Thursday, October 29, 2020
Home کالم /فیچر تعلیم کا نوحہ (شعیب یار خان)

تعلیم کا نوحہ (شعیب یار خان)

schools-securityسانحہ پشاور پر جتنے آنسو بہائے جائیں جتنی مذمت کی جائے کم ہے، یہ ایک ایسا واقعہ ہے جس نے انسانیت کو شرما کے رکھ دیا ہے۔ دہشت گردوں نے ظلم کی انتہا کر دی ہے، اور یقیناَ یہ کسی مسلمان کی حرکت نہیں ہو سکتی، بلاشبہ اسلام کی تعلیمات امن، انصاف، رواداری کا درس دیتی ہیں نہ کہ دہشتگردی ، ظلم یا نا انصافی کی۔
اس لیے کسی بھی مسلمان پر اس کارروائی کا الزام سراسر زیادتی اور سازش کا شاخسانہ ہو سکتا ہے۔ لیکن اس میں بھی دو رائے نہیں ہو سکتیں کہ اس وقت تمام عالم میں مسلمانوں پر ہونے والی زیادتی، ظلم و ستم اور دہشتگردی کے باوجود مسلمانوں کو ہی دہشتگرد گردانا جاتا ہے، اگر پوری دنیا کاجائزہ لیا جائے تو سب سے زیادہ حالت جنگ میں مسلمان ممالک یا مسلم اکثریتی ممالک ہی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جو خود دہشتگردی کا شکار ہو یا مستقل حالت جنگ میں ہو تو کیا اس مں اتنی استعداد ہو سکتی ہے کہ وہ دنیا بھر میں میں دہشتگردی کرتا پھرے؟

بحر کیف بات ہو رہی تھی سانحہ پشاور کی جس کے بعد حکومت، اپوزیشن اور فوجی قیادت جیسے ایک صفحے پر آئی ہے اس کی نظیر تاریخ میں کم کم ہی ملتی ہے، آپس کے تمام اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے جس طرح سے سب ایک ہوئے اور لمبی لمبی نششستوں میں فیصلے کیے جا رہے ہیں وہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ قوم کے لیے درد ابھی باقی ہے!

وزیر اعظم نے قوم سے خطاب میں 20نکات کا اعلان تو کر دیا ہے جس پر سب میں اتفاق بھی ہو چکا ہے مجرموں کو دار پر بھی ٹانگنا شروع کیا جا چکا ہے ، مدارس کی نگرانی ہو، فنڈنگ ہو یا اشتعال انگیز تقاریر و اجتماعات مانیٹرنگ کمیٹیا ں بھی بن گئی ہیں۔ یقینا 20 کے 20نکات انتہائی اہم اور فوری توجہ طلب ہیں لیکن کچھ باتیں ایسی بھی جو انتہائی غور طلب اور فوری سددباب بھی چاہتی ہیں۔

آخر والدین اتنی بڑی تعداد میں اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے مدارس کا انتخاب ہی کیوں کرتے ہیں؟ جواب نہایت سادہ اور آسان ہے کیونکہ ہمارے ملک میں سب سے کمزور اور دھتکارہ ہوا شعبہ ہے تعلیم کا۔ سرکاری اسکولوں کی حالت زار سے کون ہے جو واقف نہیں ہے۔ جہاں نہ اساتذہ ہوتے ہیں نہ ہی طالب علم۔ پھر کتاب اور فرنیچر تو ثانوی چیز ہے۔ دوسری طرف بڑی تعداد میں پرائیوٹ اسکولز ہیں جن کی فیس ایک عام آدمی کی تنخواہ سے بھی زیادہ ہے۔ جہاں غریب والدین اپنے بچوں کو پڑھانے کا سوچ بھی نہیں سکتے بھیجنا تو درکنار ہے۔

ہمارے سیاستدان چیخ چیخ کر اپنی تقاریر میں اعلانات کرتے ہیں کہ ہر پیدا ہونے والا پاکستانی بچہ بھی 90 ہزارروپے کا مقروض ہے۔ پھر چاہیے وہ 10کروڑ کے مکان میں رہتا ہو یا گھر کا تین ہزار ماہوار کرایہ دیتا ہو۔ جب قرضدار دونوں ہی برابر ہیں تو یہ فرق یہ تضاد کیوں؟ امیر کے بچے کے لیے تعلیم اور وسائل اور، اور غریب کے لیے کچھ اور، جبکہ قرضدار برابر کے؟

غریب آدمی اپنے بچے کے تعلیمی اخراجات کے بوجھ کے باعث اپنے بچے کو مدرسے بھیجنے پر مجبور ہے، کبھی حکومت کیوں نہیں سوچتی کہ آخر پرائیوٹ اسکول مالکان راتوں رات کیسے کروڑ پتی بنتے ہیں؟ کیوں ایسے اسکولوں کے خلاف قانون سازی نہیں ہوتی کہیں ایسا تو نہیں کہ قانون سازی کرنے والوں کا اپنا کاروبار اس سے متاثر ہو گا؟

Alt_Australian photographer launches project supporting education in Pakistan2  آج جس کے پاس بھی کچھ پیسے جمع ہوئے وہ دو کو آٹھ کرنے والے اس منافع بخش کاروبار میں سرمایہ کاری کر دیتا ہے۔ بغیر یہ سوچے کہ تعلیم قوموں کی تقدیر بناتی ہے انھیں بناتی یا مٹاتی ہے مگر یہاں فکر ہے کس کو؟ کیا حکومت کو؟ مگر وہ تو کب سے خواب خرگوش کے مزے لے رہی ہے۔ شاید کہ سانحہ پشاور نے اسے جاگنے پر مجبور کر ہی دیا ہے تو خدارا اس پیشے کو دھندے کے گند سے بچایا جائے، ذرا سرکاری اسکولوں کی حالات راز ہی ملاحظہ کی جائے کیا ہے، ورنہ دہشتگرد ایسے ہی پھلتے پھولتے اور پنپتے رہیں گے، ماں باپ بھی اپنی بچے کے مستقبل کی فکر میں اسے اپنی طرف سے تعلیم دینے کے لیے کہیں پیلے اسکول تو کوئی مدارس بھیجتا رہیں گے، جیسے 1970میں اسکولوں کو منافع بخش کاروبار کا درجہ مل گیا ایسے ہی آج راتوں رات نئی تعلیمی پالسیی اپنائی جائے جس کے تحت امیر غریب کا بچہ ایک سا نصاب پڑھے، جہاں وزیر اعظم کا پوتا بھی وہی علم حاصل کرے جو چپراسی کا بچہ کرتا ہے، مدارس کو صرف مذہبی تعلیم تک رکھا جائے اور باقاعدہ رجسٹرڈ اور منظور شدہ نصاب پڑھایا جائے تاکہ ملاں ازم کا لیبل ان پر نہ لگ سکے۔ جو حقیقتاَ مذہبی تعلیم دے رہے ہیں اور ان کا بھی قلع قمع ہو جو مدارس کے غریب و نادر بچوں کو بہتر مسقبل کی آس، پیسہ، شہرت یا جنت کی لالچ میں اپنے مکروہ عزائم میں استعمال کر رہے ہیں۔

ہمارے ملک میں دہشتگروں اور دہشتگردی کی اصطلاح استعمال کرنا رواج بن گیا ہے، لیکن کیا یہ دہشتگردی نہیں کہ اے، او لیول، اور دیگر بورڈز بنا کر نوجوان نسل کے لیے ترقی کے لیے رکاوٹیں حائل کر کے انھیں مایوسی میں دھکیلنے کے بعد الزام ان پر لگایا جائے اور ایسے دماغ ڈھونڈتے ہیں؟ جو اعلیٰ تعلیم لے کر نکلے وہ مہذب وہ قابل جو پیلے اسکول یا مدرسے کا فارغ و تحصیل ہو وہ جاہل وہ ملا،

بچے معصوم ہوتے ہیں جس سانچے میں ڈھالا، ڈھل گئے اب یہ ریاست کی ذمہ داری ہے ایسے اپنا ہتھیار بنا کر ملک و قوم کی قسمت بدل دی جائے یا ایسے ہی بغیر تبدیلی لائے انھیں دشمنوں کی چکی میں پیسنے اور ہمارے مستقبل کو تاریک کرنے کے لیے چھوڑ دیا جائے۔ کم از کم ایسا قومی ایکشن پلان صوبائی اور وفاقی سطح پر بنایا اور نافذ العمل کروایا جائے جو ہر فرق ہر تفریق مٹا دے، تاکہ غریب کا بچہ بھی پیلے اسکول سے نکل کر ڈاکٹر قدیر بن کے نکلے اور ہر دوسرے گھر میں ارفع کریم اور ایان قریشی پیدا ہوں،کیونکہ زرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی
s_shoaibkhan@hotmail.com

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular

گلشن حدید فیز 2،گیس پریشر میں کمی، تندور مافیا کی چاندی

کراچی، گلشن حدید فیز 2 گیس کے پریشر میں کمی، تندور مافیا کی چاندی،اہل علاقہ کے مطابق تقریبا 10 روز سے...

گستاخانہ خاکے، کراچی بار کی سٹی کورٹ تا لائٹ ہائو س ریلی

کراچی ، فرانس میں گستاخانہ مواد کی اشاعت پرکراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے احتجاجی ریلی میں وکلاءکی بڑی تعداد نے...

لانڈھی پروسیسنگ زون میں لگنے والی آگ پر قابو پالیا گیا

کراچی:لانڈھی ایکسپورٹ پروسیسنگ زون میں فیکٹری میں لگنے والی آگ پر قابو پالیا گیا، ریسکیو ذرائع کے مطابق ایکسپورٹ زون میں آگ...

کورنگی میں مبینہ پولیس مقابلہ، ایک ڈاکو ہلاک، دوسرا زخمی

کراچی:کورنگی میں مبینہ پولیس مقابلہ، پولیس کے مطابق کورنگی کبڈی گراؤنڈ 2 ڈاکو اسلحہ کے زور پر لوٹ مارکررہے تھے ،ملزمان نے...