اسہال کی علامات اور ان کا علاج (ڈاکٹرصدف اکبر)

Untitled-1ڈائریا، دست یا اسہال سے مراد ایک ایسی بیماری یا مرض ہے جس میں آنتوں سے فضلہ یا بڑا پیشاب بار بار آتا ہے۔ جو عام طور پر پتلا ہوتا ہے ۔جس کی وجہ سے مریض بالخصوص بزرگ افراد اور بچے زیادہ متاثر ہوتے ہیں اور جان لیوا پیاس کا شکار بھی ہو سکتے ہیں۔ ڈائریا، دست یاا سہا ل کی وجہ سے ہر سال دنیا بھر میں چھ لاکھ بچے جب کہ ایک رپورٹ کے مطابق ہر سال پاکستان میں تقریباََ ایک لاکھ 25 ہزار بچے ڈائریا کی بیماری کی وجہ سے موت کا شکار ہو جاتے ہیں۔
ڈائریا کی علامات مختلف ہو سکتی ہیں۔بعض افراد میں یہ علامات معمولی کچھ میں درمیانی اور بعض مریضوں میںشدید نوعیت کی بھی ہو سکتی ہے۔  ان علامات میں پانی کی زیادہ طلب،زبان کا خشک ہونا،جسم میں کمزوری،چکر آنا، دل کی دھڑکن کا بڑھ جانا، متلی محسوس ہونا، چڑچڑاپن، پسینہ کم آنا اور کم پیشاب کی شکایات عام ہو تی ہیں۔ مریض کو باربار پتلے پاخانے آتے ہیں۔بعض اوقات پیٹ میں شدید درد بھی ہوتا ہے۔ آنکھیں اندر کو دھنس جاتی ہیں، جلد روکھی سی ہو جاتی ہے اور کمزوری بہت بڑھ جاتی ہے ۔ وزن کم ہوجاتا ہے اور مریض کا پورا جسم لاغر، کمزور اور زرد رنگ کا ہو جاتا ہے۔
اسہال کا مرض بچوں میں زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے ، کیوں کہ اس سے بچوں کے جسم میں پانی کی بہت کمی ہو جاتی ہے۔ڈائریا کی بہت سی وجوہات اور اسباب ہوسکتے ہیں ۔بعض مریضوں کو اسہال کی بیماری برسات کے موسم میں یا وائر0 کی وجہ سے لگ جاتی ہے۔ جب کہ زیادہ تر چھوٹی عمر کے بچوں میں اسہال یا ڈائریا کی بیماری کا ذمہ دار روٹا وائرس بنتا ہے ۔ایک رپورٹ کے مطابق چھ ماہ سے دو سال کے بچوں میں روٹا وائرس کے حملے سے متاثر ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔  پانچ سال سے کم عمر کے بچے آنتوں میں انفیکشن میں مبتلا ہو کر جسم میں پانی کی کمی کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ اس وائرس کے انفیکشن کی وجہ سے آچانک پانی کی طرح پتلے اسہال آنا شروع ہو جاتے ہیں ۔
اس کے علاوہ بیکٹریا ٹاکسن کی وجہ سے بھی بعض اوقات دست شروع ہو جاتے ہیں ۔مثلا دودھ ، دہی اور چاول وغیرہ میں مضر صحت بیکٹریا شامل ہو جاتے ہیں جو دست شروع ہونے کی ایک اہم وجہ بنتے ہیں ۔ ای کولائی بیکٹریا کے انفیکشن سے بھی دست لگ جاتے ہیں ۔ غیر معیاری اور بغیر دھوئے اور خراب پھلوں اور سبزیوں کو کھانے سے بھی انفیکشن شروع ہو جاتاہے اور تقریباََ چار سے پانچ گھنٹے بعد اسہال شروع ہو جاتے ہیں ۔اسہال یا ڈائریا کے جراثیم کنوو¿ں ، نہروں اور جوہڑوں کے پانی کے ذریعے بھی انسانوں تک پہنچتے ہیں اور بعدمیں شدید اسہال کا باعث بنتے ہیں ۔اس میں مریض کو متلی سی محسوس ہوتی ہے اور اسہال بدبودار ہوتے ہیں ۔اس کے علاوہ دیگر پیراسائیٹس بھی ڈائریا جیسی خطرناک بیماری کے ذمہ دار ہو سکتے ہیں ۔
پاکستا ن میں صرف ڈائریا سے ہر ایک گھنٹے میں پانچ بچوں کی اموات واقع ہو جاتی ہے ۔ ماہرین کے مطابق ہر سال ڈائریا کا شکار ہونے والے 63 فیصد بچوں کو روٹا وائرس کے انفیکشن کی وجہ سے مرکز صحت میں لایا جاتا ہے ۔ شیر خوار بچوں اور چھوٹے بچوں میں اسہال یا دستوں کی بیماری کی اہم وجہ روٹا وائرس ہی ہوتے ہیں۔ خاص طور پر چھ ماہ سے دو سال کے بچوں میں روٹا وائرس کے انفیکشن سے متاثر ہونے کا خطرہ سب سے زیادہ ہوتا ہے۔روٹا وائرس گندے پانی کے ذریعے ، آلودہ ہاتھوں سے کھانے اور پینے کی وجہ سے ، گندے ہاتھوں کو منہ میں ڈالنے سے، گندے کھلونے اور مختلف آلودہ چیزوں کو ہاتھ لگانے سے چھوٹے بچوں میں بیماری پیدا کرتے ہیں۔
جب کہ یہ جراثیم ایک بچے سے دوسرے بچے میں بھی باآسانی منتقل ہو جاتے ہیں اور اس میں وائرس کی پرورش بچوں کی انتڑیوں میں ہوتی ہے جو ان بچوں میں اسہال اور ڈائریا کا باعث ہنتے ہیں ۔روٹا وائرس سے متاثر ہو نے والے بچوں میں بخار، متلی، قے کے ساتھ ساتھ پیٹ میں مروڑ اور پتلے دست اس بیماری کی نشاندہی کرتے ہیں۔بعض اوقات بچوں کو کھانسی اور زکا م کی شکایت بھی ہو سکتی ہے۔ عا لمی ادارہ صحت کے مطابق روٹا وائرس کو ای پی آئی میں شامل کر دیا گیا ہے کیونکہ روٹا ویکسین سے
بچوں کی شرح اموات میں کمی کے ساتھ ساتھ بیماری کے خلاف بچوں کی قوت مدافعت میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اسہال کی بیماری ایک سے سات دن تک رہ سکتی ہے اور اس دوران پانی کا استعمال بہت زیادہ کرنا چا ہیے۔ ڈائریا کی بیماری سے مریض کو شدید ڈی ہائیڈریشن بھی ہو جاتی ہے۔ ڈی ہائیڈریشن یا پانی کی کمی دراصل جسم میں پانی ، نمکیات اور اہم معدنی اجزاءکی کمی ہوتی ہے جو دماغ ، جگر ، گردے اور دل جیسے اہم اجزاءکی کمی کی وجہ سے جسم کا نظام درست طریقے سے اپنا کام سر انجام نہیں دے پاتا ہے اور پھر بالآخر مریض کی موت واقع ہو جاتی ہے ۔
اورل ڈی ہائیڈریشن تھراپی ایسے مشروبات کو کہتے ہیں جوجسم میں پانی کی شدید کمی کو پورا کرنے کے لیے پلائی جاتی ہے ۔ایسے مشروبات میں ابلا ہوا پانی استعمال کیا جانا چاہیئے اور اس میں چینی اور نمک ضرورشامل ہونے چاہیے ۔ یہ پانی ہر دست کے بعد پلا نا چاہیے ۔ بڑوں اور بچوں کو کم از کم ایک دن میں تین لیٹر ، اور دو سال سے کمسن بچوں کو ہر دست کے بعد ایک چوتھائی سے آدھا گلاس اور دو سال سے زیادہ کے بچوں کو آدھے سے ایک گلاس ہر دست کے بعد پلانا چاہیے ۔چائلڈ لائف فاﺅنڈیشن کے مطابق ڈائریا سے متاثرہ بچوں کی چالیس فیصد اموات کو او آر ایس کے استعمال سے کنٹرول کیا جاسکتا ہے ۔
خصوصی اجزاء، زنک اور کم ارسمولاریلی کے حامل اور آر ایس ڈائریا سے متاثرہ بچوں کے بہترین علاج ہے لیکن ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں یہ خصوصی اوآر ایس پلانے کی شرح صرف تقریباََ پانچ فیصد ہے ۔او۔آر ۔ایس جو کم ارسمولوریٹی (Mosm/1245-215) یا کم نمک اور 90-75 mmo1/1 گلوکوز کے ہوتے ہیں ، مکمل طورپر محفوظ تصور کیے جاتے ہیںاور یہ او آر ایس کم فضلے کے اخراج، الٹیوں میں کمی اور آئی وی تھراپی کے کم استعمال کا باعث بنتے ہیں ۔بہت سے افراد اسہال کا اس وقت شکار ہوتے ہیں جب وہ کسی ایسی جگہ سفر کرتے ہیں جہاں پانی کی صفائی کی حالت حفضان صحت کے اصولوںکے مطابق نہیں ہوں ۔ ایسے حالات میں کچی سبزیوں اور ایسے پھل جنکا چھلکا نہیں اتارا جاسکتا ، کھانے سے گریز کرنا چاہیے ۔ اس کے علاوہ پانی کے استعمال میں بھی احتیاط کرنی چاہیے۔
ایک رپورٹ کے مطابق سب قسم کے ڈائریا میں اینٹی بائیوٹک کے استعمال کی ضرورت نہیں ہوتی ہے اور اس بات کا فیصلہ ڈاکٹر حضرات ٹیسٹ کروا کے کرتے ہیں کہ مریض کے جسم میں کس قسم کے جراثیم کتنی مقدار میں موجود ہیں اور اینٹی بائیوٹک تجویز کرنی ہے یا اس کی ضرورت نہیں ہے ۔ دست کے مریضوں کو پروبائیوٹک بھی دی جاتی ہے ۔ جس میں مختلف اقسام کے ا نزائمز ہوتے ہیں جو ڈائریا کنٹرول کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں ۔ دہی اور کیلا ایسے پروبائیوٹک ہیں جن کے استعمال سے ڈائریا کی حالت میں خاطر خواہ فرق نظر آتا ہے ۔ اس کے علاوہ ماں کا دودھ بچے کے لئے بہترین غذا ہوتی ہے جو بچوں کو مختلف جسمانی اور ذہنی بیماریوں کے ساتھ ساتھ ڈائریا جیسی مہلک بیما ری سے بھی محفوظ رکھتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top