Saturday, October 31, 2020
Home کالم /فیچر بول ، والوں کا کیا ہوگا؟ (محمد شعیب یا ر خان)

بول ، والوں کا کیا ہوگا؟ (محمد شعیب یا ر خان)

منصور کا آنا میرے لئے اچھنبے کی بات نہیں تھی مگر اس کے لہجے کی گھبراہٹ نے مجھے پریشان کردیا۔ میری اور منصور کی دوستی کو دس برس سےBOL
زائد ہوچکے ہیں۔ ایک ہی پیشے سے وابستہ ہونے کے سبب ہم ہر اہم معاملے پر ایک دوسرے سے مشاورت بھی کیا کرتے تھے ۔میں نے اس سے، اس کی پریشانی کا سبب پوچھا تو اس نے ملنے پر اصرار کیا جس کے بعد چند ہی گھنٹوں بعد ہم ایک دوسرے کے سامنے موجود تھے ۔یہاں یہ بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ منصور نے چند زورز قبل ہی ایک نیا آنے والا چینل جوائن کیا۔ اس مقصد کیلئے اس نے وہ چینل چھوڑ ا جس میں وہ گذشتہ تین برسوں سے ملازمت کر رہا تھا۔نئے چینل جس کا نام بول تھا اس میں ملازمت اختیار کرلینے کے بعد وہ خاصا مطمئن اور مسرور رہا۔ جس کا اظہار وہ متعدد بار ملاقاتوں میں کر چکا تھا۔

ملاقات میں ابتدائی علیک سلیک کے بعد وجہ پریشانی پوچھی تو اس نے انتہائی متفکر لہجے میں بتایا کہ تم نے ایگزٹ کے حوالے سے خبریں سنی ہونگی، میں اثبات میں سر ہلایااس کے بعد صورتحال بھی تمہارے سامنے ہے اب میرا کیا ہوگا؟س پر میں نے اسے دلاسہ دیا اور کہا کہ کوئی بات نہیں اللہ سب بہتر کرے گا، اور یہ بھی کہا کہ بول کے علاوہ اور بھی چینل موجود ہیں۔ اور ویسے بھی اب تو ہمارا میڈیا کافی ترقی کر چکا ہے۔ جس پر اس نے طنزیہ لہجے میں کہا کہ ہاں بہت ترقی کر چکا ہے مگر صرف چند اینکرز اور اور چند صحافیوں کیلئے، باقی کا حال تو تم جانتے ہو۔ کچھ توقف کر نے کے بعد اس نے اپنی دل کی خوب بھڑاس نکالی اور آخر میں کہا کہ ہم جیسے صحافی آخر کب تک یوں ہی رلتے رہیں گے؟ ہمارا قصور کیا ہے؟ دس سالوں کی مشقت کے بعد بھی کوئی پرسان حال نہیں، لگتا ہے آج بھی جہاں مقام سے چلے تھے وہیں پر کھڑے ہیں ۔
آخر کیوں دنیا کا سب سے زیادہ پڑھا لکھا پیشہ پاکستان میں صرف چند لوگوں کے مفاد کیلئے کام کر تا ہے۔ جو صحافی الیکٹرانک میڈیا میں آنے سے قبل ایک موٹر سائکل تک نہیں لے سکتے تھے آج وہ اینکر بن کر لاکھوں روپے روزانہ کما رہے ہیں ۔ روز ایک ہی جیسے شوز کر کے ان کی تو چاندی ہوگئی ہے ۔ تاہم ہم جیسے صحافی جو روزانہ کی بنیاد پر24چوبیس گھنٹے نیوز چینلز کا پیٹ بھرتے ہیں ان کی اوقات صرف ہوتی ہے کہ سال ختم ہونے کے بعد مخص چند ہزار روپے ہی ان کی تنخواہوں میں بڑھ پاتے ہیں ۔ اور ایسا بھی شاز و ناز ہی ہوتا ہے بڑھ گئے تو اچھی بات ورنہ اکثر جگہوں پر تو ایسا بھی نہیں ہوتا ۔اور ہماری صحافی بھائی اپنی جان ہتھیلیوں پر رک کر ان چینلز کیلئے کام کرتے رہتے ہیں ۔ متعدد چینلز تو ایسے بھی ہیں جہاں کئی کئی ماہ کے بعد ملازمین کو تنخواہیں ہی ادا نہیں کی جاتیں۔ اس کے باوجود وہ اپنے ملازمین سے کام ایسے لیتے ہیں جیسے وہ کسی چینل میں نہیں بلکہ کسی بیگار کیمپ میں کام کرنے والا فرد ہو۔
ہمارے رپورٹرز ، کیمرہ مین ، نیوز ڈیسک و دیگر جگہوں پر کام کرنے والا عملہ صرف اسی انتظارمیں وقت گذارتا ہے کہ شائد کسی اور چینل میں اس سے اچھی نوکری مل جائے ۔ اس صورتحال میں بھی ادارے کے مالکان جب دل چاہے انہیں ڈاﺅن سائزنگ کے بہانے نکالنے کا پورا پورا اختیار استعمال کرتے نظر آتے ہیں ۔
ان تمام معاملات کے ہوتے ہوئے بول جیسے چینل کی آمد بارش کے پہلے قطرے سے کم نہیں تھی۔ بول میں نوکری کرنے کے بعد اندازہ ہوا کہ جیسے ہم جیسے غریب صحافیوں کی بھی قدر ہوگی۔ جو آسائشیں اس چینل میں مجھے اور میرے دیگر ساتھیوں کو ملیں وہ دیگر چینل میں کام کرنے والوں کیلئے مخص ایک خواب ہی ہیں ۔ مگر پھر بھی یہ سب معاملہ شروع ہوا جس کے بعد اب ہم سبھی متفکر ہیں ۔ اور سارا سار اوقت یہ سوچتے ہیں کہ اب کیا ہوگا؟
اس کی طویل گفتگو کے بعد میں نے اس سے سوال کیا کہ کیا تم سمجھتے ہو کہ جو سنگین الزامات ایگزٹ گروپ پر لگائے گئے ہیں وہ دسرت ہیں اور یہ بھی کہ کیا ان کے خلاف کاروائی نہیں ہونی چاہئے ؟اس پر منصور نے غصے میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہونی چاہئے مگر سب کے خلاف ہونے چاہئے اور ہر معاملے ہر ہونی چاہئے ۔کیا اس ملک میں چلنے والے تمام ٹی وی چینلز پر مختلف نوعیت کے الزامات ہیں کیا وہ بند ہوئے ؟ کیا تمام ٹی وی چینلز اور دیگر اداروںمیں سفید دھن ہی استعمال ہورہا ہے ؟ ڈیکلین واش جو خود صحافی ہے اس نے یا کسی دوسرے صحافی پاکستانی چینلز میں کام کرنے والے صحافیوں کے لئے کھبی آوازاٹھائی ؟ کیا اسے یہ نہیں معلوم کہ پاکستانی صحافی کس طرح سے اپنی جانوں پر کھیل کر اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں اور دوسری طرف ان کے حقوق کس طرف سلب ہورہے ہیں اس پر اس صحافی نے کبھی آواز اٹھائی؟
ایک ایسا چینل جس نے ہم جیسے غریب اور مظلوم صحافیوں کو عام سے خاص بننے کا موقع دیا اس کے خلاف دیگر چینلز کس طرح صف آرا ہوئے ۔ کیا جعلی ڈگریاں ہمارے سیاستدانوں کے پاس سے نہیں ملیںجس کے سبب انہیں اسمبلی کی نشستوں سے ہاتھ دھونے پڑے مگر کیا ان کے اثاثے کیا ضبط یا منجمد ہوئے ۔ کیا انہیں جیل کی ہوا کھانی پڑی ؟ نہیں ایسا کچھ بھی نہیں ہوا کیونکہ اپنے مفاد کی خاطر سارے سیاستدان آپس میں ایک ہیں ۔ کوئی بھی ایک دوسرے کو اس قدر نقصان نہیں پہنچائے گا ۔ مگر اس کے برعکس تمام ٹی وی چینلزنے جس طرح بول پر یلغار کر دی ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس ملک میں سب ترقی کر سکتے ہیں مگر ایک غریب صحافی جو دن رات عوام تک خبریں پہنچاتاہے اس مقصد کیلئے اپنی جان کی قربانی تک سے دریغ نہیں کرتا ۔ اپنے فریضے کیلئے دن رات، ایک کرتا ہے کوئی تہوار نہیں دیکھتا نہ چھٹی کو دیکھتا ہے نہ موسم کی خرابی کو ، نہ اپنے آرام کو نہ ہی اپنے مصائب کو ، عوام تو گھر پر سو رہی ہوتی ہے تو بھی ہم صحافی جاگ کر ان تک ان ہی کے مسائل کو اجاگر کرنے کیلئے لگے رہتے ہیں ۔ کیا ایک صحافی کو یہ حق نہیں کہ وہ اپنے بچوں کا پیٹ اور ن کی بہتر تربیت باآسانی کر سکے ؟
آج جس طرح تمام ٹی وی چینل نے بول ٹی وی چینل کا محاصرہ کیا ہوا ہے وہ دراصل وہ محاصرہ بول کا نہیں بلکہ ہم جیسے محنت کشوں کا کیا ہوا ہے ۔ تمام نیوز چینلز کبھی اس بات پر متفق ہوئے کہ ہمارے حقوق اور ہمارے بچوں کے مستقبل کے لئے بھی ایسی کوئی مہم جوئی چلائی جائے ۔ ہم سب کی آواز اٹھانے کے لئے اپنا دان رات ایک کر تے ہیں کوئی ہماری بھی آواز بنے ۔
منصور نے اس کے علاوہ بھی بہت کچھ کہا ، تاہم اس کے اس بات سے ذاتی طور میں متفق ہوں کہ جو صحافی اپنی محنت کا پھل پانے کا خواب سچ ہوتا دیکھ رہے تھے اس پورے معاملے آخر ان کا کیا قصور ہے۔ انہیں کس بات کی کس جرم کی سزا د ی جارہی ہے۔منصور سمیت دوہزار سے زائد بول ٹی وی چینل کے ملازمین کا کیا قصور ہے ۔ ان کی خطائیں کیا ہیں ۔ ان کے حقوق کیلئے کوئی این جی او،کوئی صحافتی تنظیم ، کوئی سیاستدان ، کیا آواز اٹھائے گا۔ ان جیسے ان گنت سوالات میرے دل و دماغ میں گردش کر رہے تھے اور میرے سامنے منصور نظریں جھکائے کسی گہری سوچ میں گم شائد انہی سوالوں کے جواب پانے کی کوشش کر رہا تھا ۔
s_shoaibkhan@hotmail.com

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular

سندھ میں کورونا سے5 افراد جاں بحق، 237 متاثر

راچی: صوبہ سندھ میں عالمی وبا کورونا وائرس سے 5 افراد جاں بحق جب کہ مزید 237 افراد متاثر ہوئے ہیں۔وزیراعلیٰ سندھ...

ٹریفک پولیس اہلکاروں کو جان سے مارنے کی دھمکیاں موصول

کراچی: ٹریفک پولیس پر حملے کی دھمکیاں ملنے کے بعد تمام افسران و اہلکاروں کو بلٹ پروف جیکٹس پہننے کی ہدایات جاری...

گاڑیوں کی ٹکر سے نیوی افسر سمیت3 اہلکار جاں بحق،پولیس اہلکار زخمی

کراچی: گلشن اقبال ابوالحسن اصفہانی روڈ پر تیز رفتار گاڑی کی ٹکر سے ایک شخص جاں بحق ہوگیا، ریسکیو حکام کے مطابق...

کراچی سینٹرل جیل میں عید میلاد النبیﷺ کا بڑا پروگرام

عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موقع پر کراچی سینٹرل جیل میں عید میلاد النبی ﷺ کا بڑا پروگرام منعقد...