Tuesday, January 26, 2021
"]
- Advertisment -

مقبول ترین

کورنگی میں غیرقانونی عمارت،ایس بی سی اے بے بس

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے کورنگی میں غیرقانونی عمارت کو گرانے کاکام اچانک روک دیا، علاقہ مکینوں کے مطابق ایس بی سی اے کے...

پاکستانی بیٹنگ لائن پھر لڑکھڑاگئی،33 رنز پر 4 آئوٹ

 کراچی ٹیسٹ کی پہلی اننگ میں قومی بیٹنگ لائن لڑکھڑاگئی، 33 رنز پر 4 بلے باز پویلین لوٹ گئے، جنوبی افریقہ کی پہلی اننگ...

کراچی ٹیسٹ، جنوبی افریقہ کی ٹیم 220 رنز پر ڈھیر

 جنوبی افریقہ کو ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ مہنگا پڑگیا، پوری ٹیم 220 رنز پر ڈھیر، ذرائع کے مطابق جنوبی افریقن...

سندھ کابینہ کا اجلاس آج ہوگا، صدارت وزیراعلیٰ کریں گے

سندھ کابینہ کا اجلاس کل بروز منگل کو ہوگا، اجلاس کی صدارت وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کرینگے، ذرائع کےمطابق اجلاس میں بلدیاتی قوانین میں...

دیس نہیں پر دیس (حافظ محمد زاہد)

ایک انسان جب کسی دوسرے ملک میں روزگار کے لئے جاتا ہے تو اس کی کوشش ہوتی ہے کہ وہاں وہ خوب محنت کرے اورزیادہ سے زیادہ مال کمائے۔ وہ وہاں جو مال کماتا ہے تو اسے وہیں انوسٹ نہیں کرتا بلکہ اپنے دیس بھیجتا رہتا ہے، تا کہ جب وہ اپنے دیس واپس جائے تو اپنے بھیجے ہوئے مال کے ذریعے عیش و عشرت والی زندگی نہ سہی لیکن کم از کم عزت اور سکون والی زندگی تو گزار سکے۔وہ وہاں کئی سال رہنے کے بعد بھی اس اجنبی ملک کو اپنا ”دیس “نہیں سمجھتا۔ اس لیے کہ وہ جانتا ہے کہ بالآخر اُسے اپنے آبائی دیس واپس جانا ہے۔
یہی حیثیت دنیا اور آخرت کی بھی ہے کہ یہ دنیا ہمارے لئے دیس نہیں، پردیس ہے ۔ہمارادیس تو وہ آخرت کی نہ ختم ہونے والی زندگی ہے جہاں اس دنیا میں کمائے ہوئے اعمال کے سبب ہماری کامیابی اور ناکامی کے فیصلے ہوں گے۔ہم اس دنیا میں جتنے سال مرضی گزار لیں، لیکن بالآخر ہمیںیہاں سے جانا ہی ہے۔ہمیں چاہیے کہ ہم اس پردیس میں رہتے ہوئے اپنے دیس کے لئے زیادہ سے زیادہ نیکیاں کمائیں اور انہیں اپنے دیس کے لئے ذخیرہ کرتے رہیں تاکہ جب ہم واپس اپنے دیس جائیں تو وہاں ہمارے پاس اعمال کا کم ازکم اتنا ذخیرہ توہو کہ جس سے ہم اپنے رب کو راضی کر سکیںاور کامیابی ہمارے قدم چومے۔
قرآن پاک کی بے شمار آیات ایسی ہیں جن میں اس دنیا کی بے ثباتی اور آخرت کی ابدیت کو بیان کیا گیا ہے۔ مثلاسورة المو¿من میں مو¿من آل فرعون کی تقریر نقل کی گئی ہے، جس میں اس نے آل فرعون کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:”اے میری قوم !یہ حیاتِ دنیا ایک متاعِ فانی ہے اور ہمیشگی کا گھر تو آخرت ہی ہے۔“
ہمارے آقا محمد عربی ﷺ (جو قرآن کی عملی تفسیر ہیں)نے اس دنیا کی بے ثباتی کو تواتر سے بیان کیا اور اپنے صحابہ کو اس بارے میں اتنی نصیحتیں اور وصیتیں کیں کہ ان کے دلوںسے دنیا کی محبت جاتی رہی اورپھر ان کی ساری محنت اور جدوجہد صرف اور صرف آخرت کے لئے رہ گئی۔نبی کریم ﷺ نے ایک دفعہ حضرت عبد اللہ بن عمر iکے کندھے کو پکڑ کر فرمایا:
” دنیا میں ایسے رہو گویا پردیس میں ہو یا (گویا تم) ایک راہ گیر ہو۔“(صحیح بخاری)
اس حدیث کے آخر میں حضرت عبداللہ بن عمرi کایہ قول بھی نقل کیا گیا ہے کہ نبی کریم ﷺ کی اس نصیحت اور وصیت کے بعد وہ کہا کرتے تھے:
”(اس دنیا میں)کوئی شام مل جائے تو صبح کا انتظار مت کرو اور صبح مل جائے تو شام کی آس مت رکھو۔ صحت میں بیماری کا بندوبست کرلو اور زندگی میں موت کا۔“
نبی کریم ﷺ کی ان وصیتوں کی عملی تفسیر ”فقراءصحابہj“ہیں جنہوں نے اس دنیا کے مال و متاع کے ذخیرہ کرنے کو اپنے اوپر ممنوع قرار دے دیا۔ مثلاً ایک آدمی حضرت ابوذر hکے ہاں آیا اور گھر میں چاروں طرف نگاہ دوڑائی تو ابوذر hسے پوچھنے لگا: آپ کا سامان کہاں ہے؟ ابوذر کہنے لگے: ہم نے دراصل ایک دوسرا گھر لے لیا ہے اور کچھ ہی دیر میں وہاں منتقل ہو رہے ہیں۔ آدمی نے پھر کہاکہ جب تک آپ یہاں ہیں آپ کا سامان یہاں ہونا چاہئے۔ ابوذر فرمانے لگے: مالک مکان معلوم نہیں کب ہمیں یہاں سے نکال دے۔
اسی طرح اولیاءاللہ نے بھی اپنے پیروو¿ں کو اس دنیا کو پردیس جانتے ہوئے اس میں مسافر کی طرح رہنے کی ہدایات کی ہیں ۔مثلاحسن بصریm فرماتے ہیں:
”مومن کے لئے دنیا پردیس ہے۔ یہاں اسے کم درجہ ملے تو اسے اس پر ہائے دہائی کی کیا ضرورت‘ یہاں بلند درجہ پانے کے لئے دنیا والوں کے ساتھ دوڑ لگانے کی اسے کیا حاجت؟ لوگ یہاں کسی اور فکر میں رہتے ہیں اور یہ کسی اور فکر میں۔“
یہ دنیا کی زندگی ہمارے لئے ایک امتحان گاہ سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔سورة الملک میں زندگی اور موت کی تخلیق کا مقصد واضح کرتے ہوئے اللہ نے فرمایا:
”(اللہ ہی وہ ذات ہے)جس نے پیدا کیا موت اور زندگی کو، تا کہ تمہیں آزمائے کہ کون نیک عمل کرتاہے۔“
جس طرح عام دستور ہے کہ امتحانی پرچے میں ایک وقت مقرر ہوتا ہے اوراس وقت مقررہ کے ختم ہونے پر پرچہ لے لیا جاتا ہے اور ممتحن پرچہ چیک کرکے امیدوار کے نتیجے کا اعلان کرتا ہے۔ بالکل اسی طرح یہ زندگی بھی ایک امتحان گاہ ہے۔اس میں بھی ایک وقت مقرر ہے اور وقت مقررہ کے بعد انسان سے پرچہ لے لیا جائے گا اور پھر اللہ تعالیٰ پرچہ(اعمال نامہ)کو چیک کرے گا اور پھر انسان کی کامیابی یا ناکامی کا اعلان کیا جائے گا۔بس فرق اتنا ہے کہ اگر کوئی انسان دنیا میں ایک دفعہ ناکام ہو گیا تو اس کے پاس دوبارہ امتحان دینے کا موقع موجود ہوتا ہے جبکہ زندگی کے امتحان میں ناکامی کے بعد دوسرا کوئی موقع انسان کو نہیں ملے گا۔
الغرض جب یہ دنیا ایک مو¿من کے لئے دیس کی حیثیت نہیں رکھتی اورمحض ایک امتحان گاہ ہے تو پھر ہمیں چاہیے کہ نبی کریم ﷺ کی حضرت عبد اللہ بن عمرiکو کی گئی وصیت کے مطابق دنیا میں ایک مسافر کی طرح رہیں یا ایک پردیسی کی طرح (کیونکہ ان دونوں کو پتا ہوتا ہے کہ ہمارا قیام یہاں کچھ وقت اور کچھ مدت کے لئے ہے اور ہمیں ہر صورت میں واپس جانا ہے)اور ہر لمحہ اپنی آخرت کی فکر کرتے رہیں تاکہ ابدی زندگی میں کامیابی حاصل ہوسکے۔اللہ تعالی ہم سب کو اس دنیا کو دیس کے بجائے پردیس سمجھنے کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین یارب العالمین!

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Open chat