16 دسمبر اور اساتذہ و طلبہ (عرفان صادق)

dhakaبحیثیت استاد میں یہ سمجھتا ہوں کہ 16 دسمبر کا دن ہم اساتذہ و طلبہ دونوں کیلئے نہایت اہم ہے بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ یہ دن ہے ہی طلبہ و اساتذہ کا تو یہ مبالغہ ہرگز نہ ہو گا۔۔۔۔ مگر کیسے؟ آئیں دیکھتے ہیں۔۔۔ 16 دسمبر کو پاکستان کی تاریخ میں دو قیامتیں برپا ہوئیں۔ ایک 16 دسمبر 1971ءجب پاکستان دولخت ہوا اور دوسرا 16 دسمبر 2014ءکو آرمی پبلک اسکول پشاور پر ہونے والا حملہ جو بے شمار ننھے اور معصوم طلبہ کو خون میں نہلا گیا۔
اگر ہم بات کریں سقوط ڈھاکا کی تو یہ ایک تلخ حقیقت ہمیں حیران کر دینے کو کافی ہے کہ مشرقی پاکستان کے تعلیمی اداروں میں 95% اساتذہ ہندو تھے جو ناصرف دو قومی نظریہ کو نابود کرنے کے لیے برسرپیکار رہے بلکہ پاکستان کے مغربی حصے کی جانب سے روا ناانصافیوں اور بدفعلیوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے رہے جو کہ نئی نسل کے جذبات بھڑکانے اور طیش دلانے کا کام کرتے۔ ننھے اور کچے ذہنوں میں لگائی جانے والی یہ آگ آہستہ آہستہ بڑھتی رہی اور 1971 تک یہ آگ لاوے کی شکل اختیار کر گئی جس کا نتیجہ سقوطِ ڈھاکہ کے سانحے کی شکل میں نکلا۔
قیام پاکستان کے وقت مشرقی پاکستان میں تقریبا ً ڈیڑھ کروڑ ہندو آباد تھا۔ یہ خطہ مردم خیز اور سیاسی طور پر بیدار افراد پر مشتمل تھا۔ ہندو اکثریت تعلیم یافتہ ہونے کےساتھ ساتھ تعلیمی شعبہ کےساتھ وابستہ تھی۔ 1940ءکے بعد تحریک پاکستان زور پکڑ رہی تھی تبھی ایک باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت ہندو دانشوروں نے بنگالی کو قومی زبان بنانے کی تحریک کا آغاز کر دیا۔ قیام پاکستان کے بعد یہ تحریک زور پکڑنے لگی۔ درسگاہوں میں قائداعظم کی جگہ نہرو اور گاندھی کی تصاویر آویزاں ہونے لگیں۔ جب اردو کو قومی زبان بنانے کا فیصلہ سنایا تو بنگال کی طرف سے ایک مضبوط اور طاقتور احتجاج سامنے آیا مگر قائداعظم کے بعد لیاقت علی خان نے قائد کے فیصلے کو قائم رکھا۔
اس کے علاوہ اسلامی جمعیت طلبہ جو کہ اساتذہ اور طلبہ پہ مشتمل تھی نے ایک عسکری تنظیم البدر کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے پاک فوج کے شانہ بشانہ مکتی باہنی تحریک کی بغاوت کو کچلنا شروع کر دیا۔ الشمس نامی عسکری تنظیم دینی مدارس کے طلبہ و اساتذہ پر مشتمل تھی۔ الشمس اور البدر کو عسکری تربیت ،اسلحہ اور ضروری وسائل مبینہ طور پر پاک فوج نے ہی مہیا کیے تھے۔ لیکن جب بدقسمتی سے جب پاک فوج نے ہتھیار ڈالے تو مکتی باہنی کے بد قماشوں نے البدر اور الشمس کے کارکنان کو بری طرح قتل کرنا شروع کر دیا۔ اس قتلِ عام میں چند ایک طلبہ و اساتذہ ہی ایسے تھے جو جان بچا کر بیرون ملک فرار ہونے میں کامیاب ہوئے۔ اب پھر 2009ءمیں بنگلہ دیش حکومت نے جماعت اسلامی کے امیر مطیع الرحمن سمیت بڑی تعداد میں جماعت اسلامی کے کارکنان اور قیادت پر بغاوت کی دفعات لگا کر مقدمے کھول دیے۔ جس میں امیر جماعت اسلامی مطیع الرحمن کو 11 مئی 2016ءکو اس الزام میں پھانسی دے دی گئی کہ انہوں نے بنگلہ دیش کی آزادی کی جنگ کے دوران مزاحمت کرنے والے البدر جنگجوو¿ں کی قیادت کی ہے۔
لہٰذا اساتذہ کا کردار ہر طور مسلم رہا۔ بغاوت کو کھڑا کرنے والے بھی ہندو اساتذہ تھے اور بغاوت کو دبانے کے لیے بھی اسکولوں کالجوں اور مدارس کے طلبہ و اساتذہ نے ایک بڑا کردار ادا کیا۔
اگر ہم 16 دسمبر 2014ءکو آرمی پبلک اسکول پر ہونے والے حملے کی بات کریں تو یہ دنیا کی تاریخ میں کسی تعلیمی ادارے پر ہونے والا چوتھا بڑا حملہ تھا اس حملے کی طرز پہ طائرانہ نگاہ ڈالی جائے تو وہاں بھی دو جہات نظر آتی ہیں۔ حملہ آور بھی کچی عمروں کے تھے جن کو ان کے مکار اساتذہ نے جنت کے دلفریب خواب دکھا کر اور کفار پر صادق آنے والی آیات و احادیث مسلمانوں پر فٹ کر کے بارودی جیکٹ پہنا دی اور ان کے ہاتھوں میں بندوق پکڑا دی۔ میرا دل خون کے آنسو رویا تھا جب اس حملے کے بعد تحریکِ طالبان پاکستان کا آفیشیل اعترافی بیان جاری ہوا تو اس میں صحیح بخاری شریف کی وہ احادیث پڑھ کر سنائی جا رہی تھیں جو ایک جنگ میں یہودی لڑکوں کو قتل کرنے کے بارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمائی تھیں۔کہ ان کو دیکھا جائے کہ جو ان میں سے بلوغت کی عمر کو پہنچ چکا ہے اسے قتل کر دیا جائے اور جو کم عمر ہے اسے قید کر لیا جائے۔ اور پھر صحابہ کرام رض نے ایسے ہی کیا تھا۔
جبکہ دوسری طرف آرمی پبلک اسکول کے وہ مرد و خواتین اساتذہ تھے جنہوں نے دورانِ حملہ بھی کمال جرات مندی کا مظاہرہ کیا اور حملے کے بعد بھی۔ جب حملہ آوروں نے بچوں پر بندوق تانی تو اسکول کی پرنسپل محترمہ طاہرہ قاضی ان کے سامنے آگئیں اور کہا ”یہ میری بچے ہیں میں ان بچوں کی ماں ہوں۔۔ تم مجھ سے بات کرو“ اور پھر ان درندہ صفت دہشت گردوں نے ایک برسٹ محترمہ طاہرہ قاضی کے سینے میں اتار دیا اور وہ اپنے طلبہ سے پہلے ہی جان دے کر حیاتِ جاوداں پاگئیں۔
ان تمام واقعات سے چند ایک مسلّم حقائق سامنے آتے ہیں کہ استاد ہی تھا جس نے ایک 24 سالہ آزاد ملک کو دو لخت کیا۔۔۔ بنظر دوم ایک استاد ہی نے ایک وطن آزاد کروایا۔۔۔اور استاد ہی تھا جو وطن کے دفاع کی خاطر اپنے طلبہ سمیت اپنی فوج کے شانہ بشانہ کھڑا ہو گیا۔ ایک استاد ہی تھا جس نے سات لوگوں کو جسم پر بارود بندھوا کر ان کے ہاتھ سے معصوم بچوں کا قتلِ ناروا کروایا۔اور وہ بھی ایک استانی ہی تھی جو اپنے بچوں کی ڈھال بن کر دشمن کے آگے سینہ سپر ہو گئی۔۔۔وہ بھی استاد ہی تھا جس نے ایک بڑی تعداد میں اپنے طلبہ و سٹاف کی قربانی دینے کے باوجود چند دن بعد سکول کھول کر دشمن کو پیغام دیا کہ تم یہ شمع بجھانے کی خاطر جتنے ہربے آزما لو یہ علم کی شمع سے محبت کرنے والے پروانے پھر بھی نہ باز آئیں گے۔ اور علم کی شمع کو روشن کر کے رہیں گے۔۔
الغرض استاد کا ہر طور کردار رہا ہے مثبت ہو یا منفی۔۔۔ تو میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہر استاد اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے طلبہ کی مثبت ذہن سازی کرے۔ اسے نصاب کے ساتھ ساتھ وطن کی محبت اور دفاع بھی ضرور سکھائے۔ تا کہ کل اگر کوئی اس ملک کی نظریاتی سرحدوں پہ حملہ آور تب بھی یہ بچے دفاع کر سکیں اور اگر کوئی جغرافیائی سرحدوں پہ میلی نگاہ ڈالے تو اس کی آنکھیں پھوڑ دینے کا بھی حوصلہ و ہربہ رکھتے ہوں۔
Irfansadiq0092@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top