Wednesday, October 28, 2020
Home کالم /فیچر تعلیم کو اہمیت دیں (نور الھدیٰ شاہین)

تعلیم کو اہمیت دیں (نور الھدیٰ شاہین)

01پاکستان میں معیار تعلیم کو بلند کرنے کے لیے اس وقت کافی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ دیگر ترقی یافتہ ممالک بھی پاکستان میں شرح خواندگی کے اضافے کے لیے فنڈز مہیا کر رہے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود شرح خواندگی میں مطلوبہ اضافہ دیکھنے میں نظر نہیں آ رہا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تعلیم میں بہتری بیساکھیوں اور خیرات سے نہیں بلکہ ٹھوس منصوبہ بندی اورتعلیم کے شعبے میں وسیع تر سرمایہ کاری کے ذریعے ممکن ہے۔انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ پاکستان میں آج تک جی ڈی پی کا صرف دو فیصدسے بھی کم تعلیم پر خرچ کیا جارہا ہے جو کہ اونٹ کے منہ میں زیرہ دینے کے مترادف ہے۔ اقوام متحدہ نے تمام ترقی پذیر ممالک کو اپنے جی ڈی پی یعنی قومی شرح پیداوار کا پانچ فیصد تعلیم کیلئے مختص کرنے کی تجویز دی ہے۔ اکثر و بیشتر ممالک اس تجویز پر عمل پیرا ہیں جو کہ تعلیمی شعبے میں انتہائی تیزی کے ساتھ ترقی کی جانب گامزن ہیں۔پاکستان کے بطن سے جنم لینے والا بنگلہ دیش بھی اس معاملے میں ہم سے آگے نکل گیاہے ۔
ورلڈ بینک کے اعداد وشمار کے مطابق پڑوسی ملک انڈیانے2009میں شعبہ تعلیم پر اپنے جی ڈی پی کا3.2 ,فیصد، 2010 میں3.3 ، جبکہ2011 میں، 3.2 فیصد خرچ کیا۔ ایران نے 2009 میں4.5، 2010 میں4.3، 2011 میں4.1، جبکہ 2012 میں 3.7 فیصد خرچ کیا۔ اسرائیل نے سال 2009 میں 5.8، 2010 میں 5.6، جبکہ 2011 میں بھی 5.6 فیصد استعمال کیا۔ ملائشیا نے2009 میں 6 فیصد 2010 میں 5.1، اور 2011 میں 5.9 فیصد لگایا۔اب آتے ہیں پاکستان کی طرف اپنا اعمال نامہ ذرا کھول کر دیکھتے ہیں کہ ہم نے اپنے جی ڈی پی کا کتنا فیصد تعلیم پر خرچ کیا۔ اس طرح دوسرے ممالک کے اعداد و شمار پر ایک طائرانہ نظر دوڑائی جائے تو کم و بیش سارے ممالک اپنے تعلیمی بجٹ میںہر سال اضافے کی کوششوں میں مصروف نظر آتے ہیں، ہمارے یہاںچونکہ الٹی گنگا بہتی ہے تو ہر سال کمی کی جاتی ہے۔اس کا اندازہ آپ ان اعداد و شمار سے لگا سکتے ہیں۔ پاکستان نے 2009میں2.6 فیصد، 2010 میں 2.3 فیصد 2011 میں 2.2 فیصد، 2012 میں 2.1 فیصد جبکہ 2013میں انتہائی شرمناک حد تک کم کر کے 1.8فیصد کر دیا۔
education-budgetنتیجہ ہمارے سامنے ہے کہ آج تک ہماری شرح تعلیم 58فیصد سے آگے نہ بڑھ سکی۔ آج بھی ہمارے بچے تعلیمی اداروں میں کم، کچرا کنڈیوں اور ورکشاپوں میں زیادہ نظر آتے ہیں۔ ہمارے ارد گرد ویڈیو گیمز سنٹر اور منی سینما زیادہ، جبکہ پرائمری تعلیمی ادارے خال خال نظر آرہے ہیں۔ ہائی اسکولوں سے زیادہ شیشہ کیفے ملیں گے، جامعات و کالجز دوربین سے ڈھونڈنے پڑتے ہیں۔ جو کالجز اور جامعات قائم ہیں، وہ عام آدمی کی پہنچ سے کوسوں دور ہیں۔ ایک سروے کے مطابق پاکستان کی آبادی کا صرف ایک فیصد یونیورسٹی لیول تک پہنچ پاتا ہے، باقی پرائمری ، مڈل، سیکنڈری، ہائی یا پھر انٹر میڈیٹ، تک ہی بمشکل پہنچ پاتے ہیں۔ وجہ یہی ہے کہ تعلیمی ادارے نہ ہونے کے برابر ، ناقابل برداشت فیسیں ودیگر اخراجات ، کیونکہ دور دراز کے طلبہ کو اعلی تعلیم کیلئے شہروں کا رخ کرنا پڑتا ہے ،وہ عام آدمی برداشت نہیں کرسکتا۔
Literacy_Map_Pakistanتعلیم کا شعبہ ہو یا دوسرے شعبہ ہائے زندگی ، بیرونی امداد و خیرات پر انحصار کیے بیٹھے ہیں۔ یو ایس ایڈ اور دوسرے عالمی اداروں کے آگے بھیگ منگوں کی طرح دست درازی کرتے پھر رہے ہیں۔ جو کچھ خیرات ملتا ہے وہ پاکستان نہیںپہنچتا بلکہ سیدھا سوئس بنکوں میں بنے ہمارے رہنماﺅں کے اکاونٹ میں منتقل کر دیا جاتا ہے ۔عالمی برادری میں اس وقت ہمارے حصے میںاحساس کمتری و شرمندگی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ دنیا ہمیں جاہل قوم اور ناکام ریاست قرار دیکر ہمارا مذاق اڑا رہی ہے۔ ہم کبھی لیپ ٹاپ تقسیم کرنے کے نام پر اربوں جھونک دیتے ہیں، کبھی پیلی ٹیکسی کیلئے خزانہ کھول دیا جاتا ہے، تو کبھی یوتھ لون سکیم کے نام پر سو ارب روپے داﺅ پر لگا دیتے ہیں۔یہ سب اپنی جگہ ٹھیک لیکن اگر اتنا سرمایہ تعلیم کے شعبے میں لگائیں تو شاید یہ سب نیلی پیلی سکیموں کی ضرورت بھی نہ پڑے۔

nhshaheen26@gmail.com

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular

گستاخانہ خاکے، کراچی بار کی سٹی کورٹ تا لائٹ ہائو س ریلی

کراچی ، فرانس میں گستاخانہ مواد کی اشاعت پرکراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے احتجاجی ریلی میں وکلاءکی بڑی تعداد نے...

لانڈھی پروسیسنگ زون میں لگنے والی آگ پر قابو پالیا گیا

کراچی:لانڈھی ایکسپورٹ پروسیسنگ زون میں فیکٹری میں لگنے والی آگ پر قابو پالیا گیا، ریسکیو ذرائع کے مطابق ایکسپورٹ زون میں آگ...

کورنگی میں مبینہ پولیس مقابلہ، ایک ڈاکو ہلاک، دوسرا زخمی

کراچی:کورنگی میں مبینہ پولیس مقابلہ، پولیس کے مطابق کورنگی کبڈی گراؤنڈ 2 ڈاکو اسلحہ کے زور پر لوٹ مارکررہے تھے ،ملزمان نے...

رینجرز کا بلدیہ ٹائون میں فری میڈیکل کیمپ

کراچی، سندھ رینجرزکابلدیہ ٹاون میں فری میڈیکل کیمپ، میڈیکل اسپیشلسٹ، بچوں کےماہرڈاکٹرسمیت مختلف امراض کےڈاکٹرز نےمریضوں کاچیک اپ کیا ، کیمپ...