Thursday, December 3, 2020
- Advertisment -

مقبول ترین

نیو کراچی، دعا ہوٹل کے قریب سلنڈر دھماکہ

نیو کراچی میں دعا ہوٹل کے قریب سلنڈر دھماکہ، دھماکے سے عمارت کا ایک حصہ منہدم ہوگیا، ملبے میں دب کر ایک شخص جاں...

شادی ہالز کے لئے نئے ایس او پیز جاری

کمشنر کراچی افتخار شلوانی کی زیر صدارت میرج ہالز ایسوسی ایشنز کے عہدے داروں کا اجلاس منعقد ہوا، اجلاس میں کمشنر کراچی افتخار شلوانی...

وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم بھی کورونا کا شکار

وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم کا کورونا ٹیسٹ بھی مثبت آگیا. وفاقی وزیر نے ٹویٹ کرتے ہوئے بتایا کہ میری کورونا ٹیسٹ کی رپورٹ...

سابق وزیراعظم میر ظفراللہ جمالی انتقال کرگئے

سابق وزیراعظم میر ظفر اللہ جمالی انتقال کرگئے، مرحوم کے بیٹے عمر جمالی نے موت کی تصدیق کردی، بیٹے کے مطابق ظفراللہ جمالی تین...

سی پیک اور 2018ء میں ہماری توقعات (عبدالرحمٰن عاجز)

pak china flags
کراچی سے 473 کلومیٹر کے فاصلے پر ایران کی سرحد کے قریب گوادر، بلوچستان کا ایک ایسا ساحلی قصبہ ہے جس میں فطری طور پر گہرے پانی کی قدرتی بندرگاہ بننے کی گنجائش پائی جاتی ہے لیکن ایک ایسے دور دراز مقام پر واقع ہونے کے باعث جس کے ملک کے ساتھ ریل اور سڑک کے رابطے نہ ہونے کے برابر ہیں اپنی فطری صلاحیت کے باوجود اب تک گوادر کو محض مقامی سطح پر ماہی گیری کی بندرگاہ کے طور پر ہی استعمال کیا جا رہا ہے۔ گوادر پاکستان کے جنوب مغرب میں اور دنیا کے سب سے بڑے بحری تجارتی رستے پر واقع ہے جو اپنے شاندار محل وقوع اور زیر تعمیر جدید ترین بندرگاہ کے باعث عالمی سطح پر معروف ہے۔ نام گوادر اصل میں بلوچی زبان کے دو الفاظ، گوات اور در کا بگڑا ہوا نام ہے، گوات کھلی ہوا اور در کا مطلب ہے دروازہ۔ (یعنی کہ ہوا کا دروازہ)۔ 60 کلو میٹر طویل ساحلی پٹی والے شہر گوادر میں اکیسویں صدی کی ضروتوں سے آراستہ جدید بندرگاہ کی تکمیل کا وقت جوں جوں قریب آ رہا ہے اس کی اہمیت روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔ آنے والے وقت میں نہ صرف پاکستان بلکہ چین، افغانستان اور وسط ایشیاء کے ممالک کی بحری تجارت کا زیادہ تر دارومدار اسی بندر گاہ پر ہو گا۔

گوادر پورٹ کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ یہ قدرتی طور پر گہرے پانی کی بندرگاہ ہے۔ عام طور پر بندرگاہوں کو سمندر میں نیچے گہرا کرنے کے لیے کھدائی کی جاتی ہے مگر گوادر ان چند بندرگاہوں میں سے ایک ہے جو گہرے پانی میں واقع ہے۔ اگر قریبی بندرگاہوں سے موازنہ کیا جائے تو ان کی سمندر میں گہرائی عموماَ پچیس سے تیس فٹ تک ہے جیسا کہ بندر عباس اور کراچی پچیس سے تیس فٹ، چاہ بہار تقریباً 33 فٹ، جبل علی 45 فٹ، اومان 30 فٹ، دمام 25 سے 27 فٹ، دوحہ 35 فٹ تک گہرے پانی میں ہیں جبکہ گوادر بندرگاہ 54 سے 55 فٹ گہرے پانی میں واقع ہے۔ چینی مصنوعات کی عالمی منڈی تک بآسانی رسائی کے لیے پاکستان کے راستے گوادر پورٹ اور اس سے آگے سمندری راستے سے دنیا بھر تک رسائی جو کبھی ایک خواب دکھائی دیا کرتا تھا، آج اقتصادی راہداری کے ذریعے اس خواب کو حقیقت میں بدلنے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی۔ سی پیک کے ابتدائی تخمینے کے مطابق کل 46 ارب ڈالر کا معاہدہ طے پایا جو اب 60 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔ اس میں سے 35 ارب ڈالر کا سرمایہ تو چینی کمپنیوں نے لگا رکھا ہے۔ سی پیک کے تحت چین ہمیں ائرپورٹ، بندرگاہ اور چند شاہراہیں بھی بنا کر دے رہا ہے۔ جو مستقبل میں گوادر دنیا کا بہترین پورٹ سٹی ثابت ہونے والا ہے۔ گوارد پورٹ 2045 تک کے لیے چین کے حوالے کر دی گئی ہے۔
اور یوں چین مزید کامیابیوں کی راہ پر گامزن ہو گا جبکہ پاکستان بھی ترقی کرے گا اور اس سے دونوں ممالک کے تعلقات مزید بہتر ہوں گے۔ اس منصوبے کے تحت دونوں ممالک شاہراہوں، ریلویز اور فائبر آپٹک کے ذریعے باہم منسلک ہوں گے۔ فی الحال اس منصوبے کو مختلف حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ جن میں سے سرفہرست گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ کی تکمیل ہے۔ جبکہ شاہراہ قراقرام کی توسیع، فائبر آپٹک لائن بھی دونوں ممالک کے درمیان بچھائی جائے گی تاکہ ذرائع روابط کو بہتر کیا جا سکے۔ پاکستان چائنہ اکنامک کوریڈو (pakistan china economic corridor) گوادر سے کاشغر تک ایک بڑا روڈ یا بڑی راہداری تعمیر کے مراحل میں ہے جسے بولتے وقت آسانی کے لیے سی پیک بھی کہا جاتا ہے۔ جو کہ ایک گیم چینجر منصوبہ ہے جس سے دنیا کے تمام ممالک کو فائدہ ہو گا اور اس سے خطے کی تقدیر بدل جانے کی توقع کی جا رہی ہے۔

چین پاکستان اقتصادی راہداری سے ملک کے تمام صوبے مستفید تو ہوں گے مگر بلوچستان، خیبر پختونخوا اور فاٹا کو خصوصی طور پر فائدہ ہو گا۔ الغرض اس کلیدی منصوبے کے مکمل ہونے سے پاکستانی معیشت کی تقدیر بدل جائے گی۔ پاک چین اقتصادی راہداری کے تحت اہم منصوبوں میں گوادر پورٹ کی اپ گریڈیشن، گوادر پورٹ ایکسپریس وے کی تعمیر، گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ اور کراچی سکھر موٹروے کی تعمیر سمیت دیر منصوبے بھی شامل ہیں تاکہ اس کی تکمیل سے ملک کی اقتصادی اور معاشی ترقی اور خوشحالی کے اہداف میں مدد حاصل کی جا سکے، جبکہ اقتصادی راہداری کا پہلا فیز 2018 تک مکمل ہو جائے گا اور طویل المدتی منصوبے 2020ء تا 2030ء تک مکمل ہو جائیں گے۔ ملکی اور غیرملکی سرمایہ داروں نے گوادر میں بڑے پیمانے پر پراجیکٹ شروع کیے ہوئے ہیں جس سے ہر طبقے کے افراد منسلک ہیں ۔ 2018 میں گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ کی تکمیل بھی متوقع ہے جس سے غیرملکی سرمایہ کاروں کو گوادر میں مزید آسانی میسر آئے گی۔
Open chat