عہد نبوی میں نوجوانوں کا کردار مشعل راہ ہے،ڈاکٹریاسین مظہر

dawa acadmyکراچی ریجنل دعوۃ سینٹر (سندھ) کراچی ، دعوۃ اکیڈمی بین الاقوامی اسلامی یو نیورسٹی اسلام آبادکے زیر اہتمام سیرت طیبہ پر خصوصی نشست کا اہتمام کیا گیا۔ ’’عہد نبوی میں نوجوانوں کا کردار‘‘ کے موضوع پر خصوصی نشست سے نامور سیرت نگار اور شاہ ولی اللہ ریسرچ سیل علی گڑھ یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر محمد یاسین مظہر صدیقی نے خطاب کیا۔ نشست کی غرض و غایت اور مہمان مقرر کا تعارف کراتے ہوئے ریجنل دعوۃ سینٹر (سندھ) کراچی کے انچارج ڈاکٹر سید عزیزالرحمن نے کہا کہ آج کی نشست کا مقصد عہد نبوی میں نوجوانوں کے دعوتی کردار کو نمایاں کرنا ہے اور اس موضوع پر ہم نے دنیائے اسلام کے نامور سیرت نگار ڈاکٹر محمد یاسین مظہر صدیقی صاحب کو دعوت دی ہے، ڈاکٹر صاحب اس سینٹر میں اس سے پہلے بھی کئی موضوعات پر گفت گو کرچکے ہیں۔ ڈاکٹر یاسین صاحب کی تحقیق کا خاص منہج سیرت طیبہ ہے اور آپ نے عہد مکی کے خصوصی مطالعے کے ساتھ عہد نبوی کے مغازی اور اقتصادی جہات پر وقیع علمی کام کیا ہے۔
نشست سے خطاب کرتے ہوئے نامور سیرت نار ڈاکٹر محمد یاسین مظہر صدیقی نے کہا کہ آج کے موضوع پر بیسویں صدی میں تحقیق کا آغاز ہوا اور مصر کے ایک عالم عبدالمتعال سعیدی نے مکے کے دور میں نوجوانوں کے کردار پر مقالہ لکھا اور سابقین اولین کی عمروں کا تعین کیا۔ انہوں نے کہا مکہ میں ۱۷ اور ۱۸ سال کی عمروں کے صحابہ کی اکثریت تھی اور چند کی تیس سال سے زائد تھی، انہوں نے کہا کہ آپ ﷺ مردم شناس تھے اور صحابہ کی صلاحیت کے مطابق ان کو ذمے داریاں تفویض کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ جو بارہ مناصب دیے گئے وہ دوسرے درجے اور نوجوان صحابہ کو دیے گئے اور اکابر صحابہ کے مرتبے تو بڑے تھے مگر ان کے پاس مناصب نہیں تھے۔ انہوں نے کہا کہ مکے میں اکثریت نوجوانوں کی تھی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی عمر ۲۷ سال تھی جب انہوں نے اسلام قبول کیا۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کے اسلام قبول کرنے سے رسول اکرم ﷺ کو ذاتی تقویت ملی اور اسلام کو بھی طاقت ملی اور نوجوانوں نے اسلام کی دعوت کا رخ موڑدیا۔ انہوں نے کہا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ علانیہ دعوت کا کام کرتے تھے جب کہ دوسرے اکابر صحابہ غائبانہ اور آہستہ دعوت کا کام کرتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ مکے سے باہر جو لوگ اسلام میں داخل ہوئے ان میں ابوذر غفاری ؓ بھی تھے جن کی عمر تھوڑی تھی اور ابوموسیٰ اشعری اور دیگر نوجوان صحابہ اسلام میں داخل ہوئے جن کو آں حضرت صلعم نے اپنے پاس رکھ کر تربیت کی اور آپ صلعم ان کو بنیادی تعلیمات دیتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ کتابوں میں مکہ کے ۱۳۴ صحابہ کی فہرست تیار کی گئی ہے وہ سب نوجوان تھے۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ کا ذکر تو سب کرتے ہیں مگر ان کے ساتھ ان کی صاحبزادیوں حضرت زینب، حضرت رقیہ اور حضرت ام کلثوم کا ذکر نہیں کرتے جو سب نوجوان تھیں۔
انہوں نے کہا کہ اسلام کے پھیلائو جب بنیادی طور پر نوجوانوں نے کردار ادا کیا اور غزوات اور سرایا میں نوجوان صحابہ نے کردار ادا کیا۔ جنگ بدر، جنگ احد اور جنگ خندق میں شریک بیشتر نوجوان صحابہ تھے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ بدر میں حضرت علی ؓ کا کارنامہ یاد رکھیں جنہوں نے ۲۲ اکابر قریش کو قتل کیا اور حضرت علی کی فصاحت و بلاغت نمایاں تھی، انہوں نے کہا کہ عہد نبوی میں حکومت قائم کرنے، دینی تعلیم اور فقہ کے تعلیم میں نوجوانوں کی غالب اکثریت شامل تھی۔
ڈاکٹر محمد یاسین مظہر صدیقی نے کہا کہ آپ ﷺ نے اکابر صحابہ کو جان نشینی کے لیے ساتھ رکھا جب کہ دوسرے عہدے نوجوان صحابہ کو دیے جیسے زید بن حارث کو کمانڈر بناکر اور پھر اسامہ بن زبیر کو ایک جنگ میں کمانڈر بنا کر بھیجا۔ آپ صلعم نے جتنے جنگوں میں بھی کمانڈر مقرر کیے وہ سارے نوجوان تھے۔ انہوں نے کہا کہ حضرت سالم بن مولیٰ، حضرت عبداللہ بن مسعود اور رضی اللہ اور اصحاب صفہ والے سارے معلم نوجوان تھے۔
نشست کی صدارت شعبہ عربی جامعہ کراچی کے سابق چیئرمین اور سابق رئیس کلیہ فنون پروفیسر ڈاکٹر عبدالشہید نعمانی نے کی۔ نشست کے اختتام پر سوال جواب ہوئے اور دعا سے پروگرام کا اختتام ہوا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top