غیر اسلامی مہمات بند کی جائیں (حافظ عاکف سعید)

islam women woman girlاسرائیل کی ریاست اپنے ہدف گریٹر اسرائیل کے قیام کے لئے ہر جائز وناجائز ہتھکنڈا استعمال کررہی ہے۔ آپ کو علم ہوگا کہ ان کے اہداف میں سب سے پہلے مسجد اقصیٰ کا انہدام ہے اور اس کے بعد گریٹر اسرائیل کا قیام ہے۔مسجد اقصیٰ کو منہدم کرکے اس کی جگہ بیت المقدس میں ہیکل سلیمانی تعمیر کرنا ہے ۔ گریٹر اسرائیل میںصرف موجودہ اسرائیل ہی نہیں بلکہ اس میں مدینہ منورہ بھی شامل ہے ۔۔ان کا دعویٰ یہ ہے کہ مشرق وسطیٰ کے ایک بڑے علاقے میں ان کی حکومت رہی ہے اورا نہیں ان علاقوں پر مشتمل گریٹر اسرائیل قائم کرنا ہے۔
بانی تنظیم اسلامی ڈاکٹر اسرار احمدؒ نے بہت پہلے اسرائیل عزائم کی نشاندہی کردی تھی۔ وہ اپنے ان اہداف کے لئے آل آﺅٹ جانے کے لئے تیار ہیں۔وہ اب تک مناسب حالات کا انتظار کررہے تھے ۔انہوں نے وہاں کے کس قدر فلسطینی مسلمانوں کو بے دخل کردیا ہے۔ ان کے لئے وہاں رہنا ناممکن بنادیا گیا ہے۔ آج کی سپریم پاور امریکا ان کے عزائم کی تکمیل میں پیش پیش ہے۔ 4مارچ 2019ءکو امریکا نے اسرائیل کے فلسطینی مشن کو اپنے سفارت خانے میں ضم کردیا ہے۔ اب امریکا اور اسرائیل دو قالب نہیں رہے بلکہ یکجان ہوچکے ہیں۔ امریکا کا اصل ہدف اسرائیل کے ناپاک عزائم کی تکمیل میں اسے پوری طرح سپورٹ کرنا ہے۔ اب صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے۔ دو ریاستی نظرئیے کو ہمیشہ کے لئے دفن کردیا گیا ہے۔ پہلے یہاں فلسطینیوں اور اسرائیل کے اس علاقے میں حق تسلیم کیا گیا تھا کہ بنی اسرائیل کے بہت سارے انبیاءو رسل یہاں پر دفن ہیں وغیرہ۔ اب وہ فلسطینیوں پر جس طرح ظلم وستم کے پہاڑ توڑ رہا ہے، یہ بہت ہی خوفناک معاملہ ہے۔
2 نظرئیے کی ابتدا اسرائیل کی فلسطین پر قبضے کے بعد ہوئی تھی۔ شروع میں فلسطین مےںیہودی آبادکاروں کی جائے پناہ کے حوالے سے مذاکرات ہوتے رہے۔ اسرائیل کی 1967ءکی جنگ میں فتح کے بعد بیانیہ کچھ یوں بدلا کہ محکوم فلسطینیوں کو اسرائیل کی ناجائز ریاست میں پناہ دی جائے گی۔ قائد اعظم نے ایک بیان میں اسرائیل کو illegitimate child of west قراردیا تھا۔ اسرائیلی ریاست تو جو کچھ کررہی ہے ،وہ تو کرہی رہی ہے، افسوسناک امر یہ ہے کہ اسرائیل کے ہمسایہ عرب ریاستوں نہ صرف یہ ایک ایک کرکے اس کی جھولی میں گرتے چلے جارہے ہیں بلکہ فلسطینیوں سے اپنا تعلق منقطع کرتے چلے جارہے ہیں۔ اس طرح وہ اللہ کے بڑے عذاب کے مستحق بن رہے ہیں۔
اسرائیل کو گریٹر اسرائیل کے حوالے سے اہل عرب سے کوئی خطرہ نہیں ہے البتہ اس سے ہزاروں میل دور واقع پاکستان اس کی آنکھوں میں کھٹکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حالیہ پاک بھارت کشیدگی کوصرف ہوا دینے ہی نہیں بلکہ اس کی منصوبہ بندی پر عمل درآمد میں بھی اسرائیل کا واضح کردار سامنے آیا ہے۔ ہمیں اللہ کے حکم کے مطابق ہمیںایک طرف اپنی جنگی تیاری پوری رکھنی ہے لیکن اس سے بھی بڑھ کر ہماری اہم ضرورت یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنا تعلق مضبوط کریں۔ ہم اللہ کے ساتھ وفاداری کریں گے تو وہ لازماً ہماری مدد فرمائے گا۔ تب امریکا کیا، اس جیسے ہزاروں آجائیں تو ہمارا کچھ بھی بگاڑ نہ سکیں گے۔ اللہ نے اس کا ایک اشارہ دکھایا ہوا بھی ہے کہ جو االلہ کے وفادار بنے انہیں امریکہ سمیت ساری دنیا مل کر بھی نہتے ہونے کاباوجود زیر نہیں کرسکی لیکن ہماری آنکھیں اب بھی نہیں کھلتیں۔ اللہ نے یہ بھی دکھادیا پھر بھی ہم اللہ کے ساتھ وفاداری کی طرف نہیں آرہے۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہمیں اللہ کی مدد پر بھروسہ ہی نہیں۔
دوسری جانب خواتین کے عالمی دن کے موقع پر جس طرح یہ دن منایا جارہا ہے ، ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ ہماری قوم کس طرف جارہی ہے۔ہمارے ملک کی عاقبت نا اندیش این جی اوز ہمارے معاشرتی نظام کو ختم کرنے پر آنکھیں بند کرکے عمل پیرا ہیں۔ ایسی ہی ایک این جی او عورت فاﺅنڈیشن نامی ہے جوپاکستان کے کئی بڑے شہروں میں عورت کی مادر پدر آزادی کے نام پر تقاریب منعقد کررہی ہے۔ یہ بھی ابلیس کا ایک بڑا ہتھکنڈہ ہے۔ ان تقاریب میں پدر شاہی یعنی مردکی قوامیت کا جنازہ نکالا جائے گا۔ قرآن میں اللہ نے مرد کو جومقام دیا ہے ، اس کے خلاف یہ سارا اقدام کیا جارہا ہے۔سرکاری سرپرستی میں سارے ملک میں یہ سب کچھ ہورہا ہے۔ ہمارا مطالبہ حکومت سے یہ ہے کہ وہ ایسی غیر اسلامی کاروائیوں کو بند کرواکر پاکستان کو صحیح معنوں میں ریاست مدینہ کا نمونہ بنائے۔ اللہ تعالیٰ انہیں اس کی توفیق عطا فرمائے، آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top