Wednesday, December 2, 2020
- Advertisment -

مقبول ترین

رینجرز کے ہاتھوں انہتائی مطلوب ڈکیت ساتھی سمیت گرفتار

سندھ رینجرز نے انٹیلی جنس معلومات اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے انتہائی مطلوب ڈکیت گروہ کے دو کارندے گرفتار کرلئے،...

اسٹیل ملز ملازمین کوبے روزگارنہیں ہونے دینگے، سعید غنی

 وزیر تعلیم و محنت سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ ہم وفاقی حکومت کی جانب سے مزدوروں کو بے روزگار کرنے کے سخت...

عزیر بلوچ کے 3 ساتھیوں کو سزا

لیاری گینگ وارکے سرغنہ عذیر بلوچ کے 3 قریبی ساتھیوں کے خلاف اہم پیش رفت، عدالت نےعزیربلوچ کے 3 ساتھیوں کو سزا سنادی، عبدالعزیز...

شہر قائد میں موسم خشک رہے گا، محکمہ موسمیات

شہر قائد میں موسم خشک، ہوا میں نمی کا تناسب 21 فیصد ریکارڈ، کم سے کم درجہ 15.5 ڈگری اور زیادہ  سے زیادہ 33...

وزیراعلیٰ سندھ،پنشن کے بڑھتے ہوئے بل پررپورٹ طلب

cm in meetingکراچی وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے پینشن کے بڑھتے ہوئے بل پر محکمہ خزانہ سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ جن اضلاع میں پینشن کی رقم زیادہ ہوئی ہیں وہاں آڈٹ کرایا جائے اور پینشن کی رقم کا سسٹم مکمل کمپیوٹرائزڈ بھی کیا جائے۔ یہ احکامات آج وزیراعلیٰ ہاؤس میں 21-2018 تین سالہ بجٹ حکمت عملی دستاویزات کی تیاری کے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دیئے۔ اجلاس میں محکمہ خزانہ، پی اینڈ ڈی اور سندھ روینیو بورڈ کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ کی تیار کردہ ممکنہ حکمت عملی بجٹ دستاویزات پر بحث کیا گیا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ سندھ حکومت کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے اخراجات 16-2015 میں 137.3 بلین روپے، 17-2016 میں 210.1 بلین روپے اور 18-2017 میں 344.1 بلین روپے رہا۔ اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ کومحکمہ روینیو نے بتایا کہ پچھلے تین سالوں میں 8.9 فیصد روینیو میں اضافہ ہوا ہے جبکہ آئندہ سال 14 فیصد اضافہ کا امکان ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ سال 16-2015 میں 650.9 بلین روپے، 17-2016 میں 692.9 بلین روپے اور سال 18-2017 میں 854.3 بلین روپے موصول ہوئے جبکہ وفاقی منتقلیوں کی مد میں سال 16-2015 میں 518 بلین روپے، 17-2016 میں 539.9 بلین روپے اور 18-2017 میں 654.6 بلین روپے، سال 19-2018 میں 743.1 بلین روپے، سال 20-2019 میں 845.4 بلین روپے اور سال 20-2019 میں 845.4 بلین روپے کی ممکنہ وصولی متوقع ہیں۔ وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ خدمات پر سیلز ٹیکس کی مد میں سال 16-2015 میں 61.5 بلین روپے، 17-2016 میں 78.5 بلین روپے اور 18-2017 کو 100 بلین روپے کا ممکنہ ٹارگیٹ ہے۔ اجلاس میں محکمہ خزانہ نے وزیراعلیٰ سندھ کو آگاہی دیتے ہوئے بتایا کہ پینشن کی رقم سال 16-2015 میں 52.8 بلین روپے، 17-2016 میں 70 بلین روپے اور 18-2017 میں 76 بلین روپے رہی۔ جس پر وزیراعلیٰ سندھ نے پینشن کے بڑھتے ہوئے بل پر محکمہ خزانہ سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے حکم دیا کہ جن اضلاع میں پینشن کی رقم زیادہ ہوئی ہیں وہاں آڈٹ کرایا جائے اور پینشن کی رقم کا سسٹم مکمل کمپیوٹرائزڈ بھی کیا جائے۔

Open chat