کانگو وائرس سے بچائو (ڈاکٹر سیدہ صدف اکبر)

Eid-ul-Adha-mandi Congo Virusکانگو وائرس جسے دماغی بخار کہا جاتا ہے، اس کا سائنسی نام کریمین کانگو بخار ہے۔ اس کی مزید 4 اقسام ڈینگو، ایبولا، لاسا اور فٹ ویلی وائرس ہیں۔ یہ وائرس سب سے پہلے 1944ءمیں کر یمیا میں دریافت ہوا جس کی وجہ سے اسے کریمین ہیمرجک بخار بھی کہتے ہیں۔ یہ مرض جانوروں خصوصاََ بھیڑ، بکریوں ، گائے ، بھینسوںاور اونٹ وغیرہ کی جلد پر پائے جانے والے ایک خاص قسم کے چیچٹر Ticks کے کاٹنے سے پھیلتا ہے جو جانور کی کھال سے چپک کر خون چوستا رہتا ہے۔ اگر یہ چیچڑکسی انسان کو کاٹ لے یا وائرس زدہ مریض یا جانور کے خون اور دیگر جسمانی رطوبتوں مثلاً خون، پیشاب، فضلے او ر تھوک وغیرہ سے متا ثر ہو جائے تو بہت حد ممکن ہے کہ متاثرہ شخص کم وبیش سات دن تک بیماری کی حالت میں رہنے کے بعد دم توڑ جاتا ہے۔ اس بیماری کی سب سے خطرناک اور تشویش دہ بات یہ ہوتی ہے کہ یہ مریض کو چھونے یا اس کے استعمال شدہ اشیاءکو بھی استعمال کرنے سے ایک فرد سے دوسرے میںبا آسانی منتقل ہو سکتی ہے۔

 

کانگو بیماری کی اہم علامات میں شدید تھکاوٹ، بخار، الٹی، بے چینی، بے ہوشی، پٹھوں میں شدید کھینچاﺅں اور قوت مدافعت میں کمی شامل ہیں۔ متاثرہ شخص سب سے پہلے بخار میں مبتلا ہوتا ہے اور پورے جسم میں درد کے ساتھ ساتھ سرمیں بھی شدید درد شروع ہو جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ الٹیاں بھی شروع ہو جاتی ہیں جس کی وجہ سے مریض شدید تھکاوٹ اور کمزوری محسوس کرتا ہے ۔یہ کیفیت 5 سے 6 روز تک برقرار رہتی ہے ۔ اس دوران مریض کی بھوک بالکل ختم ہو جاتی ہے ۔ بخار کی شدت میں عموماََ 3 سے 4 روز میں کمی آجاتی ہے لیکن اس کے بعد بخار دوبارہ شدت اختیار کر لیتا ہے۔ چہرے سمیت پورے جسم میں چھوٹے چھوٹے سرخ رنگ کے دانے نکل آتے ہیں۔ پورا منہ چھالوں سے بھر جاتا ہے اور پھر یہ چھالے پھٹنے کی وجہ سے خون رسنے لگتا ہے۔ اس کے بعد ایک یا 2 روز میں جسم کے مختلف حصوں میں جلد کے نیچے خون جمنے لگتا ہے ۔آہستہ آہستہ جسم کے مختلف حصوں مثلاََ مسوڑوں اور ناک سے خون بہنے لگتا ہے۔

 

خون کے اس شدید ضیاع سے جسم میں خون کے ذریعے شدید کمی کے باعث خون جسم میں ٹھیرتا نہیں ہے اس طرح مریض کی حالت بگڑنے لگتی ہے اور مریض کے دل کی دھٹرکن بھی کمزور ہونا شروع ہو جاتی ہیں اور بلڈ پریشر انتہائی کم ہو جاتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ مریض غنودگی کی حالت میں چلا جاتا ہے۔ کچھ ہی عرصے میں اس کے پھیپھڑے تک متاثر ہو جاتے ہیں جبکہ جگر اور گردے بھی کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور پھریہ بیماری جان لیوا ثابت ہوتی ہے مگر ڈاکٹرز کے مطابق اگر مرض کا بر وقت علا ج کروا لیا جائے تو متاثرہ شخص دوبا رہ صحت مند ہو سکتا ہے۔ چیچٹریوں کے کاٹنے کے بعد علامات تقریباً 1-3 دن میں ظاہر ہو نا شروع ہو جاتی ہیں جبکہ متاثرہ جانور یا انسان کے خون سے متاثر ہونے کی صورت میں یہ علامات 5-7 دن میں ظاہر ہوتے ہیں۔
یہ بیماری عموماََ وائرس زدہ مریض یا جانور کے خون اور دیگر جسمانی رطوبتوں مثلاً خون، پیشاب، فضلے اور تھوک وغیرہ سے پھیلتی ہے۔ اس کے علاوہ وائرس زدہ سرنج یا اشیا کے استعمال اور جانوروں میںپائے جانے والے کیڑوں کا خون انسانی جسم سے چھو جانے یا اس کیڑے کے کاٹنے سے بھی یہ بیماری لگ سکتی ہے۔

 

کانگو وائرس کی ابتداء میں ہی تشخیص ہو جانے کے سبب مریض کے بچنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ مریض کی زندگی کو چونکہ خون کے ضیاع سے زیادہ خطرہ ہوتا ہے لہٰذا مریض کو زیادہ سے زیادہ خون لگوانے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ جسم کو اس کی مطلوبہ مقدار میں خون کی فراہمی جاری رہے۔ کانگو وائرس عموماََ ایسے علاقوں میں زیادہ عام ہوتا ہے جہاں بھیڑ، بکریاں اور مویشی زیادہ پالے جاتے ہیں۔ اس کی احتیاطی تد ابیر میں سب سے زیادہ اہم ہے کہ مویشیوں کو شہری آبادی سے دور باہر ایسے علاقوں میں رکھا جائے جہاں انسا نی آبادی موجود نہیں ہو۔

 

جانورں میں اس بیماری کی علامات بظاہر نظر نہیں آتی ہیں اس لئے چیچٹریوں سے بچاﺅ ں کے لئے جانوروں پر اسپرے کرنا چاہیے۔ ان کے رہنے کی جگہوں کو بھی چیچڑوں سے پاک رکھنے کے لئے کیڑے مار اسپرے کرنے چاہیے۔ ماحول اور جسمانی صفائی کا خاص خیال رکھتے ہوئے متاثرہ جانوروں کو فوراََ تلف کر دینا چاہئے۔ جو لوگ مذبحہ خانوں اور باڑوں میں کام کرتے ہیں انہیں خاص طور پر احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ خاص طور پر چھوٹے بچوں، بزرگ افراد اور خواتین کو بلاوجہ مویشی منڈی جانے سے گریز کرنا چاہیے اور ہلکے رنگ کے لمبی ا ٓستینوں وا لے لباس میں مویشی منڈی جائیں تاکہ چیچڑوں کی موجودگی ہلکے رنگ کے سبب واضح ہوسکے اور پھر گھر آنے کے فوری بعد اپنے جسم پر Ticks کا معائنہ کریں اور فوراََ نہا ئیں ۔ Ticks نظر آنے کی صورت میں کپڑے ، چمٹی یا ٹشو کی مدد سے جلد کے بہت قریب رکھتے ہوئے پکڑیں اور خالی ہاتھوں سے نہ چھوئیں اور نہ ہی انہیں ہاتھ سے مسلنے کی کوشش کریں ۔چھوٹے بچوں کو جانوروں کے ساتھ کھیلنے سے روکیں اور مویشیوں سے دور رکھیں ۔ جانور ذبح کرنے کے بعد خون اور آلائشوں کو احتیاط سے تلف کردیں اور انہیں زمین میں دبادیں ۔ اور صفائی کا خاص خیال رکھیں۔

 

خدا نخواستہ ا گر کسی فرد کو یہ بیماری ہو جائے تو اس کے علاج کے دوران گھر والوں ، تیمارداروں اور ڈاکٹرز کو سخت ا حتیاط کی ضرورت ہوتی ہے ۔ کانگو بیماری میں مبتلا مریض کے پاس ہمیشہ ماسک ، گاﺅن اور دستانے پہن کر جائیں۔ انجکشن لگاتے وقت اس بات کا خاص طورپر خیال رکھنا چاہیے کہ ہاتھ سرنج پر نہ لگے ۔ متاثرہ مریض کے پاس جانے کے بعد دستانے اور گاﺅن ضائع کردیں اور مریض کے استعمال کی چیزیں بھی جلا دینا زیادہ بہتر ہے ۔ جن علاقوں میں مویشی پائے جاتے ہیں ان علاقوں میں خاص طور پر صفائی کا خیال رکھنا چاہیے۔ کانگو وائرس چونکہ مچھر اور مکھیوں کے علاوہ مو یشیوں کے فضلے سے بھی انسانوں تک پہنچ سکتا ہے اس لئے مکھیوں اور مچھروں سے بچاﺅ کے لئے بھی اسپرے کرنے چاہیے اور فضلے کے اخراج کا مناسب انتظام کرنا چاہیے کیونکہ جانورں کے فضلے سے اٹھنے والا تعفن بھی اس مرض میں مبتلا کر سکتا ہے۔

 

مذبحہ خانوں میں کام کرنے والے افراد مکمل دستانے اور گاﺅن پہنیں تاکہ ان کا متاثرہ جانوروں کے خون سے بچاﺅ ممکن ہوسکے۔ ابھی تک کانگو وائرس کی کوئی ویکسین ایجاد نہیں ہوئی ہے لہٰذا احتیاط ہی اس بیماری کا واحد علاج ہے۔ ابتدا میں ہی اگر مرض کی تشخیص ہو جائے تو مرض پر قابو پایا جاسکتا ہے لہٰذا جہاں تک ممکن ہو احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ہم سب کی ذمے داری ہے کہ اس جان لیوا مرض سے تحفظ کے لئے صفائی ستھرائی کا خیال رکھیں اور کسی بھی علامت کے ظاہر ہوتے ہی فوراََ کسی قریبی معالج سے رابطہ کریں کہ بروقت اور مناسب طبی امداد ہی اس مہلک بیماری سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top