Thursday, January 28, 2021
"]
- Advertisment -

مقبول ترین

اسسٹنٹ کمشنر امتیاز منگی کی چیف سیکریٹری سے رحم کی اپیل

اسسٹنٹ کمشنر امتیاز منگی نے چیف سیکریٹری سندھ ممتاز علی شاہ سے رحم کی اپیل کردی، ذرائع کے مطابق اسسٹنٹ کمشنر امتیاز منگی کے...

کراچی ٹیسٹ تیسرا روز، پاکستان کی پوزیشن مضبوط

 کراچی ٹیسٹ کے تیسرے دن کا کھیل ختم، جنوبی افریقہ نے 4 وکٹوں پر 187 رنز بنالئے، پاکستان پر29 رنز کی برتری حاصل، یاسر...

وفاق سے تحفہ میں ملنے والےفائرٹینڈرز سرخ فیتے کا شکار

وفاقی حکومت کی جانب سے کراچی میونسپل کارپوریشن کو تحفہ میں دی گئی فائرٹینڈر پورٹ بھی سرخ فیتے کا شکار ہوگئیں، ذرائع کےمطابق کے...

اورنگی ٹائون،پولیس مقابلے میں ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار

اورنگی ٹائون میں مبینہ پولیس مقابلہ، ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار، پولیس کےمطابق اورنگی ٹائون قصبہ علی گڑھ موڑ کے قریب دو ڈاکو شہری...

مزار قائد بے حرمتی کیس کا تحریری فیصلہ جاری

جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کراچی کی عدالت نے مسلم لیگ ن کے رہنما کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف مزار قائد بے حرمتی کیس کا تحریری فیصلہ جاری کردیا جس میں کہا گیا ہے کہ ثبوت نا مکمل ہیں، ایسے کیس کو چلانا وقت کا ضیاع ہوگا۔

عدالت نے تحریری فیصلے میں کہا کہ کیپٹن (ر) صفدر و دیگر نامعلوم افراد کے خلاف مقدمے میں ٹھوس شواہد نہیں ہیں، شواہد کے مطابق کیس میں نہ کسی کو سزا ہو سکتی ہے اور نہ ہی مزید کارروائی کا کوئی نتیجہ نکل سکتا ہے، ایسے کیس کو چلانا عدالتی وقت کا ضیاع ہوگا۔

عدالت نے صفدر اعوان کی زر ضمانت بھی واپس کرنے کا حکم دے دیا۔ تحریری فیصلے میں پولیس کا مقدمہ جھوٹا قرار دینا اور مدعی کے خلاف کارروائی کا موقف بھی مسترد کردیا گیا۔

تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پولیس رپورٹ پر مقدمے کو بدنیتی پر مبنی یا جھوٹا قرار نہیں دیاجاسکتا، پولیس رپورٹ غیر واضح ہے اور ثبوت و شواہد نامکمل ہیں۔

عدالت نے پولیس کی بی کلاس کرنے کی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ تفتیشی افسر کے شواہد سے ثابت ہوتا ہے کہ مدعی کا بیان ریکارڈ کرنے کی کوشش کی گئی۔ عدالت نے کہا کہ قاری شمس الدین کے بیان کے مطابق انہوں نے توڑ پھوڑ نہیں دیکھی، صرف ووٹ کو عزت دو کا نعرہ سنا۔

تحریری فیصلے کے مطابق تفتیشی افسر نے سیکیورٹی انچارج اور تلاوت کرنے والے قاری شمس الدین کا بھی بیان ریکارڈ کیا، مزار قائد کے سیکیورٹی ہیڈ آصف ظہور نے بیان میں کہا کہ وہ موقع پر موجود ہی نہیں تھے۔

سیکیورٹی انچارج نے بیان دیا کہ اُنہیں اس واقعے سے متعلق سوشل میڈیا سے پتا چلا جبکہ مزار قائد مینجمنٹ کمیٹی کے رکن نے اس حوالے سے کہا جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کراچی کی عدالت نے مسلم لیگ ن کے رہنما کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف مزار قائد بے حرمتی کیس کا تحریری فیصلہ جاری کردیا جس میں کہا گیا ہے کہ ثبوت نا مکمل ہیں، ایسے کیس کو چلانا وقت کا ضیاع ہوگا۔

عدالت نے تحریری فیصلے میں کہا کہ کیپٹن (ر) صفدر و دیگر نامعلوم افراد کے خلاف مقدمے میں ٹھوس شواہد نہیں ہیں، شواہد کے مطابق کیس میں نہ کسی کو سزا ہو سکتی ہے اور نہ ہی مزید کارروائی کا کوئی نتیجہ نکل سکتا ہے، ایسے کیس کو چلانا عدالتی وقت کا ضیاع ہوگا۔

عدالت نے صفدر اعوان کی زر ضمانت بھی واپس کرنے کا حکم دے دیا۔ تحریری فیصلے میں پولیس کا مقدمہ جھوٹا قرار دینا اور مدعی کے خلاف کارروائی کا موقف بھی مسترد کردیا گیا۔

تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پولیس رپورٹ پر مقدمے کو بدنیتی پر مبنی یا جھوٹا قرار نہیں دیاجاسکتا، پولیس رپورٹ غیر واضح ہے اور ثبوت و شواہد نامکمل ہیں۔

مزار قائد بے حرمتی کیس، کیپٹن (ر) صفدر کیخلاف مقدمہ منسوخ

عدالت نے پولیس کی بی کلاس کرنے کی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ تفتیشی افسر کے شواہد سے ثابت ہوتا ہے کہ مدعی کا بیان ریکارڈ کرنے کی کوشش کی گئی۔ عدالت نے کہا کہ قاری شمس الدین کے بیان کے مطابق انہوں نے توڑ پھوڑ نہیں دیکھی، صرف ووٹ کو عزت دو کا نعرہ سنا۔

تحریری فیصلے کے مطابق تفتیشی افسر نے سیکیورٹی انچارج اور تلاوت کرنے والے قاری شمس الدین کا بھی بیان ریکارڈ کیا، مزار قائد کے سیکیورٹی ہیڈ آصف ظہور نے بیان میں کہا کہ وہ موقع پر موجود ہی نہیں تھے۔

سیکیورٹی انچارج نے بیان دیا کہ اُنہیں اس واقعے سے متعلق سوشل میڈیا سے پتا چلا جبکہ مزار قائد مینجمنٹ کمیٹی کے رکن نے اس حوالے سے کہا کہ اُنہوں نے مدعی کو مزار پر نہیں دیکھا۔

تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کیس کو مزید نہیں چلایا جا سکتا، مدعی کے وکیل نے دلائل میں تفتیش کو غیر شفاف قرار دیا تھا۔ کہ اُنہوں نے مدعی کو مزار پر نہیں دیکھا۔

تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کیس کو مزید نہیں چلایا جا سکتا، مدعی کے وکیل نے دلائل میں تفتیش کو غیر شفاف قرار دیا تھا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Open chat