Friday, October 23, 2020
Home خصوصی رپورٹس سی ٹی ڈی کراچی کا حیرت انگیز کارنامہ (خصوصی رپورٹ)

سی ٹی ڈی کراچی کا حیرت انگیز کارنامہ (خصوصی رپورٹ)

sindh policeیوسف رئیس تاجر جو کہ چند روز قبل امریکہ سے واپس پاکستان آئے تھے۔ اسکیم 33 میں ان کی خاندانی 4 اکیڑ اراضی تھی جس پر قبضہ ہو گیا تھا۔ جو کہ ہائیکورٹ کے ذریعے دو تین روز قبل قبضہ چھڑوا لیا گیا تھا۔ اس پر جو مبینہ طور پر اطلاعات آئیں کہ جن سے یہ قبضہ چھڑایا گیا تھا انہوں نے سی ٹی ڈی سے بات کر کے نرسری کے قریب پی ای سی ایچ ایس بلاک 6 میں ان کے گھر پر چھاپہ ڈلوایا اور ان کے سیکورٹی گارڈز سے اسلحہ چھین کر جمع کر لیا اور اسلحہ لائسنس یافتہ ہونے کا بتانے کے باوجود تمام ہتھیار اپنے ساتھ لے گئے۔ یوسف کے مطابق پولیس اہلکاروں نے انہیں ہراساں کیا اور گھر میں رنگین فائل کو سرگرمی سے تلاش کرتے رہے اور سنگین دھمکیاں دے کر وہ فائل ہتھیا لی اور انہیں آنکھوں پر پٹی باندھ کر سی ٹی ڈی گارڈن کے تفتیشی مرکز لے گئے۔ اس دوران ان کی آنکھوں پر مسلسل پٹی باندھے رکھی اور انہیں ہراساں کیا جاتا رہا۔ لہٰذا بعد میں اہل خانہ اور دوستوں کی مداخلت پر پولیس حکام نے واقعہ کا نوٹس لیا اور ان کی فوری رہائی عمل میں آئی۔ انہیں فائل بھی واپس کر دی گئی اور لائسنس چیک کرنے کے بعد اسلحہ بھی ان کے حوالے کر دیا گیا۔
واقعہ کا پس منظر بتاتے ہوئے یوسف کا کہنا ہے کہ انہوں نے حال ہی میں عدالتی چارہ جوئی کے بعد کئی ایکڑ اراضی کا حق ملکیت حاصل کیا ہے اور اراضی واگذار بھی کرائی ہے۔ ان کا شبہ ہے کہ یہ تمام کارروائی مبینہ طور پر مخالف فریق کے ایماء پر کی گئی۔ یوسف رئیس ایڈیشنل آئی جی ثناء اللہ عباسی کے پاس پیش ہوئے اور واقعہ کی تفصیلات بتائیں۔ اس شکایت پر ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ثناء اللہ عباسی نے ایس ایس پی سی ٹی ڈی عمر
1
شاہد حامد کو واقعہ کا تحقیقاتی افسر مقرر کیا اور یوسف رئیس کو اپنا بیان ایس ایس پی کے پاس ریکارڈ کرانے کی ہدایت کی۔
اس واقعہ کی شکایت ملنے پر سی ٹی ڈی گارڈن کے انچارج انسپکٹر علی رضا، جعلی کارروائی کرنے والے پولیس افسر ممتاز مہر سمیت سیل کے تمام 72 اہلکاروں و افسروں کو پولیس ہیڈ آفس طلب کر کے سرزنش کی۔ تمام اہلکاروں کی شناخت پریڈ بھی کرائی۔ ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی نے پولیس اہلکاروں کو وارننگ دی کہ وہ کسی بھی شہری کے خلاف کارروائی سے قبل اس کے خلاف ملنے والی شکایت کی تصدیق کریں اور شہریوں کی عزت نفس مجروع نہ ہونے دیں۔ ایڈیشنل آئی جی ثناء اللہ عباسی نے کہا کہ انہوں نے پولیس اور خاص طور پر سی ٹی ڈی میں موجود کالی بھیڑوں کے خلاف ڈنڈا اٹھا لیا ہے۔ وہ اچھا کام کرنے والے پولیس افسران اور اہلکاروں کو انعام و اکرام سے نوازتے ہیں لیکن پولیس کو بدنام کرنے اور شہریوں کو تنگ کرنے والے پولیس والوں کو اس شعبہ میں برداشت نہیں کریں گے۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ سی ٹی ڈی کے خلاف کوئی بھی شکایت انہیں تحریری طور پر بھیجیں انہیں انصاف ملے گا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular

حقوق کراچی ریفرنڈم، اختتامی گنتی کا عمل شروع

کراچی، جماعت اسلامی کا حقوق کراچی ریفرنڈم اختتامی مراحل میں داخل، 16 اکتوبر سے شروع ہونے والا حقوق کراچی ریفرنڈم 21 اکتوبر...

12 ربیع الاول، عبدالحق قادری کی احتجاج ملتوی کرنے کی اپیل

کراچی ، شاہ عبدالحق قادری نے ماہ ربیع الاول میں سیاسی جماعتوں سے احتجاجی پروگرام ملتوی کرنے کی درخواست کردی،...

ایف بی ایریا ،45 سالہ شخص نے خودکشی کرلی

کراچی : ایف بی ایریا, بلاک 13, 45 سالہ محمد انور نے خود کو گولی مار کر زندگی کا خاتمہ...

ٹریفک پولیس کا یوٹیوب چینل لانچ کرنے کا فیصلہ

کراچی ، ٹریفک پولیس کا ٹریفک کی روانی کےلئے یوٹیوب چینل لانچ کرنے کا فیصلہ، ڈی آئی جی ٹریفک جاوید مہرکا کراچی...