کراچی: جرائم میں اضافہ (رپورٹ)

crimeرپورٹ: عارف رمضان جتوئی
کراچی کو معاشی حب تو کہا ہی جاتا ہے تاہم اب یہ حب جرائم پیشہ افراد کے نرغے میں ہے۔ان جرائم پیشہ افراد کے لیے کراچی ایک سونے کی کان ہے۔ نہ کبھی کوئی پکڑا گیا اور اگر پکڑا بھی گیا تو کب چھوٹ گیا کون جانتا ہے۔حال ہی میں اگر ایک ہفتے کے دوران کے جرائم کی بات کی جائے تو اسٹریٹ کرائم میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوا ہے۔ اب یہ لہر کب تک یوں ہی رہتی ہے اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ ورنہ قانون نافذ کرنے والے ادارے تو گویا مکمل طور پر اس سے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔ پچھلے ایک ہفتے کے دوران کے اعداد و شمار یہاں درج کیے جارہے ہیں۔ جس سے اندازہ ہوگا کہ اس وقت کرائم کے حوالے سے کراچی کے حالات اطمینان بخش ہرگز نہیں ہیں۔

8ستمبر  کو  میئرکراچی وسیم اختر کی گاڑی ان کے ڈرائیور سے چھین لی گئی۔  سرکاری سیاہ رنگ کی کرولانمبرجی ایس999تھی جس کا مقدمہ درخشاں تھانے میں درج کرایاگیا۔  واردات کے بعدڈی آئی جی ساوتھ نے ایس ایچ اودرخشاں کومعطل کردیا،عہدے سے تنزلی بھی کردی گئی۔

9 ستمبر  کورنگی انڈسٹریل ایریامیں ویٹاچورنگی کے قریب خاتون کے اغوا، پولیس کے مطابق ہفتہ اور اتوار کی رات تین گاڑیوں میں سوار 20 ملزمان نے رابعہ نامی خاتون کو زبردستی گاڑی میں ڈال کر لے گئے۔

10 ستمبر کو سندھ اسمبلی کے افسر کی گاڑی چھین لی گئی جس پر بیان سامنے آیا کہ سرکاری گاڑیاں چھیننے کی وارداتوں میں 2بین الصوبائی گروہ ملوث ہوسکتے ہیں۔

10ستمبر کو ہی عبد اللہ شاہ غازی کے پاس  کراچی فٹ پاتھ اسکول کی عمارت میں چوری کی واردات ہوئی،ملزمان اسٹریٹ چلڈرن کے لیے جمع کی جانے والی امدادی رقم ،اساتذہ کی تنخواہیں اورقیمتی سامان لے اڑے ۔

14ستمبر کو  نیپئرسے 8ماہ کی بچی اغواکرلی گئی،  ماں دروازے پربچی کو لے کر  کھڑی تھی کہ ایک لڑکی اس کے ہاتھوں سے بچی کو چھین کربھاگ گئی۔ اور اسی ہی روز ایک بڑی اور تاریخی کارروائی بھی ہوئی  جس میں ملزمان نے  سب مشین گن (ایس ایم جی) سمیت جدید اسلحے کے زور پاک کالونی میں کمپیوٹر رپیئرنگ کی 2 دکانوں میں ڈکیتی کی۔
15 ستمبر کو ڈیفنس سے ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کی گاڑی چوری کرلی گئی۔گاڑی سرکاری   افسر کامران کلہوڑو کے گھر کے باہر کھڑی تھی۔

دوسری جانب پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے نئی حکمت عملی کے تحت اسٹریٹ کرائم اور ڈکیتی کی مختلف واردتوں میں ملوث 40 جرائم پیشہ افراد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیاہے۔ ایڈیشنل آئی جی کراچی امیر شیخ  کے مطابق  سی سی ٹی وی فوٹیجز کو اسٹریٹ کرائم کے ملزمان کے خلاف اہم ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے اور اس کے نتیجے میں ایک ہفتے کے دوران 18 وارداتوں میں ملوث 40 جرائم پیشہ افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

امیر شیخ نے مزید بتایا کہ ضلع غربی میں اسٹریٹ کرائمز، دکانوں اور دیگر املاک پر مختلف 5 وارداتوں میں ملوث 13 جرائم پیشہ افراد کو سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے گرفتار کیا گیا جبکہ ڈسٹرکٹ ایسٹ پولیس نے 3 وارداتوں میں ملوث 7، کورنگی ڈسٹرکٹ پولیس نے 3 وارداتوں میں ملوث 5، ضلع جنوبی پولیس نے 3 وارداتوں میں ملوث 2 اور ڈسٹرکٹ سینٹرل پولیس نے ایک واردات میں ملوث 2 جرائم پیشہ افراد کو گرفتار کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top