکنالوجی Radio waves استعمال کرتی ہے جس کی فریکونسی 10khz اور 300,000megahz کے درمیان ہوتی ہے۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ ٹی وی اور اے سی کے لیے استعمال ہونے والے ریموٹس تب تک کام نہیں کرتے جب تک ان کی سمت ٹی وی یا اے سی کی طرف نہ کی جائے کیوں کہ یہ ریموٹس انفرا ریڈ ریڈیشن کا استعمال کرتے ہیں جو کہ محض transparent space یعنی خالی جگہ سے گزرتی ہیں۔ اس
4
کے برعکس بلیوٹوتھ فریکونسی جو کہ ریڈیو ویوز کا استعمال کرتی ہے وہ مختلف اشیاء سے گزر سکتی ہے۔ بلیوٹوتھ ٹیکنالوجی 1994 میں ڈیٹا کے تبادلے کے لیے ڈیٹا کیبلز کے متبادل کے طور پر بنائی گئی تھی۔ اس کا نام بلیوٹوتھ 10 صدی کے بادشاہ ہیرلڈ بلیوٹوتھ (Harold Bluetooth) کے نام پر رکھا گیا جس نے ڈینمارک اور ناروے کو متحد کیا تھا۔ کمیونیکیشن پروٹوکالز کے بنانے والے jim kardach نے اس ٹیکنالوجی کو یہ نام دیا۔
موجودہ دور کی بہت سی ٹیکنالوجیز کی طرح بلیوٹوتھ کے بارے میں بھی عجیب معلومات پھیلائی گئیں جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بلیوٹوتھ سر درد کا باعث بنتا ہے۔ کہا یہ جاتا ہے کہ بلیوٹوتھ میں استعمال ہونے والی رایف لہریں صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں لیکن اس بارے میں کوئی واضح ثبوت ابھی تک نہیں مل سکا۔ بلیوٹوتھ ہیڈسیٹ میں ایک مخصوص جذب کرنے کی شرحSAR) ( ہوتی ہے جو کہ تقریبا .001watt/kg ہے۔
بلیوٹوتھ ٹیکنالوجی کا مستقبل روشن دکھائی دیتا ہے کیوں کہ یہ رابطہ قائم کرنے کی بنیادی ضروریات کو پورا کرتا ہے۔ ایک پروٹوکال کی ریسرچ کی گئی ہے جو کہ ایک بہت بڑے ایڈہاک نیٹ ورک (وائرلیس ایل اے این میں سٹیشنز یا کمپیوٹر کے رابطے کے باعث تشکیل پانے والا وقتی نیٹ ورک) کی
5
حمایت کرے گا۔ اس کے علاوہ بلیوٹوتھ کے تازہ ترین ورژن میں سکیورٹی اور صلاحیتوں کے اعتبار سے بہتری لائی گئی ہے۔ بلیوٹوتھ ٹیکنالوجی والوں کی جانب سے بلیوٹوتھ میں UWB (الٹرا وائیڈ بینڈ) کا استعمال بلیوٹوتھ کے مستقبل کے لیے مثبت ثابت ہو گا۔ الٹرا وائیڈ بینڈ ٹیکنالوجی کے بہت سے مثبت نتائج دیکھنے کو ملیں گے جن میں ہائی ڈیٹا ٹرانسمشن بھی ہے۔ الٹرا وائیڈ بینڈ ٹیکنالوجی کو بلیوٹوتھ سمیت وائرلیس یو ایس بی میں بھی کافی مقبولیت حاصل ہو رہی ہے۔ موجودہ دور میں بہت سی کمپنیاں بلوٹوتھ کی متاثرکن ایمپلیکیشنز بنا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ ڈیٹا کی شرح، پاور کی کمی اور رینج میں مزید بہتری لانے کے منصوبے بنائے گئے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top