Saturday, October 31, 2020
Home خصوصی رپورٹس ہردوسرا گھرانہ کسی نہ کسی جرم کا شکار: سروے

ہردوسرا گھرانہ کسی نہ کسی جرم کا شکار: سروے

Crimeمعاشی تنگدستی، فرقہ واریت لسانیت ، عدوات اور لاقانونیت کے باعث  پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں رہائش پذیر ہر دوسرا گھرانہ کسی نہ کسی طرح کے جرم کا شکار ہو چکا ہے۔بی بی سی اردو کیلئے گیلپ پاکستان کے کراچی میں کروائے گئے سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کراچی شہر کی تقریباً نصف آبادی رہزنی، ڈکیتی یا چوری یا اسی نوعیت کے کسی نے کسی ناخوشگوار تجربے سے گزر چکی ہے۔ کراچی کے 18 ٹاؤنز میں 17 نومبر 2014 سے 27 نومبر 2014 کے درمیان ہونے والے اس سروے میں مختلف عمر، طبقے، قومیت، لسانی گروہوں اور پیشے سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے پوچھا گیا تھا کہ کیا کبھی انکے یا ان کے گھر میں رہنے والے کسی بھی فرد ساتھ جرم کی کوئی واردات ہوئی ہے؟جن جرائم کی فہرست ان افراد کے سامنے رکھی گئی ان میں راہزنی (راہ چلتے موبائل فون یا پرس وغیرہ کا چھینا جانا)، موٹر سائیکل یا گاڑی کا چھینا جانا، ڈکیتی، بھتے کی وصولی اور اغوا شامل ہے۔ کراچی میں رہنے والے 46 فیصد افراد نے کہا کہ وہ یا انکے گھر کا کوئی فرد اپنی زندگی میں کم از کم ایک بار اسٹریٹ کرائم کا شکار ہوا ہے جبکہ سروے میں شامل ہر چار میں سے ایک فرد نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر اس جرم کا نشانہ بن چکا ہے۔

اس سروے کے مطابق اسٹریٹ کرائمز کے لحاظ سے اورنگی ٹاؤن سرفہرست ہے جبکہ نیو کراچی میں رہنے والوں نے ان جرائم کا باقی شہر کی نسبت کم سامنا کیا۔ اورنگی ٹاؤن میں رہنے والے خاندانوں میں سے 65 فیصد کسی نہ کسی نوعیت کے جرم کا سامنا کر چکے ہیں جبکہ نیو کراچی میں سب سے کم تناسب یعنی 28 فیصد گھرانوں نے جرائم سے متاثر ہونے کا اعتراف کیا۔کراچی کا علاقہ لیاری انفرادی لحاظ سےسب سے خطرناک علاقے کے طور پر سامنے آیا ہے جہاں کی تقریباً نصف آبادی کبھی نہ کبھی لٹ چکی ہے۔ سروے میں شامل 43 فیصد افراد نے کہا کہ ان کے ساتھ ذاتی طور پر جرم کی واردات ہو چکی ہے۔ افراد کے ساتھ جرم کی وارداتوں کا سب سے کم تناسب نیو کراچی میں پایا گیا جہاں صرف 8 فیصد افراد نے تسلیم کیا کہ انہوں نے ذاتی طور پر جرم کی واردات کا سامنا کیا ہے۔ جن علاقوں میں رہنے والی نصف یا اس سے زائد آبادی زندگی میں کم از کم ایک بار کسی نہ کسی جرم کی واردات کا سامنا کر چکی ہے ان میں لیاری کے علاوہ کیماڑی، جمشید ٹاؤن، بلدیہ، اور لیاقت آباد شامل ہیں۔اسکے علاوہ ملیر، سائٹ، صدر، گڈاپ، بن قاسم، کورنگی، نارتھ ناظم آباد اور گلبرگ میں جرائم کا تناسب 40 فیصد کے قریب ہے۔ سروے کے مطابق گلشن اقبال، لانڈھی اور شاہ فیصل کالونی ایسے علاقے ہیں جہاں 30 فیصد خاندان جرائم کا سامنا کر چکے ہیں۔ کراچی میں موبائل فون چھینا جانا سب سے زیادہ پیش آنے والا جرم بن چکا ہے جسکے بعد پرس چھینے جانے اور پھر موٹر سائیکل چھیننے کا نمبر آتا ہے۔ کراچی میں رہنے والے 35 فیصد افراد ایسے ہیں جن کا فون کبھی نہ کبھی چھینا جا چکا ہے۔

karachi-crimesموبائل فون چھیننے کی سب سے زیادہ وارداتیں بلدیہ ٹاؤن میں پیش آتی ہیں جہاں آباد گھرانوں میں سے نصف کسی رہزن کے ہاتھوں، کبھی نہ کبھی اپنے فون سے محروم ہو چکے ہیں۔تناسب کے لحاظ سے شہر کے باقی علاقوں کی نسبت موبائل فون چھینے جانے کی سب سے کم وارداتیں نیو کراچی میں ریکارڈ کی گئیں جہاں رہنے والے ایک چوتھائی گھرانے اپنے موبائل فون سے محروم ہوئے۔کراچی میں 14 فیصد خاندان ایسے ہیں جنکے کسی نہ کسی فرد کا فون ایک سے زیادہ مرتبہ چھینا گیا ہے۔ سروے میں بتایا گیا ہے کہ راہ چلتے وارداتیں کرنے والے افراد اس خاندان کے لوگوں کو زیادہ شکار بناتے ہیں جو رہن سہن سے امیر دکھائی دیں۔ سروے میں شامل افراد کے مالی پس منظر کا جائزہ ثابت کرتا ہے کہ امیر طبقے کے ساتھ اسٹریٹ کرائمز کی وارداتیں سب سے زیادہ اور متوسط اور کم آمدن والے طبقے کے ساتھ کم و بیش ایک جتنی ہی پیش آتی ہیں۔ اسٹریٹ کرائمز کا شکار ہونے والے گھرانوں کی بڑی تعداد، یعنی 63 فیصد امیر طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ اسی طرح موبائل فون بھی انہی لوگوں کے زیادہ چھینے جاتے ہیں جو حلیے اور رہن سہن سے ہی امیر دکھائی دیں۔ سروے کے مطابق گجراتی بولنے والے افراد کے اسٹریٹ کرائمز کی وارداتوں کے شکار ہونے کے واقعات زیادہ ہیں۔

سروے میں شامل افراد میں سے 32 فیصد ایسے گجراتی بولنے والے تھے جو کسی نہ کسی شکل میں جرم کا سامنا کر چکے ہیں۔ دوسرا نمبر سرائیکی بولنے والوں کا ہے جن کے نشانہ بننے کا تناسب 20 فیصد ہے۔ لیکن اگر گھرانوں کی بات کی جائے تو پنجابی اور سرائیکی بولنے والے خاندان کے ساتھ واردات کا تناسب سب سے زیادہ ہے۔ سروے میں شامل 48 فیصد پنجابی اور سرائیکی افراد نے کہا کہ انکے گھر کا کوئی نہ کوئی فرد ان وارداتوں کا شکار ہو چکا ہے۔ پشتو بولنے والے گھرانوں میں یہ تناسب سب سے کم 32 فیصد ہے۔ گجراتی بولنے والی خواتین پرس چھیننے والوں کا خاص نشانہ ہیں جنکے ساتھ اس واردات کا تناسب سب سے زیادہ ہے جبکہ انکے مقابلے میں سندھی بولنے والی خواتین کے ساتھ پرس چھیننے کی وارداتیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اسی طرح بھتہ خوری اور اغوا برائے تاوان کی وارداتیں پنجابی خاندانوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے ساتھ سب سے زیادہ ہوتی ہیں۔ کراچی میں رہنے والے مردوں کے مقابلے میں راہ چلتی خواتین کو لوٹنے کی وارداتیں بہت کم ہوتی ہیں۔

سروے بتاتا ہے کہ صرف 14 فیصد خواتین کے ساتھ موبائل فون چھینے جانے کی واردات ہوئی جبکہ مردوں میں یہ تناسب 31 فیصد ہے۔ اسی طرح عام تاثر کے برعکس مردوں کے پرس عورتوں سے زیادہ تعداد میں چھینے جاتے ہیں۔ عورتوں اور مردوں میں یہ تناسب دو اور دس کا ہے۔ بھتے کی واردات دن کے وقت ہونے کا تناسب سورج ڈھلنے کے بعد کے وقت سے کچھ زیادہ ہے۔ عمومی تاثر کے برعکس جرائم کی بیشتر وارداتیں معمولی فرق کے ساتھ دن کے اوقات میں بھی اتنی ہی ہوتی ہیں جتنی اندھیرا چھا جانے کے بعد۔ البتہ بعض وارداتیں ایسی ہیں جو دن کے وقت میں زیادہ دیکھنے میں آئی ہیں۔

سروے میں شامل افراد میں سے بیشتر نے کہا کہ انکی گاڑی دن کے وقت چھینی گئی تھی جبکہ گاڑی چھینے جانے کا سب سے زیادہ امکان صبح سویرے ہوتا ہے جب لوگ دفتر جا رہے ہوتے ہیں۔ تقریباً 42 فیصد افراد نے کہا کہ انکی گاڑی دوپہر بارہ بجے سے پہلے چھینی گئی تھی۔ خواتین کے پرس چھیننے کی کارروائی سہ پہر کے وقت سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ جن خواتین کے پرس چھینے گئے ان میں تقریباً نصف کے ساتھ یہ واقعہ دن 12 بجے سےسورج غروب ہونے کے درمیان پیش آیا۔ بھتے کی واردات دن کے وقت ہونے کا تناسب سورج ڈھلنے کے بعد کے وقت سے کچھ زیادہ ہے۔ یہ واردات عموماً دوپہر کے بعد اور رات سے پہلے پیش آتی ہے۔ گھروں میں ڈکیتی صبح کے وقت اور رات گئے زیادہ ہوتی ہیں۔ اسٹریٹ کرائمز کی وارداتیں کراچی میں باقی ملک کے شہروں کی نسبت زیادہ ہوتی ہیں۔ اسی نوعیت کے سروے کے ذریعے باقی ملک سے اکٹھے کیے گئے اعدادوشمار اس عمومی تاثر کی تصدیق کرتے ہیں کہ اسٹریٹ کرائمز کی وارداتیں کراچی میں باقی ملک کے شہروں کی نسبت زیادہ ہوتی ہیں۔ مثلاً ملک کے باقی شہروں کی نسبت کراچی میں موبائل فون چھیننے کے دوگنا زیادہ واقعات پیش آتے ہیں۔ اسی طرح موٹر سائیکل بھی کراچی ہی میں سب سے زیادہ چھینے جاتے ہیں۔ لیکن بعض جرائم ایسے ہیں جن میں ملک کے دیگر شہر کراچی سے آگے نکل چکے ہیں۔ مثلاً ڈکیتی ایسا جرم ہے جو کراچی کی نسبتاً باقی ملک میں زیادہ دیکھا گیا ہے۔ اسی طرح خواتین سے راہ چلتے زیورات چھینے جانے کی وارداتیں بھی کراچی سے زیادہ ملک کے دیگر شہروں میں پیش آتی ہیں۔

1 COMMENT

  1. پاکستان دے متفقہ ١٩٧٣ دے آئین دی اٹھارویں متفقہ آئینی ترمیم دے سولاں سال د ی مفت تعلیم تے عمل موجودہ نظام وچ ممکن کائنی۔ تعلیم عام کرنڑ دی واحد صورت صرف اے ھے جو:
    سکولاں کالجاں وچ سرائیکی تے پشتو کوں سندھی دا متبادل لازمی مضمون بݨاؤ۔ سارے سکول، کالج تے مدرسے صرف ترائے قسماں دے ھوون۔
    سرائیکی میڈیم،
    پشتومیڈیم،
    سندھی میڈیم۔
    صرف ھک غیر ملکی زبان ناںویں کنوں شامل نصاب کرو

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular

ہم سب کو تھوڑی سی شرم ہونی چاہے,وسیم اکرم کراچی والوں سے سخت ناراض

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم ساحل کی گندگی دیکھنے کے بعد ایک بار پھر عوام سے ناراض ہو گئے۔وسیم...

سندھ میں اربوں روپے کی کرپشن پر نیب کا بڑا اقدام

صوبہ سندھ میں اربوں روپے کی کرپشن پر قومی احتساب بیورو (نیب) نے بڑا ایکشن لے لیا۔نیب حکام کا کہنا ہے کہ...

مزار قائدکی بے حرمتی کا کیس کیپٹن (ر) صفدر کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم

کراچی: عدالت نے مزار قائد پر نعرے بازی کے کیس میں کیپٹن (ر) صفدر کو آئندہ سماعت پر پیش ہونے کا حکم...

سول ایوی ایشن نے نارتھ سیکٹر لاہور ریجن میں ضم کردیا

کراچی :سول ایوی ایشن نے کراچی کے نارتھ سیکٹر فلائٹ انفارمیشن ریجن کو لاہور ریجن میں ضم کر دیا جو آج سے...