Friday, November 27, 2020
- Advertisment -

مقبول ترین

مہندی کے کارخانے میں آتشزدگی

اورنگی ٹاؤن 4 نمبر کے قریب مہندی بنانے والے کارخانے میں آتشزدگی، فائر بریگڈ کی 3 گاڑیوں نے...

ضلع وسطی کے مزید علاقوں میں اسمارٹ لاک ڈاؤن

ضلع وسطی کے مزید علاقوں میں اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ،  گلبرک، نارتھ ناظم آباد، لیاقت آباد، نارتھ کراچی...

ڈیفنس فیز4 میں مُبینہ پولیس مقابلہ

ڈیفنس فیز 4 میں امام بارگاہ کے قریب مُبینہ پولیس مقابلہ، پولیس اور ڈاکوؤں کے مابین فائرنگ کا...

ملٹری ٹیلی پیتھی، فوجیوں کا دماغ پڑھا جاسکے گا

امریکی فوج کا تحقیق ادارہ ’’آرمی ریسرچ آفس‘‘ (اے آر او) آج کل ایک ایسے اچھوتے منصوبے پر...

دعوۃ اکیڈمی میں فکرشاہ ولی اللہ پرخصوصی نشست

25-1-2018Dکراچی، دعوة اکیڈمی، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے تحت ریجنل دعوة سینٹر احسن آباد کراچی میں ایک روزہ خصوصی نشست بعنوان ”فکر شاہ ولی اللہ سے استفادہ عصر حاضر میں“ کا انعقاد کیا گیا، جس سے معروف عالم دین مولانا زاہدالراشدی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں مغرب کو اسلام سے روشناس کرانے کے لیے شاہ ولی اللہ کے اسلوب کو اپنانے کی ضرورت ہے۔ شاہ ولی اللہ نے اپنے وقت کے تقاضوں اور مستقبل کے خدشات کو محسوس کرتے ہوئے مسائل کا حل پیش کرنے کی کوشش کی تھی۔ انہوں نے مستقبل کی فکری ضروریات کو بھانپ لیا تھا۔ شاہ ولی اللہ کی جدوجہد سیاسی، تہذیبی، علمی و فکری دائروں کا احاطہ کرتی ہے۔ انہوں نے علوم کو شریعت کے اصل ماخذ سے جوڑتے ہوئے اجتہاد کے ذریعے فقہ میں جمود کی کیفیت ختم کی۔ آج اسلام کا مطالعہ بطور نظام حیات کے کرنا چاہیے۔ جدید فلسفے کے تناظر میں شرح عقائد کی دوسری جلد لکھنے کی ضرورت پیدا ہوگئی ہے لیکن مشکل یہ ہے کہ تین سو سال بعد بھی شاہ ولی اللہ کا ردیف کوئی نہیں آیا۔ ایک روزہ نشست سے ریجنل دعوة سنیٹر سندھ کے انچارج ڈاکٹر سید عزیز الرحمن نے بھی خطاب کیا۔ نشست میں طلبہ، اساتذہ و اہل علم حضرات بڑی تعداد میں شریک تھے۔ مولانا زاہدالراشدی نے خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شاہ ولی اللہ کی کاوشوں کا ایک دائرہ اس وقت کا نظام تعلیم تھا۔ انہوں نے مسائل کے ادراک کے لیے قرآن و حدیث کی طرف رجوع ضروری سمجھا۔ فقہ میں ضروریات کو جگہ دینا شاہ ولی اللہ کا بڑا علمی کارنامہ تھا۔ حجة البالغہ بنیادی اساس تھی، جسے انہوں نے مرتب کیا۔ مولانا زاہدالراشدی نے کہا کہ شاہ ولی اللہ کے دور کے نظام تعلیم میں فقہ و علم الکلام کو اہمیت حاصل تھی۔ علم الکلام کی پشت پر یونانی فلسفہ کھڑا تھا، جس کی جگہ اب جدید فلسفے نے لی ہے۔ جدید فلسفے کے تناظر میں شرح عقائد کی دوسری جلد لکھنے کی ضرورت پیدا ہوگئی ہے لیکن تین سو سال گزرنے کے باوجود کوئی ایسا شخص مسیر نہیں جسے شاہ ولی اللہ کا ردیف قرار دیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ منطق اور روحانیت کو اکھٹا کرکے شاہ ولی اللہ کے لہجے میں مغرب سے بات کی جائے تو وہ اسلام کے نظام حیات کو باآسانی سمجھ لیں گے۔ سوسائٹی کے مسائل حل کرنے کے لیے قرآن و حدیث جو راستہ دکھاتا ہے اس سے بہتر راستہ کوئی نہیں۔ شاہ ولی اللہ نے اسی راستے کی طرف رہنمائی کی ہے۔ مولانا زاہدالراشدی نے مزید کہا کہ مغربی دنیا غیر سودی بنکاری کی طرف راغب ہو رہی ہے۔ لندن و پیرس کشمکش میں ہیں کہ غیر سودی بنکاری کا مرکز کون بنے گا۔ روس بھی غیر سودی بنکاری کے لیے قوانین میں ترمیم کی ضرورت محسوس کر رہا ہے۔ شہزادہ چارلس بھی کہہ چکا ہے کہ موجودہ نظام زیادہ دیر چلنے والا نہیں ، معاشرے کے وہ اصول اختیار کیے جائیں جو قرآن نے بتائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت دنیا میں حکومتوں کی نہیں معاہدات کی حکومت ہے۔ پالیسی سازی میں مسلم دنیا کا کوئی کردار نہیں، سلامتی کونسل کی پانچ ویٹو پاورز کے ہاتھ میں سارا کنٹرول ہے۔ اہل دانش وقت کی ضروریات کو محسوس کرتے ہوئے شاہ ولی اللہ کے فکر و طریقے کو اپنائے۔

Open chat