جہیز ایک ناسور(طیبہ شیریں)

Dowryجہیز کیا ہے؟جہیز عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں سامان، وہ سامان جو والدین اپنی بیٹی کی شادی پر اپنی خوشی سے اپنی بیٹی کو دیتے ہیں اور ضرورت کی وہ سبھی چیزیں اس میں شامل ہوتی ہیں جو شادی کے بعد ایک لڑکی کے لیے کافی ہوتی ہیں۔ آج کل دیکھنے میں آرہا ہے کہ کئی لوگ معاشرے سے اس ناسور کے خاتمے کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں۔ جہاں آواز بلند کر کہ جہیز کو لعنت قرار دیا جا رہا ہے مگر وہی لوگ اپنی بیٹیوں کو لاکھوں کا جہیز دے بھی رہے ہیں اور بیٹوں کے لیے لے بھی رہے ہیں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا ہمارے فقط چار لوگوں کے درمیان بیٹھ کر جہیز کی برائیاں بیان کرنے سے اس کا جڑ سے خاتمہ ممکن ہے یا چند پوسٹ کے ذریعے سوشل میڈیا پر اپنی رائے کااظہار کردینا کافی ہوگا؟ ہر گز نہیں! اگر ہمیں اپنے معاشرے سے اس ناسور کو جڑ سے ختم کرنا ہے تو ہمیں عملی طور پر اقدامات کرنے ہوں گے۔ عملی طور پر مہم چلانی ہوگی جس کا آغاز اپنی ذات اور اپنے گھر سے کرنا ہوگا۔
ہم اس وقت ہی اس میں کامیاب ہو پائیں گے جب ہم عملی طور پر جہیز جیسی لعنت کا بائیکا ٹ کریں گے جس کے سبب نہ جانے کتنی ہی بہن بیٹیاں باپ کے آنگن میں ہی بوڑھی ہوجاتی ہیں کیوں کہ ان کے گھر والے انہیں بھاری بھرکم جہیز دینے کی حیثیت نہیں رکھتے۔ جہاں ہمیں جہیز دینے کا بائیکاٹ کرنے کی ضرورت ہے وہیں ہمیں اپنے بیٹوں اور بھائیوں کے لیے بھی لاکھوںکا جہیز لینے کا بائیکاٹ کرنا ہوگا۔ آقائے دو جہاںﷺ نے اپنی لخت جگر کو جہیز میں چند اشیاءدیں جو درج ذیل ہیں 1۔مشکیزہ 2۔چکی 3۔جائے نماز4۔کھجورسے بنی چٹائی۔ نبی کریمﷺ کے اس فعل مبارک سے ہمیں معلوم ہوتا کہ اپنی بچیو ں کو صرف ضرورت کا سامان دیں۔
جہیز لینا اور دینا ماں باپ کا فرض بھی ہے اور حق بھی۔ کوئی بھی ماں باپ اپنی بیٹی کو ایسے ہی خالی ہاتھ کسی کے گھر رخصت نہیں کرتے۔ وہ ضرورت کی ہر چیز اسے دیتے ہیںتاکہ اگلے گھر میں جاتے ہی مانگنے کی ضرورت نہ پڑے۔ اس لیے ماں باپ بیٹی کو بالکل خالی ہاتھ نہیں جانے دیتے۔ یہ تمام چیزیں والدین اپنی رضا و خوشی سے بیٹی کو اس کے استعمال کے لیے دیتے ہیں جو کہ بیٹی کا حق بھی ہے لیکن لڑکے والوں کی جانب سے ناجائز مطالبات کسی صورت قابل قبول نہیں ہیں۔ لڑکے کے گھر والے بھی جو جہیز کے خلاف بہت کچھ بولتے ہیںمگر شادی کے کچھ عرصے بعد ان کی اصلیت سامنے آجاتی ہے۔ بات بات لڑکی کو طعنے دیتے ہیں۔ خدارکچھ تو ہوش کریں ایسے کب تک چلے گا۔ اس میں شبہ نہیں کہ جہیز کی موجودہ شکل ایک تباہ کن رسم بن کر رہ گئی ہے۔ لڑکی کو ماں باپ اپنی محبت وشفقت میں رخصت ہوتے وقت جو کچھ دیتے ہیں، وہ ایک انسانی فطرت کا تقاضا ہے۔
جہیز ایک ناسور ہے جو ہمارے معاشرے میں کینسر کی طرح پھیل چکا ہے، اس لعنت نے لاکھوں بہنوں اور بیٹیوں کی زندگیوں کو جہنم بنارکھا ہے۔ ان کی معصوم آنکھوں میں بسنے والے رنگین خواب چھین لیے گئے ہیں۔ اس جہیز کی وجہ سے نوجوان لڑکیاں والدین کے گھر بن بیاہے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ بے شمار لڑکیوں کے والدین کوجہیز کی رسم نے قرضوں میں دبادیا ہے، وقت پر شادی نہ ہونے سے بیشتر لڑکیاں اور خواتین نفسیاتی امراض میں مبتلا ہوگئی ہیں۔ لڑکیوں کی شادیاں نہ ہونے سے سماجی برائیاں، خودکشی، طلاق، چوری، پرتشدد اموات، دھوکا دہی اور سماجی مسائل جنم لے رہے ہیں۔ تو اس میں قصوروار کون؟؟
جہیز کے ساتھ بات کریں تو حق مہر بھی آج کل لاکھوں میں لکھوایا جارہا ہے۔ اگر اس پہ سوال کریں تو لڑکی کے والدین کا ایک جواب ہوتا ہے کہ ہم نے یہ سب اپنی بچی کی حفاطت کے لیے لکھوایا ہے۔ جہیز ایک لعنت ہے مگر اس طرح اتنی بڑی رقم کا حق مہر کے طور پر مطالبہ کرنا بھی درست عمل نہیں۔ حق مہر کے نام پہ اتنی زیادہ رقم لکھوانا، اضافی سونا لکھوانا، گھر اور رشتہ داروں کے مہنگے لباس، مہنگا ولیمہ اور بعد شادی کے مہنگا ہنی مون پیکچ لڑکی والوں کی ڈیمانڈ پر کہاں فٹ آتاا ہے؟ ”تالی کبھی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی“۔ اگر لڑکی کے والدین تھوڑا سا سوچیں کہ اگر ہم لڑکی کانکاح بنا کسی شرط کے کروا دیتے ہیں تو کل ہماری بیٹی ہی سکھی رہے گی۔
 اتنا کچھ لکھوانے کے بعد تو ایک لڑکا ساری عمر قرض میں دبا رہے گا وہ اپنی بیوی کو کیسے خوش رکھ پائے گا۔ وہ تو ہر وقت ذہنی طور پر پریشانی میں مبتلا رہے گا وہ کیسے اپنی بیوی کے ساتھ ہنسی خوشی خوشگوار زندگی گزارے گا؟ بعد ازاں بات لڑائی جھگڑوں سے ہوتی ہوئی طلاق تک پہنچ جاتی ہے اور طلاق دیتے وقت جب وہ لڑکا ساری چیزیں اپنی بیوی کو نہیں دے گا تو وہ جیل کی کال کوٹھری میں ساری عمر جلتا رہے گا۔ اس سے دونوں خاندانوں کا نقصان ہو گا۔ ہمیں ان رسومات کو ترک کرکے کامیابی اور آسانی والے راستے کو اپنانا چاہیے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم خود بھی اس بری بلا سے بچیں اور جہاں اپنی بیٹی کو دے رہے ہیں یا جس کی بیٹی کولے رہے ہیں ان کو بھی ترک کرنے کا کہیں۔ اس وقت مسلم معاشرے سے اس کو مکمل طور پر جڑ سے ختم کرنے کی شدید ضرورت ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top