Tuesday, October 20, 2020
Home خاص خبریں صحت، تعلیم، فلاحی ادارے بچوں کو جنسی زیادتی سے بچانے کے لئے ہر شہری کو کردار...

بچوں کو جنسی زیادتی سے بچانے کے لئے ہر شہری کو کردار ادا کرنا ہوگا، ماہرین

rsz_img_20150912_155330کراچی (رپورٹ:عبدالولی خان)حبیب یونیورسٹی میں منعقدہ پینل ڈسکشن کے شرکاءنے زور دیا کہ بچوں کو جنسی زیادتی سے بچانے کے لئے ہر شہری کو کردار ادا کرنا ہوگا، یونیورسٹی کی جانب سے ’پاکستان میں بچوں سے جنسی زیادتی ‘کے عنوان سے پینل ڈسکشن کا اہتمام کیا گیا جس میں آغا خان یونیورسٹی سے پروفیسر ڈاکٹر موسیٰ مراداور ڈاکٹر عائشہ میاں ، ڈاﺅ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز سے پروفیسر ڈاکٹر عائشہ مہناز، ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے اسد بٹ اور سوشل ویلفیئر ڈپارٹمنٹ کے سیکریٹری شارق احمد شریک ہوئے ،ڈاکٹر مرادکا کہناتھا کہ بچوں کا تحفظ ہم سب کی ذمہ داری ہے اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے، ڈاکٹر عائشہ میاںنے کہا کہ بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات باہر سے زیادہ گھروں اور قریبی افراد کی طرف سے ہوتے ہیں، ڈاکٹر عائشہ مہناز نے کہاکہ سب سے پہلی بات ہے کہ انسان غلطی تسلیم کرے اور پھر اس کے سدھار کی بات کرے ، اسد بٹ نے کہاکہ ہم منافقوںکی بستی میں رہتے ہیں ، گندگی پر پردہ ڈال کر کہتے ہیں کہ سب ٹھیک ہے، شارق محمود نے بتایا کہ ہمارے ڈپارٹمنٹ کے زیر اہتمام صوبے کے 12مختلف اضلاع میں چائلڈ پراٹیکشن سینٹرز قائم کئے ہیں، ہم یونیسیف کے اشتراک سے بچوں کو تربیت بھی دیتے ہیں اور یہ پراجیکٹ گذشتہ ڈیڑھ سال سے جاری ہے ۔ ڈاکٹر موسی مراد کا مزید کہنا تھا کہ دنیا بھر میں مسائل حل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے لیکن ہمارے ملک میںبد قسمتی سے ایسا نہیں ہے،ہم مسائل حل نہیں کرتے، ہمیں مسائل نہیں ان کی وجوہات ختم کرنا ہوں گی ان کا کہنا تھا کہ بے گھر بچوںکو آسانی سے زیادتی کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے ہمیںیہ دیکھنا ہوگا بچے گھروںسے کیوں بھاگتے ہیں، ان کا کہنا تھا جنسی تعلق فطری تقاضہ ہے لیکن اس کے لئے غلط ذرائع کا استعمال کسی بھی طور پر درست جواز نہیں۔ڈاکٹر عائشہ میاں کہتی ہیں کہ بچوںکے ساتھ زیادتی کا سنتی ہوںتو مایوسی ، شرم ،پریشانی ہوتی ہے۔ بچوں کے ساتھ قریبی رشتے داروں کی جانب سے کی جانے والی زیادتی کو سامنے لانے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہاکہ چائلڈ پراٹیکشن ایکٹ موجود ہے لیکن اس پر عمل درآمد نہیں ہوتا ، ہمیں اس کا انتظار کئے بغیر خود قدم اٹھانا ہوگا۔ڈاکٹر شائستہ مہناز کا کہنا تھا کہ ترقی یافتہ ممالک میں بھی بچوں کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے، یہ اچھی بات ہے آج اس موضوع پر بات ہو رہی ہے، والدین کی ذمہ داری انتہائی اہم ہے وہ معاملے کو دبا دیتے ہیں اور جرم ہوتا رہتا ہے۔اسد بٹ کہتے ہیں کہ آئین کا آرٹیکل 35میں ہر بچے کو تعلیم ،صحت اور تحفظ کا حق حاصل ہے،لیکن ہمارے ہاں ایسا کہاہے، بچہ کسی بھی معاشرے کا کمزور ترین طبقہ ہوتا ہے ان کو بہت زیادہ توجہ چاہیے ۔ ان کو بچاناریاست اور معاشرے کی ذمہ داری ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular

سندھ کی مختف مارکیٹوں سے 955 کورونا کیسز رپورٹ

محکمہ صحت سندھ کے مطابق گزشتہ ایک ماہ کے دوران مارکیٹوں، دفاتر، ہوٹلوں اور ڈینگی و پولیو کے رضاکاروں سمیت 2087 افراد...

سندھ حکومت کا کیپٹن صفدر کے واقعے پر وزارتی کمیٹی بنانے کا اعلان،

سندھ حکومت کا کیپٹن صفدر کے واقعے پر وزارتی کمیٹی بنانے کا اعلان،مراد علی شاہ نے پریس کانفرنس کرتےہوئے کہا کہ 3...

یہ کراچی کی تاریخ کاسب سےبڑاجلسہ تھا،مرادعلی شاہ

وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہ کہ یہ کراچی کی تاریخ کاسب سےبڑاجلسہ تھا،جلسے کے بارے...

غصے میں عقل جاتی رہتی ہے

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ جنگل کا حکمران چیتا، غصے میں آگیا، اُس نے تہیہ کر لیا کہ وہ اپنے مخالفوں...