کراچی میں بچوں کا اغوا، خوف اور سیاست

moosaخصوصی رپورٹ : موسیٰ غنی
ایک وقت تھا کراچی میں جرائم کا ختم ہونے والا سلسلہ تھا پھر وہ تھما تو کراچی جگمگا اٹھا اور آج پھر نا جانے کیوں خوف کے سائے منڈلانے لگے ہیں۔    ایک بار پھر بچوں کے اغواء اور گمشدگی کے واقعات کی خبریں زیر گردش ہیں،تو دوسری جانب اسٹریٹ کرائم کا جن بھی قابو میں نہیں آرہا۔

 

شہر قائد میں  بچوں کے اغوا اور پراسرار گمشدگی کے واقعات میں اضافے نے شہریوں کو خوف  میں مبتلا کر رکھا ہے، سیکورٹی ادارے ناکام ہیں یا پھر کوئی کہانی ہے، یہ بات تو آنے والے دنوں میں ہی واضح ہوگی مگر کراچی کی بڑی سیاسی جماعتیں اس پر ضرور سیاست کر رہی ہیں۔   ایم کیو ایم ،پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی سمیت صوبے کی دیگر جماعتیں سیاست چمکا نے میں مصروفِ عمل ہیں۔

 

بچوں کے اغواء کے معاملے پر تحقیقات crime-kidکے لیے سندھ ہائی کورٹ نے نوٹس لے رکھا ہے جس کی رپورٹ آئی جی سندھ کلیم امام جمع کرائیں گے۔  گمشدہ بچوں کی بازیابی کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم ’’روشنی‘‘ کے مطابق جنوری 2017 ء سے لے کر رواں سال ستمبر تک ان کی ہیلپ لائن کو 200 بچوں کی گمشدگی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جن میں سے 177 بازیاب ہوگئے ہیں جبکہ 23 ابھی تک لاپتا ہیں ۔

 

کراچی پولیس چیف ڈاکٹر امیر شیخ کے مطابق سال2018سے اب تک 146بچے مختلف علاقوں سے لاپتا  ہوئے جن میں سے  126 بچوں کا پتا چلا لیا گیا یا وہ خود گھر واپس آگئے، ان  میں سے  صرف8   بچوں  کوتاوان کے لیے اغواء کیا گیا۔امیر شیخ نے  بتایا کہ پولیس نے رواں سال بچوں کے اغواء میں ملوث تین ملزمان کو مقابلے میں ہلاک کیا جب کہ 22ملزمان کو گرفتار بھی کیا گیا۔ ضلع ویسٹ سے40،ڈسٹرکٹ ایسٹ سے33،ضلع ملیرسے23،کورنگی سے21،سینٹرل سے17اورساؤتھ سے12 بچے لاپتہ ہوئے،لاپتہ ہونے والے بچوں میں121بچے جب کہ 25بچیاں تھیں۔

 

انہوں نے بتایا کہ پانچ سال تک کے12،چھ سے دس سال کے32،گیارہ سے پندرہ سال کی عمر کے58اورسولہ سیاٹھارہ سال کے24بچے لاپتہ ہوئے اس لیے یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ ماؤں کی گودوں سے بچے چھینے جا رہے ہیں۔لاپتہ ہونے والے 95 فیصد  بچے اپنی مرضی سے گئے، جو بچے پولیس نے بازیاب کیے، ان کی عمریں 5 سے 17سال ہیں،ان میں 66 فیصد بچوں کی عمریں10 سال سے زیادہ ہے۔انہوں نے بتایا کہ زیادہ تر بچے شہر کے مضافاتی علاقوں سے لاپتہ ہوتے ہیں۔

 

گزشتہ ایک ہفتے کے دوران کراچی سے 8بچے اغواء ہوئے جن میں سے دو کی لاشیں سہراب گوٹھ اور نالے سے ملیں ہیں جن کے جسم پر تشدد کے نشانات تھے ،جبکہ ایک بچے کو 26ستمبر کو بازیاب کرالیا گیا ہے جیسے نیوکراچی سے اغواء کیا تھا۔

 

بچے نے پولیس کو بتایا ہے کہ ایک شخص اس کو ابو سے ملوانے اور چیز کھلانے کے بہانے لے کر گیاتھا بچہ کراچی کے علاقے لیاقت آباد سے ملا۔شہریوں نے پولیس پر عدم اعتماد ظایر کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ پولیس جرائم میں برابر کی ملوث ہے جبکہ شہریوں نے پولیس پر الزام عائد کیا ہے کہ پولیس لاپتا بچوں کی گمشدگی کے مقدمات درج کرنے سے انکارکررہی ہے۔28سمبر کوبھی کراچی کے علاقے اختر کالونی میں کچرے کے ڈھیر سے پانچ نوزائیدہ بچوں کی لاشیں برآمد کر لی گئی ہیں جس کی اطلاع اہل علاقہ کی جانب سے کی گئی تھی، لاشوں کو فوری طور پر ایمبولنس کے زریعے جناح اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ پولیس کے مطابق کہیں سے بچوں کی گمشدگی کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔ اہل علاقہ اور اطراف میں موجود اسپتالوں سے معلومات اکھٹی کی جا رہی ہیں۔

 

کراچی میں بچوں کے اغواء میں پولیس کی کارکردگی جائزہ لیا جارہا ہو یا نہیں مگرسیاست بھرپور دلچسپی دکھائی جارہی ہے، 26 ستمبر بروز بدھ بچوں کے اغواء کی وارداتوں پر اپوزیشن جماعتوں کا سندھ اسمبلی سے علامتی واک آؤٹ کیا۔  متحدہ اور  تحریک  انصاف اراکین کا کہنا تھا کہ اسٹریٹ کرائم  بڑھ رہے ہیں، بچوں کے اغوا پر خاموش نہیں رہیں گے۔    جماعت اسلامی  نے   گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت گمشدہ بچوں کی بازیابی، سپر ہائی وے سے ملنے والی بچے کی لاش کی تحقیقات اور  آئندہ اس طرح کے دلخراش واقعات کے سد باب کے لیے ٹھوس و عملی اقدامات کرے۔

 

بچوں کے اغوا اور قتل پر سیاست نہیں کرنا چاہیے بلکہ حکومت اس پر اقدامات کرے۔ سیکورٹی اداروں کو بھی عملی میدان میں  اترنا ہوگا۔اس کے علاوہ شہریوں کو بھی آنکھیں چار رکھنے کی ضرورت ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top