Thursday, February 25, 2021
"]
- Advertisment -

مقبول ترین

گوگل میپ نے صارفین کے لیے ڈارک موڈ پیش کردیا

معروف ٹیکنالوجی کمپنی گوگل نے حال ہی میں دنیا بھر کے صارفین کے لیے گوگل میپ میں "ڈارک موڈ" کو متعارف کروادیا ہے۔ ذرائع...

یکم مارچ سے ملک بھر کے تعلیمی ادارے معمول کے مطابق کھولنے کا اعلان

وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا ہے ملک بھر کے تعلیمی ادارے یکم مارچ سے ہفتے میں...

اداکارہ ایمن اور منیب تنقید کی زد میں آگئے

پاکستان شوبز انڈسٹری کی مقبول جوڑی اداکار منیب بٹ اور اداکارہ ایمن خان شادی کے بعد سے ہی اکثر سوشل میڈیا صارفین کی توجہ...

عمران خان پرانے ساتھی کے انتقال پر رنجیدہ

وزیر اعظم عمران خان نے دو دہائیوں تک ساتھ رہنے والے ساتھی اور پاکستان باکسنگ فیڈریشن کے سابق صدر ظفر زبیری کے انتقال پر...

جمہوریت اور جمہوری اقدار کا فروغ (فخرالدین پشاوری)

”جمہوریت“ عوام کے لیے، عوام پر، عوام کے ذریعے حکومت۔ایک ایسا اجتماعی طرز حکومت ہے جس میں سیاسی نمائندوں کو انتخاب سے لے کر عوام کے لیے وضع کی جانے والی پالیسیوں پر بھی عوامی رائے و خواہشات اثر انداز ہوتی ہے۔ جمہوری نظام حکومت میں نہ صرف یہ کہ آزادی اظہار رائے، مساوات اور دیگر تمام شعبہ ہائے زندگی میں ہر شہری کو روزگار اور ترقی کے یکساں مواقع حاصل ہوتے ہیں بلکہ منتخب حکمرانوں کو بھی عوام کے سامنے اجتماعی مفاد کی ضمانت دیتے ہوئے جواب دینے کی ذمہ داری ادا کرنی پڑتی ہے۔

پاکستان کا سیاسی نظام بھی جمہوری طرز حکومت ہے لیکن بدقسمتی سے یہاں پر جمہوریت اس قدر مضبوط نہیں جتنا کہ ہونا چاہیے۔ ابھی تک پاکستانی عوام بالخصوص بعض مذہبی سکالرز یا رہنما پاکستان میں جمہوری نظام حکومت اور پاکستانی آئین کو اسلام سے متصادم تصور کرتی ہے۔ اسی وجہ سے یہاں پر جمہوریت کی جڑیں کھوکھلی اور آئے روز ملک انتشار و سیاسی بحران سے گزر رہا ہوتا ہے۔ پاکستان میں حالیہ نافذ 1973ءکا متفقہ آئین جس پر تمام مکاتب فکر کے جید علمائے کرام کے دستخط موجود ہیں اس بات کی واضح دلیل ہے کہ پاکستان میں تمام مکاتب فکر کے علماءکرام اور مذہبی اسکالرز جمہوری طرز حکومت کو قبول کئے ہوئے ہیں اور اسی جمہوری عمل کے ذریعے ہی ملک میں اسلامی قوانین کے نفاذ کی جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں۔

پاکستان میں حقیقی معنوں میں جمہوری نظام کی روح کے مطابق نظامِ ریاست چلانے کی ضرورت ہے اور اس کے لیے عوام کو جمہوری عمل اور ووٹ کی اہمیت سے آگاہی فراہم کرنا نہایت اہم ہے۔ انصاف، مساوات، قانون کی بالادستی، معاشی آزادی، اجتماعی بھلائی، سیاسی آزادی اور سب سے بڑھ کر حب الوطنی یعنی پاکستان اور آئین پاکستان سے وفاداری جیسی اہم جمہوری اقدار کو معاشرے میں فروغ دینے کی اشد ضرورت ہے۔ ملکی صورتحال کے پیش نظر جمہوریت اور جمہوری اقدار کے فروغ کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے ادارہ ”عالمی ریسرچ کونسل برائے مذہبی معاملات“کی زیر اہتمام ادارے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر تحمید جان اظہری صاحب کی نگرانی میں تین روزہ ورکشاپ بعنوان ”جمہوریت اور جمہوری اقدار کی فروغ“ کا اہتمام کیا گیا۔ ورکشاپ میں مختلف طبقہ ہائے حیات سے تعلق رکھنے والے فارغ التحصیل طلبہ، پی ایچ ڈی ڈاکٹرز، سماجی کارکنان اور کمیونٹی لیڈرز نے شرکت کی۔ جنہیں مختلف موضوعات جن میں خاص طور پر جمہوریت، جمہوری نظام، اس کے بنیادی عناصر اور ادارے، جمہوری اقدار، اسلام اور جمہوریت، آئین پاکستان اور آئین پاکستان میں اسلامی تصورات، قانون اور معاہدات کی پاسداری، مکالمے کا فروغ اور جمہوری طرزِ حکومت میں سیاسی آدابِ اختلاف اور ووٹ پارلیمنٹ کی اہمیت پر تربیت دی گئی۔

ورکشاپ سے پشاور یونیورسٹی کے شعبہ پولیٹیکل سائنس کے پروفیسر ڈاکٹر عامر رضا، اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر قبلہ ایاز، سابقہ ایڈیشنل سول جج محسن علی ترک اور پشاور یونیورسٹی کے شعبہ مطالعہ پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر فخر الاسلام صاحب نے جمہوریت اور جمہوری اقدار سے متعلق مختلف موضوعات پر تفصیلی گفتگو کی۔پروفیسر ڈاکٹر عامر رضا صاحب نے جمہوریت کی تعریف کرتے ہوئے جمہوریت کی خوبیاں بیان کی کہ جمہوریت عوامی حکومت ہوتی ہے۔ عوام کی رائے سے نمائندے منتخب ہوتے ہیں جو عوام کو جواب دہ بھی ہوتے ہیں۔ جمہوریت کا حسن یہی ہے کہ اس میں عوام اپنے منتخب کردہ نمائندے کے خلاف آواز بلند کرنے کا حق رکھتی ہے۔

ورکشاپ کے دوسرے مہمان ڈاکٹر قبلہ ایاز صاحب نے جمہوریت اور اسلام میں جمہوریت کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے فرمایا کہ ووٹ اسلام میں ایک امانت اور شہادت ہے جس کا صحیح استعمال کرتے ہوئے ہم ایسی قیادت کا انتخاب کر سکتے ہیں جو ہمارے اور ہمارے ملک کے لیے نیک نیتی سے کام کریں۔ جمہوریت میں عوام کو اپنی رائے کی آزادی ہوتی ہے وہ جس کو چاہے اپنا نمائندہ منتخب کر سکتے ہے۔ جمہوریت ہی وہ نظام ہے جس میں عوام ہر پلیٹ فارم پر اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھا سکتے ہیں۔ اسلامی ممالک میں بھی جمہوری نظام قائم ہے اور اسلامی نظام میں بھی جمہور یعنی عوامی رائے کو اہمیت دی گئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مسلمانوں نے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو جمہور کی رائے پر مسلمانوں کا خلیفہ منتخب کیا اور اسی پر جمہور کا اتفاق ہوا۔

اسلامی جمہوری نظام حکومت کی مثال دیتے ہوئے تیونس کے راشد الغنوشی کی قائم کردہ اسلامی جمہوری طرز حکومت کے احوال بیان کیے۔ راشد الغنوشی تیونس یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد میں مصر و دمشق میں زیرِ تعلیم رہے۔ اسی دوران وہ اخوان المسلمون سے متعارف ہوئے اور اس میں ان کی دلچسپی بڑی۔ تعلیم سے فارغ ہوئے تو واپس تیونس آکر “المعارف” کے نام سے ایک رسالہ جاری کیا۔ اخوان المسلمون کے مسلک کی پیروی میں اسلامی طرز عمل کے نام سے ایک سیاسی تنظیم کی بنیاد رکھی اور اسلامی رجحانات کی ترویج کا کام شروع کیا۔ ان کی سیاسی پارٹی کو بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ان کے کارکن گرفتار ہوئے، یہاں تک کہ راشد الغنوشی کو بھی عمر قید کی سزا ہوئی لیکن بعد میں رہا ہوئے۔ انہی کے عوامی جمہوری تحریک کے نتیجے میں آمریت ختم ہوئی اور عام انتخابات کے ذریعے راشد الغنوشی کی قیادت میں اخوان المسلمون اقتدار میں آگئی۔ تیونس میں اخوان المسلمون کی قیادت نے اسلامی جمہوری نظام کے فروغ کی ایک ایسی روشن مثال قائم کی جو عرب دنیا کے دیگر ممالک کے لیے قابل تقلید ہے۔

تیسرے مہمان سابق ایڈیشنل سول جج محسن علی ترک صاحب نے قانون کی بالادستی کے حوالے سے گفتگو فرماتے ہوئے کہا کہ جس ملک کی عدلیہ مضبوط ہوگی وہاں کی جمہوریت مستحکم ہوگی۔ اگر کسی ملک کا نظام درست کرنا ہو تو وہاں کا نظام عدل یعنی عدلیہ کو صحیح، درست اور بروقت فیصلے کرنے ہوں گے۔ آئین پاکستان اور پاکستان میں عالمی قوانین اور معاہدات پر بھی تفصیلی گفتگو فرمائی۔ آئین پاکستان اور آئین پاکستان کا تاریخی پس منظر، آئین پاکستان کی اہمیت اور آئین پاکستان میں اب تک کی گئی ترامیم محسن علی ترک کی گفتگو کا حصہ تھی۔

ورکشاپ کے چوتھے مہمان جناب ڈاکٹر فخر الاسلام صاحب تھے جنہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان کا موجودہ نظام جمہوری نظام ہے۔ جمہوریت میں فیصلے ذرا تاخیر سے ضرور ہوتی ہے لیکن اس میں ملک اور عوام کی خیر ہوتی ہے۔ آئین پاکستان کی رو سے صدر پاکستان کا مسلمان ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے یہ اور اس طرح کے دیگر اسلامی شقوں سے یہ بات سراسر لغو ثابت ہو جاتی ہے کہ جمہوری نظام حکومت اور اسلامی طرز حکمرانی دو الگ الگ طرز حکومتیں ہیں۔ ڈاکٹر فخر الاسلام صاحب نے جمہوری اداروں کے کردار پر بھی روشنی ڈالی اور فرمایا کہ ملک میں جمہوریت کی بالادستی کے لیے پارلیمنٹ، عدلیہ اور میڈیا وغیرہ کا کردار نہایت اہم ہے۔

ہر پریزینٹیشن کے اختتام پر تفصیلی سوال و جواب کی نشست ہوتی۔ جس میں پروفیسر حضرات شرکاءکے مختلف سوالات کے تفصیلی جوابات دیتے۔ پروگرام کے آخر میں خیبرپختونخوا کے وزیراعلی جناب محمود خان کے مشیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی اور صوبائی وزیر جناب ضیاءاللہ بنگش صاحب نے تفصیلی گفتگو فرمائی جس میں انہوں نے نوجوان نسل کو مستقبل کا سرمایہ قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ سیاست میں نوجوانوں کی شرکت سے ہی ہمارے ملک کی تقدیر روشن ہوگی۔ اس نے ٹیکنالوجی کے میدان میں موجودہ حکومت کے کردار اور فاٹا میں انٹرنیٹ کی بحالی کے حوالے سے بھی بات کی۔ آخر میں انہی کے ہاتھوں شرکاءمیں اسناد بھی تقسیم کئے گئے۔ورکشاپ کے اختتام پر شرکا نے اپنے تاثرات میں اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ معاشرے میں جمہوریت کی بالادستی کو یقینی بنانے اور امن و امان کے فروغ کے لیے بھرپور کوشش کریں گے اور پاکستان میں آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور جمہوری اقدار کے فروغ میں اہم کردار ادا کرنے کی کوشش کریں گے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here