آنکھوں کی روشنی سب کے لیے (ڈاکٹر رئیس احمد صمدانی)

imagesبینائی اللہ کی عطا کردہ ایک عظیم نعمت اور بہت بڑا انعام ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔ آنکھوں کی روشنی کی اہمیت کیا ہے؟ وہ لوگ اچھی طرح جانتے ہیں جو بصارت سے محروم ہوچکے ہوں یا پھر وہ جنہیں اللہ نے اپنی حکمت کے تحت اس نعمت سے محروم ہی رکھا ہو۔ بیشک آنکھیں بڑی نعمت ہے۔ کراچی میں المصطفیٰ ویلفیئر سوسائیٹی جس کے سرپرست اعلیٰ حاجی حنیف طیب ہیں نے ”آنکھوں کی روشنی سب کے لیے“ کے تحت پاکستان کی تاریخ کی سب بڑی آنکھوں کے علاج اور آپریشن کی مہم گاو¿ں و دیہات میں شروع کرنے کا شرف حاصل کیا ہے۔ المصطفیٰ ویلفیئر سوسائٹی کئی سالوں سے ہر سال اپنے برطانیہ مرکز کے تعاون سے ملک کے طول و عرض میں تقریباً ایک لاکھ سے زائد آنکھوں کے مریضوں کا مفت معائنہ، علاج اور آپریشن کیے جاتے ہیں۔ حاجی صاحب کے مطابق گزشتہ چند برسوں میں کوئی چھ لاکھ آنکھوں کے مریضوں کا معائنہ اور چھ ہزار مریضوں کی آنکھوں کے موتیا کے آپریشن کیے گئے ۔

 

پاکستان میں آنکھوں کے معائنہ، علاج اور آپریشن کی یہ مہم شروع کردی گئی ہے۔ آنکھوں کے علاج معالجہ کے کئی ادارے ملک میں سرگرم عمل ہیں ان میں سے ایک المصطفیٰ ویلفیئر سوسائٹی بھی ہے۔ اس کا مرکزی اسپتال کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں یونیورسٹی روڈ پر واقع ہے۔ سوسائٹی کے اس اقدام کو جس قدر سراہا جائے کم ہے۔ دنیا میں بشمول پاکستان بصری امراض کا شکار ہونے والے 80فیصد افراد کا تعلق کم آمدنی والے پسماندہ ، غریب علاقوں سے ہے۔ جہاں بصری صحت سے متعلق معلومات اور علاج معالجہ کا فقدان ہے۔ آنکھوں کی بیماری اور بینائی سے محرومی کی بہت بڑی وجہ غریب پس ماندہ علاقوں تک طبی سہولیات کی عدم دستیابی اور رسائی کا نہ ہونا ہے۔

 

بصارت سے محروم افراد کے حقوق سے آگاہی اور ان کی اہمت کو روشناس کرانے کے لیے ہر سال 15اکتوبرکو” انٹر نیشنل وائٹ کین سیفٹی ڈے“ منا یا جاتا ہے۔ پاکستان میں بھی اس حوالے سے پروگرام ترتیب دیے جاتے ہیں۔ اس دن کی مختصر تاریخ یہ ہے کہ امریکی کانگریس نے جب جانسن امریکہ کے صدر تھے 6اکتوبر1964کو ایک قرارداد منظور کی جس کے مطابق ہر سال 15اکتوبر وکو” انٹر نیشنل وائٹ کین سیفٹی ڈے“ کے طور پر منایا جائے گا۔ دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی اس دن بصارت سے محروم افراد سے اظہار محبت اور ان کے حقوق کی آگاہی کے پروگرام منعقد ہوتے ہیں۔ انٹر نیشنل وائٹ کین سیفٹی ڈے پر 15 اکتوبر کوہی تفصیل سے لکھا جائے گا۔ اس وقت المصطفیٰ ویلفیئر سوسائٹی کی’ ’آنکھوں کی روشنی سب کے لیے “ مہم کے بارے میں آگاہی فراہم کرنا مقصد ہے۔ المصطفیٰ ویلفیئر سوسائٹی کی طرح بینائی سے محروم افراد کو آگاہی فراہم کرنے اور آنکھوں کے مرض کے علاج معالجہ سے متعلق ادروں کو بھی بصارت سے محروم افراد کے لیے مہم کو ملک کے غریب اور پسماندہ علاقوں، گاو¿ں ، دیہات تک وسیع کر دینا چاہیے۔ اس نیک مقصد میں جس طرح بھی شرکت ہو بڑی خدمات ہوگی۔ حاجی حنیف طیب اور دیگر لوگ اور ادارے جو اس قسم کے نیک کام میں مصروف عمل ہیں کی خدمات کو سراہا جانا چاہیے۔

 

دنیا کی کل آبادی میں 39 ملین افرادآنکھوں کے امراض کا شکار ہیں۔ ایک سروے کے مطابق 2.5فیصد پاکستان کی آبادی بصارت کے امراض سے متاثر ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس میں سے80فیصد کو صرف آگاہی فراہم کر کے مرض سے بچایا جاسکتا ہے۔ ڈاکٹر شاہنواز منامی کے مطابق پاکستان میں نابینا افراد کی تعداد 2ملین ہے ان میں سے صرف سندھ میں نابینا افراد کی تعداد340,000ہے۔ ڈااکٹر شاہنواز کا کہنا ہے کہ بینائی سے محرومی کی بنیادی وجوہات کیٹرک اور ذیابیطس (شوگر) کے امراض ہیں۔ ضروری ہے کہ کیٹرک کا علم ہوتے ہی اس کا فوری آپریشن کرالیا جائے۔ اسی طرح ذیابیطس یا شوگر کے مریض علاج اور پرہیز پرخصو صی توجہ دیں۔ کیٹرک اور ذیابیطس کی صورت میں تساہلی ، غفلت سے کام ہر گز نہ لیں۔ ان دونوں امراض کے بروقت علاج سے بصارت جیسی نعمت کو محفوظ رکھا جاسکتا ہے۔

 

آنکھیں ، بصارت، بینائی شاعروں کے بھی محبوب موضوعات رہے ہیںجن سے آنکھوں کی اہمیت اور زیادہ اجاگر ہوتیہے۔آنکھوں کی روشنی کو برقرار رکھنے ، اس میںبہتری لانے کے لیے قرآن مجید کی سورة ق(50) کی آیت22ہر نماز کے بعد بمعہ درود شریف سات بار پڑھ کر دونوں ہاتھوں کے انگو ٹھوںکے پوروں پر دم کر کے آنکھوں پر پھیریں انشاءاﷲ آنکھوں کی ہر تکلیف دور ہوگی۔موتیا بند کے لیے بھی یہ عمل مفیدہے۔ترجمہ ”:پس ہم نے تمہارے اوپر سے تمہاری غفلت کا پردہ ہٹا لیا ہے ۔ اس لیے آج (تو)تیری آنکھوں کی روشنی بہت تیز ہے“۔ علاوہ ازیں کلام مجید کی سورة القدر باوضوہوکر آسمان کی طرف نظر کرکے پڑھی جائے۔ انشاءاﷲ بصارت میں کبھی کمی نہیں ہوگی۔ دوا کے ساتھ ساتھ اپنے پروردگار سے دعا بھی کرتے رہنا چاہیے ۔ اللہ کے کلام اور نبی پاک حضرت محمد ﷺ پر درود پاک کی برکت سے آنکھوں کی تکلیف میں انشاءاللہ بہتری آئے گی، ساتھ ساتھ علاج اور پرہیز بھی جاری رکھیں۔ اللہ بہتر کرنے والا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top