Monday, November 30, 2020
- Advertisment -

مقبول ترین

کراچی کی چند خوبصورت مقامات کی ڈرون فوٹیج

کراچی پاکستان کا سب سے بڑا اور آباد شہر ہے۔ سابقہ دارالحکومت ہونے کی وجہ سے ، یہ ایک ممکنہ تجارتی...

جامعہ کراچی کی پوائنٹس سروس

وفاقی سطح پر قائم تعلیمی کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہملک بھر کے تعلیمی ادارے 15 ستمبر...

پلاسٹک آلودگی ( کرن اسلم)

اگر آپ اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں تو آپ کو کسی نہ کسی صورت میں پلاسٹک کی اشیا ضرور ملیں گی۔ مثال کے طور...

بہادرآباد، ڈکیتی کی بڑی واردات،شہری40 لاکھ روپے سے محروم

بہادرآباد میں ڈکیتی کی بڑی واردات، شہری 40 لاکھ روپے سے محروم، ذرائع کے مطابق بہادرآباد شاہ...

کنٹونمنٹ بورڈز انتخابات(رپورٹ)

0-image-1429972254
پاکستان میں اتوار کو 42 کنٹونمنٹ بورڈز میں بلدیاتی انتخابات منعقد ہوئے۔سرکاری ٹی وی کے مطابق صبح آٹھ بجے شروع ہونے والی پولنگ شام پانچ بجے تک جاری رہی۔جماعتی بنیادوں پر ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں کل 1151 امیداور مدمقابل تھے اور ووٹنگ کے عمل کے لیے 199 حلقوں میں 1225 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے جن میں سے 130 پولنگ ا سٹیشنز کو انتہائی حساس قرار دیا گیا۔

اعدادوشمار کے مطابق ملک بھر کے 18 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز کنٹونمنٹ بورڈز کے بلدیاتی انتخابات میں اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔
ان انتخابات میں کل 18 سیاسی جماعتوں نے حصہ لیا۔ سیاسی جماعتوں سے وابستگی رکھنے والے امیدواروں کی تعداد 541 جبکہ 610 آزاد امیدوار بھی الیکشن میں کھڑے رہے۔
انتخابی عمل میں حصہ لینے کے اعتبار سے پی ٹی آئی 137 امیدواروں کے ساتھ سرِفہرست ہے جبکہ حکمراں جماعت مسلم لیگ (ن) کے 128، پاکستان پیپلز پارٹی کے 89، جماعتِ اسلامی کے 74، ایم کیو ایم کے 27، اے این پی کے 13 امیدوار میدان میں اترے۔الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اسلام آباد میں اپنے مرکزی دفتر میں ایک خصوصی سیل بھی قائم کیا ہے۔
ملک بھر میں کل 43 کنٹونمنٹ بورڈز ہیں تاہم بلوچستان کی ا±ڑماڑا کنٹونمنٹ بورڈ کی حدود کے تعین کا مسئلہ حل نہیں ہو سکا ہے اس لیے وہاں پر بلدیاتی انتخابات نہیں ہوئے۔الیکشن کمیشن کی درخواست کے پیشِ نظر کنٹونمنٹ بورڈز کی حدود میں سکیورٹی کے لیے فوج اور رینجرز کے 12400 اہلکار تعینات کیے گئے
ابھی تک جاری ہونے والے غیر سرکاری و غیر حتمی نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن نے ملک بھر میں ہونے والے کنٹونمنٹ بورڈز کے انتخابات میں 67875798-image-1429974976-593-640x480 نشستوں کے ساتھ میدان مار لیا، جب کہ پنجاب میں 59نشستوں کے ساتھ واضح اکثریت حاصل کر لی۔ راولپنڈی کی تمام 10نشستیں جیت لیں۔ تحریک انصاف42، متحدہ قومی موومنٹ19، پیپلز پارٹی 7، جماعت اسلامی 6اور اے این پی 2نشستوں پر کامیاب ہوئی، جب کہ 55آزاد امیدوار جیتے۔ کنٹونمنٹ بورڈ کے تمام 199وارڈز کے مکمل اور غیر سرکاری و غیر حتمی نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) نے 67نشستوں کے ساتھ میدان مار لیا۔ انتخابات میں 55آزاد امیدوار کامیاب ہوئے۔ تحریک انصاف نے 42نشستیں حاصل کیں۔ ایم کیو ایم کو 19نشستیں ملیں۔ پیپلز پارٹی کو 7جماعت اسلامی کو 6اور اے این پی کو 2نشستوں پر کامیابی ملی۔ پشتونحواملی عوامی پارٹی کو اک وارڈ میں کامیابی ملی۔ انتخابات میں کل 18سیاسی جماعتوں نے حصہ لیا۔ ملک بھر میں ایک ہزار 225 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے تھے۔
جبکہ کراچی میں متحدہ 13، ن لیگ پی ٹی آئی کی 5-5 نشستیں
5 وارڈز میں آزاد امیدوار جیتے، جماعت اسلامی، پیپلز پارٹی کے حصے میں 2-2نشستیں آئیں۔ خاتون امیدو ار بھی کامیاب
کراچی کے 6کنٹونمنٹ بورڈز کے 32وارڈ کے الیکشن میں غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ نے 13نشستیں حاصل کر لیں، جبکہ مسلم لیگ ن اور تحریک انصان نے 5-5 جماعت اسلامی نے 2اور ان کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار نے ایک نشست حاصل کی۔ پیپلز پارٹی صرف 2نشستوں تک محدود رہی، جب کہ 4دیگر آزاد امید وار بھی کامیاب قرار پائے ہیں

Open chat