Saturday, October 24, 2020
Home Uncategorized پولیس پر عدم اعتماد، عوام خودانصافی بن گئے (ذیشان صدیقی)

پولیس پر عدم اعتماد، عوام خودانصافی بن گئے (ذیشان صدیقی)

Policeشہر میںٹارگٹ کلنگ، اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری، اسٹریٹ کرائم، ڈکیتی، گاڑیوں کی چھینا چھپٹی کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کے بعد 5 ستمبر 2013 کو وفاقی حکومت کی ہدایت پر آپریشن کاآغاز کیا گیا ۔ جس کوچلتے ہوئے کم و بیش ڈیڑھ برس کا عرصہ بیت چکا ہے، رینجرز و پولیس کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر کاروائیاں اور مقابلے تا حال جاری ہیں سرکاری اعداد و شمارے بتاتے ہیں کہ پولیس اور رینجرز نے ڈیڑھ برس کے دوران تقریبا 35 ہزار سے زائد ملزمان گرفتار کیے، جبکہ سینکڑوں ملزمان کو مقابلوں میں ہلاک کیا گیا، گرفتار اور ہلاک ہونے والے ملزمان میں کالعدم تنظیم کے اہم دہشت گرد، گینگ وارکمانڈرز، ڈکیت، اغواکار بھی شامل ہیں۔ کراچی پولیس کی جانب سے روز کارگردگی رپورٹ میڈیا کو جاری کی جاتی ہے جس میں گرفتار ملزمان کی تعداد اسلحہ کی برآمدگی کی تفصیلات کے ساتھ ملزمان کی اقسام بھی بتائی جاتی ہیں۔ جبکہ رینجرز کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر کارکردگی رپورٹ جاری کیے جانے کے بجائے صرف چند کارروائیوں کی تفصیلات وہ بھی ادھوری جاری کی جاتی ہیں، جن میں صرف ملزمان کی تعداد اور وابستگی بتائی جاتی ہے۔ پولیس اور رینجرز کی کاروائیوں اور اقدامات کے برعکس شہر میں ہر قسم کے جرائم تاحال ہو رہے ہیں اور ان کی وجہ سے شہریوں کا قانون نافذ کرنے والے ادروں پر سے اعتماد اٹھ گیا ہے پولیس کو ویسے ہی شہری اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتے کیونکہ پولیس اہلکار اپنی حرکتوں اور رشوت خوری میں مصروف رہتے ہیں اور شریف شہریوں کو بلاجواز تنگ کرنا ان کا محبوب مشغلہ بن گیا ہے۔ ساحل سمندر ہو یا اس کی جانب جانے والا کوئی بھی راستہ پولیس اہلکار انتہائی چوکس نظر آتے ہیںتاہم انکا نشانہ جرائم پیشہ لوگ نہیں صرف وہ افراد ہوتے ہیںجو تفریح کی غرض سے سمندر کنارے جاتے ہیں اور پولیس ان کا شکار با آسانی کرلیتی ہے۔ خیابان اتحاد ساحل سمندر کی جانب جانے والا وہ واحد اور آسان راستہ ہے جس کے ذریعے بنا تکلیف سیدھا سمندر کے کنارے پہنچا جائے، شوقین نوجوان یا جواری بھی اسی راستے کا انتخاب کرتے ہیںموٹر سایکل کو آلٹر کر کے ریس لگانا اب شوق کے بجائے جوا بن گیا ہے۔ پولیس پر عدم اعتماد کی وجہ سے اب شہر میں ایک نئی کیفیت نے بھی سر اٹھا لیا ہے۔ اسٹریٹ کرائم سے عاجز شہریوں نے پولیس کو بے بس دیکھ کر اسٹریٹ کرمنل سے خود ہی نمٹنے کا فیصلہ کر لیا اور شہر بھر میں روز ہی اسٹریٹ کرمنلز کو شہری اپنی جان پرکھیل کر پکڑنے میں مصروف ہیں اور بد ترین تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد پولیس کے حوالے کردیتے ہیں تاہم بات صرف اتنی ہوتی تو خیر تھی بات اب بہت دور نکل گئی ہے۔ سرکاری اعداد و شمارے بتاتے ہیں کہ رواں برس 5 ملزمان کو شہریوں نے پکڑنے کے بعد بد ترین تشدد کا نشانہ بنایا اور گولیاں مار کر ہلاک کر دیا، جبکہ پولیس کھڑی تماشہ دیکھتی رہی البتہ عزیز آباد میںپولیس نے 2 ملزمان کو شہریوں کو تشدد سے بچانے کی کوشش کی تو پولیس اہلکار بھی پٹے اور ایس ایچ او کی گاڑی کے شیشے بھی توڑ دیئے گئے، کورنگی میں شہریوں نے ڈاکوﺅں کو پکڑنے کے بعد تشدد کا نشانہ بنایا اور پیٹرول چھڑک کر آگ بھی لگادی اور دونوں کچھ ہی دیر بعد ہلاک ہوگئے۔

weapon1لانڈھی میں گھر میں گھسنے والے 2 ڈاکوﺅں کو اہل خانہ نے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔ شہریوں کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر ڈاکوﺅں کے پکڑے جانے یا تشدد کا نشانہ بنانے کے ساتھ گولیاں مارنے یا آگ لگانے کا کسی نے سنجیدگی سے تاحال نوٹس نہیں لیا ہے۔ جس کی وجہ سے شہریوں نے قانوں ہاتھ میں لینے کی روایت کو پروان چڑھانا شروع کر دیا اور اگر بروقت روک تھام نہ کی جائے تو ریاست اور حکومت کی رٹ کو چیلنج کرنے کا سبب بن جاتی ہے۔ جبکہ ایک حلقے کا یہ بھی کہنا ہے کہ پولیس کی نا اہلی کے باعث شہریوں کا تشدد کی جانب راغب ہونا اور سفاکیت کا عنصر پیدا ہونا لمحہ فکریہ ہے کیونکہ ایک عام شہری جو کہ قانون کی پاسداری پر ےقین رکھتا تھا وہ تشدد کی جانب راغب ہو اور پیٹرول چھڑک کر آگ بھی لگانا سفاکیت میں آجاتا ہے۔ کراچی کی تاریخ میں چند سال قبل رنچھوڑ لین میں 2 مبینہ ملزمان کو شہریوں نے بد ترین تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد پیٹرول چھڑک کر آگ لگا دی تھی تاہم ایک خوفناک عمل کے بعد کافی عرصے کے بعد اس قسم کا کوئی عمل سامنے نہیں آیا البتہ رواں برس اس میں ایک بار پھر اضافہ دیکھا گیا ہے۔ دوسری جانب ڈی جی رینجرز کی جانب سے جاری کی جانے والا بیان جس میں انہوں نے شہریوں کی ہمت کی تعریف کی تھی اس کے کئی معنی نکلتے ہیں کیا شہری قانون ہاتھ میں لینے کی عادت ڈال لیں یا قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی ذمہ داری احسن طریقے سے انجام دینا پسند کریں گے۔ سوچنے اور عمل کرنے کی بات یہ ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے بلا تفریق اور بنا دباﺅ کے اپنا کام کریں، شہریوں کو قانون ہاتھ میں لینے سے روکیں اور انکا اعتماد بہال کریں تاکہ جس کا جو کام ہے وہ کریں اور شہری قانون ہاتھ میں نہ لیں، بصورت دیگر دنیا کی کئی ریاستوں کی طرح باغی تحریک یا بغاوت اپنی جڑیں مضبوط نہ کر لے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular

نقلی وزیراعظم نے اپنی ناکامی کا اعتراف کرلیا، مراد علی شاہ

کراچی، وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ نااہل وزیراعظم نے اپنی ڈھائی سالہ ناکامی کا اعتراف کرلیا، مراد علی شاہ کا صحافیوں سے گفتگو...

رینجرز کی کارروائی،2 اسٹریٹ کرمنلز گرفتار

کراچی، سندھ رینجرز کی کارروائی 2 اسٹریٹ کرائم میں ملوث ملزمان گرفتار، ترجمان رینجرز کے مطابق گرفتار ملزمان کی شناخت عبدالمجید اور...

ملازمت کی مستقلی، نرسوں کا دوسرے روز بھی مظاہرہ

کراچی، ملازمت کی مستقلی اور دیگر مطالبات کی منظوری کےلئے نرسوں کا پریس کے کلب کے باہر احتجاج کا دوسرا روز،...

پی ایس ایل کے بقیہ میچز کی میزبانی کراچی کو مل گئی

،کراچی، کرکٹ کے دیوانوں کے لئے خوشخبری، پاکستان سپر لیگ کے بقیہ میچز کی میزبانی کراچی کے حوالے، لاہور میں اسموگ...