Monday, October 26, 2020
Home خواتین کردار کشی کے بجائے خوبیوں پر نظر رکھیں فرحین ریاض

کردار کشی کے بجائے خوبیوں پر نظر رکھیں فرحین ریاض

جتنے بھی لفظ ہیں مہکتے گلاب ہیں۔۔۔۔۔ لہجے کے فرق سے انہیں تلوار مت بناؤ
سقراط نے ایک بار کہا تھا کہ ’’اچھے دماغ کے لوگ خیالات پر تنقید کرتے ہیں، جبکہ کمزور دماغ کے لوگ، لوگوں پر تنقید کرتے ہیں۔‘‘ لگتا ہے سقراط کو شایدہمارے بارے میں اس وقت ضرور کوئی الہام ہوا ہوگا، جس پر انہوں نے ایک طویل عرصہ پہلے آج کے معاشرے کی اس خوبی سے متعلق پیشن گوئی کر دی تھی۔خواتین کی سخت زبان اور تنقید ی رویہ ہمیشہ سے موضوع بحث رہا ہے ساس کی بہو پر تنقید، نند کی بھاوج پر اور دیورانی کی جٹھانی پر تنقید کا سلسلہ کوئی نیا نہیں خاندان بھر کی خواتین ایک دوسرے کی خامیوں پر کڑی نگاہ جمائے موقع کی تلاش میں رہتی ہیں تمام ظاہری اور باطنی پہلو تنقید کا نشانہ بنتے ہیں یہ ایک بیماری کی طرح خواتین کے حواسوں پر سوار ہوگیا ہے دراصل دوسروں کو تنقید کا نشانہ اس وقت بنایا جاتا ہے جب انسان اپنے بارے میں کسی خوش فہمی کا شکار ہو یہی وجہ ہے کہ بعض تنقیدیں فقط گمان ہی کا شاخسانہ ہوتی ہیں خواتین کی یہ بیماری مختلف رشتوں میں گھمبیر مسائل پیدا کرتی ہیں مشترکہ خاندانی نظام کے لیے تو یہ ایک زہر قاتل کی حیثیت رکھتی ہے ہر وقت اک دوسرے کی خامی پر نظر رکھی جائے تو گھر کے ماحول پر اس کا اثر اور ایک تناؤ کی فضا قائم ہوجاتی ہے اگر ہم یہ سوچ کر کسی پر تنقید کرتے ہیں کہ اس طرح ہم براہ راست اس میں بہتری پیدا کرسکیں گے تو یاد رکھیں ایسا ہر بار ممکن نہیں جیسے آپ کو کسی خاتون کے لباس پر اعتراض ہے اور آپ اس لباس کی خامیاں بتا کر اُسے درست کرنا چاہیں تو یہ خاصامشکل کام ہے ایک مشہور کہاوت ہے کہ اندھے کو اندھا مت کہو بلکہ دھیرے سے پوچھو کہ آپ کی آنکھیں کیسے گئیں بالکل اسی طرح لہجے اور انداز کو بدلنے کی ضرورت ہے ایک دوسرے کی غلطیوں اور کوتاہیوں پر ان کے تدارک کے بجائے شخصیت کی کردار کشی اور تذلیل نہ کریں
اچھا سوچنا اور اچھائی پر نظر رکھنا مزاج میں بھی ایک مسرور کن احساس پیدا کرتا ہے اپنے اندراور باہر کے ماحول کو بہتر کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہر چیز کا روشن پہلوؤں کو اہمیت دی جائے اور لوگوں پر تنقیدی نگاہ رکھنے کے بجائے ان کے اچھے رویوں کو سراہا جائے اور ان کی تعریف کی جائے خوش کلامی اختیار کی جائے جب کوئی چیز خامیوں سے پاک نہیں پھر تنقید کس کام کی ایک دوسرے کی اچھائیوں پر نظر رکھی جائے تو خامیاں خود بخود چھپ جاتی ہیں دراصل ہمارے مزاج پر جب تنقیدی سوچ کا غلبہ ہوجاتا ہے تو تنقید اپنے نقط آغاز سے ہی تلخی کو جنم دیتی ہے، مگر مسلسل یا پے در پے تنقید حرارت کو بڑھا کر مخالف کو رد عمل پر مجبور کر دیتی ہے، جس سے فریقین کے مابین جھگڑے کی شروعات ہوتی ہے، جو ہوتے ہوتے جارحانہ انداز اختیار کر لیتا ہے۔ اس صورت میں نہ صرف فریقین، بلکہ ان سے جڑے دیگر رشتے دار بھی اس دانستہ جھگڑے کی لپیٹ میں آجاتے ہیں، جس سے تمام لوگ ایک نفسیاتی الجھن سے دوچار ہو جاتے ہیں۔ تنقید بظاہر کوئی بری بات نہیں ہے۔ اگر تعمیری اور مثبت انداز میں کی جائے تو اصلاح کا سبب بنتی ہے، جبکہ بے جا اور بے محل تنقید برائے تنقید، بجائے اصلاح کے بگاڑ پیدا کرتی ہے۔ زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے ہر شخص میں تعمیری اور تخریبی پہلو ضرور ہوتے ہیں۔ لہٰذا ایک دوسرے کی غلطیوں اور کوتاہیوں پر ان کے تدارک کے بجائے شخصیت کی کردار کشی اور تذلیل کے لیے ساری اخلاقی حدیں پار کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جاتی۔ ایسا رویہ اختیار کرنے سے کمزوریاں تو وہیں رہ جاتی ہیں، جبکہ فریقین کے تندو تیز جملوں کے باعث غیر اخلاقی جنگ کی ایک کیفیت ضرور پیدا ہو جاتی ہے۔
رشتے کی نوعیت چاہے کچھ بھی ہو محض دوسروں کی خامیوں پر نظر رکھی جائے تو دلوں میں فرق پیدا ہوجاتے ہیں رویوں میں ذراسی تبدیلی سارے مسائل، سارے معاملات سدھار سکتی ہے یہ کچھ مشکل کام نہیں اگر کسی کو یہ کہا جائے کہ اس کی ذات میں بہت سی خوبیاں ہیں اور چند کی نشاندہی کر دی جائے تو مخالف جھٹ سے اس بات کا اعتراف کرے گا کہ نہیں اس میں فلاں خامی بھی ہے لیکن یہ ہماری بد قسمتی ہے کہ ہم اس مثبت رویے کے بجائے ہر بار ناقدانہ انداز اپناتے ہیں معاشرے میں فقط خامیوں اور کمزوریوں پر نگاہ رکھی جاتی ہے تو دشواریاں پیدا ہوتی ہیں اور ایک دوسرے کے لیے ناپسندیدگی کا گماں ہوتا ہے بات خواہ چار دیواری کی ہو، خاندان کی یا ملازمت اور دفتری ماحول کی ہم میں سے بہت سارے لوگ سمجھتے ہیں کہ کسی کی تعریف اس کے سامنے نہیں کرنی چاہئیے درحقیقت اگر کسی کے عمل کو پسند کرتے ہوئے سراہا جائے تو کسی کے عاجزانہ مزاج سے متاثر ہو کر یہ کہا جائے کہ اس کا یہ رویہ انتہائی متاثر کن اور قابلِ قدر ہے تو یہ چیزیں ایک طرح کی خوصلہ افزائی کا باعث ثابت ہوتی ہیں، بلکہ انہیں مزید اچھے رویوں اور اچھی عادات اپنانے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں بلکہ انہیں مزید اچھے رویوں اور اچھی عادات اپنا نے میں بھی معاونت کرتی ہیں اس کا مقصد یہ نہیں کہ ہر شخص میں صرف اچھائیاں اور خوبیاں ہی ہوتی ہیں اور برائیاں نہیں ایسا نہیں کہ لوگوں اور ماحول میں موجود خامیوں کو یکسر نظر انداز کردیا جائے اور انہیں دور کرنے کی کوشش ہی نہیں کہ جائے مقصد اتنا ہے کہ بات کا انداز بدل جائے تاکہ مزاج میں تلخی اور ماحول میں تناؤ پیدا کئے بغیر اصلاح کی جاسکے.
riazfarheen1231@gmail.com

1 COMMENT

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular

کراچی مسکن دھماکا, جاں بحق افراد کی تعداد 7 ہوگئی

کراچی: گلشن اقبال میں مسکن چورنگی کے قريب عمارت میں دھماکے کا ايک اور زخمی دوران علاج دم توڑ گیا جس کے...

سندھ میں کرونا کے نئے کیسز رپورٹ، ایک مریض جاں بحق

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کرونا سے متعلق اپنے وڈیو بیان مین کہا کہ سندھ میں 24 گھنٹے کے دوران...

نیب نے سندھ حکومت کو 224 ملین سے زائد کی رقم حوالے کر دی

چئیرمین نیب کی زیر صدارت اجلاس منعقد ہوا جس میں 22 کروڑ روپے سے زائد کی رقم چیف سیکرٹری سندھ کے حوالے...

کراچی میں بڑے ٹینکرز پر پابندی ڈی آئی جی ٹریفک کا ایس ایس پیز کو خط

کراچی:کراچی میں بڑے ٹینکرز کی انٹری بند، ڈی آئی جی ٹریفک نے تمام بڑے ٹینکرز پر پابندی کاحکم نامہ جاری کردیا، ڈی...