سقوط ڈھاکا میں ہندو اساتذہ کا کردار (احمد قیوم)

dhaka16 دسمبر 1971ءکا وہ اذیت ناک دن، جب سقوط ڈھاکہ کا سانحہ پیش آیا۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی اور آزاد بنگلہ دیش کے قیام میں جہاں اندرونی خلفشار نے راہ ہموار کی، وہیں بیرونی طاقتوں نے بھی اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔جس کے نتیجہ میں پاکستان کا ایک بازو اس سے جدا ہو گیا۔
پاکستان کا وجود تو دو قومی نظریہ کی بنیاد پر ہوا۔ کلمہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی چھتری تلے برصغیر پاک و ہند کے مسلمان اکٹھے ہو گئے۔ قائداعظم محمد علی جناح اور ان کے رفقاءکی انتھک محنتوں کے نتیجے میں الگ ریاست کا حصول ممکن ہوا۔ مگر جس مقصد اور بنیاد پر اس پاکستان کو حاصل کیا گیا، شاید اس ملک کو اس راستے پر گامزن نہ کیا جا سکا۔ جس کی وجہ سے حقوق کے نام پر مشرقی اور مغربی پاکستان میں تناﺅ پیدا ہوتا گیا۔ قومیت پرستی کو ہوا ملتی رہی اور بالا آخر اس کا نتیجہ آزادبنگلہ دیش کی صورت میں نکلا۔
پاکستان کو دولخت کرنے میں جہاں اندرونی مسائل اور ناچاکیوں نے اہم کردار ادا کیا، اس کے ساتھ ساتھ بیرونی طاقتوں خصوصا بھارت نے بھی اپنی سازشوں کو شامل رکھا۔ ویسے تو بھارت نے روز اول ہی سے پاکستان کے وجود کو تسلیم نہیں کیا اور ”اکھنڈ بھارت“ کے خواب کی تکمیل کیلئے اس کو توڑنے کے لیے مختلف سازشیں رچاتا رہا ہے۔ بھارت نے مختلف ذرائع سے مشرقی پاکستان کے حالات کو خراب کرنے میں کردار ادا کیا۔ مکتی باہنی کو وجود میں لایا گیا۔ جس کے ذریعے لاکھوں بنگالی اور غیر بنگالیوں کا قتل عام کیا گیا۔ بغاوت پر اکسانے کیلئے کلکتہ سے لٹریچر باقاعدہ طور پر ڈھاکہ اور اس کے ملحقہ علاقوں تک پہنچایا جاتا رہا۔ یہاں تک کہ لوگوں کو اسلحہ بھی فراہم کیا گیا ۔
سقوط ڈھاکہ میںمختلف سازشوں اور عوامل کا عمل دخل تھا اور اس موقع پر مشرقی پاکستان کے ہندو اساتذہ نے اپنا اہم کردار ادا کیا۔قیام پاکستان کے وقت جس طرح لاکھوں مسلمان ہندوستان سے ہجرت کرکے مغربی پاکستان خصوصا صوبہ پنجاب اور سندھ میں آ کر آباد ہوئے۔ یوں ہی مغربی پاکستان میں بسنے والے ہندوﺅں کی اکثریت ہندوستان کی طرف ہجرت کر گئی۔ اس کے برعکس مغربی بنگال اور ملحقہ علاقوں سے مسلمان مشرقی پاکستان کی طرف تو ہجرت کر گئے مگر مشرقی پاکستان میں بسنے والے ہندوﺅں نے اپنے آبائی علااقوں میں رہنے کو ترجیح دی۔ انھوں نے اپنے بیویوں اور بچوں کو تو ہندوستان بھیج دیا مگر خود مشرقی پاکستان میں ہی رہے۔ اب مشرقی پاکستان میں بڑے بڑے سرکاری عہدوں پر ہندو تعینات تھے۔ اسی طرح مختلف سکولوں اور کالجوں کے پرنسپلز اور یونیورسٹیوں میں اعلی عہدوں پر فائز یہ ہندو اساتذہ ہی تھے۔
مشرقی پاکستان کے تعلیمی اداروں میں 95% ہندو اساتذہ تھے جو دو قومی نظریہ کونیست و نابود کرنے کےلئے برسرپیکار رہے۔مغربی حصے کی جانب سے روا ناانصافیوں اور سستیوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے جو نئی نسل کے جذبات بڑھکانے اور طیش دلانے کے کام آتے۔رفتہ رفتہ یہ جذبات نظریات کا حصہ بن گئے۔چونکہ نوجوان طلبا کسی بھی قوم کی طاقت اور سرمایہ ہوتے ہیں اور مختلف تحریکوں میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔اسی لیے ان ہندو اساتذہ نے بنگالی طلبا میں احساس محرومی کو خوب پروان بھی چڑھایا۔طلبا کے اذہان میں مغربی پاکستان کے خلاف منفی نظریات پھیلائے گئے۔اس بناءپر طلبا میں اشتعال انگیزی پیدا کی گئی ۔ احساس محرومی کو بنیاد کر حقوق کے نام پر سڑکوں پر لا کھڑا کیا۔ یہی بنگالی طلبا، جنہوں نے دو قومی نظریہ کی بنیاد پر پاکستان کو حاصل کیا، صوبائی آزادی اور حقوق کے نام پر ریاست کے خلاف برسرپیکار ہو گئے۔ ہندو اساتذہ کی سازشوں کاجادوچل گیا اور یہ بنگالی طلبا اپنے ہی نظریہ ، ملک اور دشمن کی طرف سے رچائی گئی سازش کا حصہ بن گئے اور تحریک کو آگے بڑھانے لگے۔ جس کا نتیجہ بنگلا دیش کی آزادی کی صورت میں نکلا اور پاکستان دولخت ہو گیا۔
سمجھدار افراد اور اقوام وہی ہوتی ہیں جو اپنے ماضی کی غلطیوںسے سبق سیکھیں اور آئندہ ایسی کوتاہیوں سے بچیں۔سانحہ سقوط ڈھاکہ میں جہاں ہندو اساتذہ نے مشرقی پاکستان کے طلبا میں جس طرح دو قومی نظریے کو ختم کر کے پاکستان مخالف جذبات کوپروان چڑھایا۔آج ہمیں ان غلطیوں سے بچنے کی ضرورت ہے۔تاکہ آئندہ کسی ایسے سانحہ سے بچا جا سکے۔
بدقسمتی سے مشرقی بازو کے کٹنے کے بعد بھی دشمن نے پاکستان کا پیچھا نہ چھوڑا اور اس پاک دھرتی کو مزید سانحات سے دوچار کرنے کیلئے اس پر نظریاتی جنگ مسلط کر دی ہے۔میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعے نظریہ پاکستان کو مٹانے کی کوششیں جاری ہیں۔ چونکہ طلبا کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں۔ انہوں نے آئندہ اپنے ملک کی بھاگ دوڑ کو سنبھالنا ہوتا ہے۔ لہٰذا ہماری بنیاد یعنی دو قومی نظریہ کو کھوکھلا کرنے کیلئے تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے طلبا اور نوجوان ان کا پہلا اور خصوصی ہدف ہیں۔ اس حوالے سے پاکستان مخالف لابی سرگرم ہے اور طلبا کے نظریات کو تبدیل کرنے کیلئے نصاب میں وقتا فوقتا اہم تبدیلیاں کی جارہی ہیں۔ او لیول میں نائجل کیلی کی ”دی ہسٹری اینڈ کلچر آف پاکستان“ کتاب کے ذریعے طلبا کو فوج کے خلاف متنازعہ مواد کو پڑھائے جانے کا انکشاف ہوا۔ جس کے خلاف ایکشن خبرمنظر عام پر آنے کے بعد لیا گیا۔
بیکن ہاﺅس سکول ہی میں غیر ملکی مصنف کی کتاب کے ذریعے طلبا کو یہ باور کروانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے کہ پاکستان 1965 کی جنگ جیتا نہیں بلکہ شکست سے دوچار ہوا تھا۔
اسی طرح دی ایجوکیٹرز سکول میں گریڈ 2,4,5,7 اور 8کی سوشل سٹڈیز کی کتاب میں پاکستان کے نقشہ کو کشمیر اور گلگت بلتستان کے بغیر دکھا کر یہ سمجھانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ کشمیر اور گلگت بلتستان پاکستان کا حصہ نہیں ہیں اور طرح پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کی نئی نصاب والی ایسی کتب کو شائع کیاجاتا ہے جس میں سے اسلام، پاکستان اور فوج سے متعلق اسباق اور تصاویر کو نکال دیا گیا(جو بعد ازاں میڈیا پر خبروں کے شائع ہونے کی وجہ سے یہ قدم واپس لینا پڑا۔)کبھی ہمارے تعلیمی اداروں میںآزادی رائے اور آزادی نسواں سے متعلق گھٹیا پروگرامات اور تصاویر دیکھنے کو ملتی ہیں جس کا مقصد طلبا کو اسلام اور نظریہ پاکستان سے دور کرنا ہے۔
ان تمام اقدام کا مقصد ہماری بنیاد اور اساس یعنی دو قومی نظریہ کو ختم کرنا ہے تاکہ ہماری نئی نسل ہندو بنیا کی طرف سے ڈھائی گئی ان سازشوں اور مصائب کو بھلا دے جس کی بنیاد پہ دوقومی نظریہ پیش کیا گیا اور پاکستان کا قیام ممکن ہوا۔
آج ہمارا ازلی دشمن بھارت ہمیں سقوط ڈھاکہ جیسی ایک اور چوٹ پہنچانا چاہتا ہے۔جس طرح مشرقی پاکستان میں ہندو اساتذہ نے اپنا کردار ادا کیا اور طلبا کو بغاوت پر اکسایا۔ اسی طرح آج بھی تعلیمی نصاب کو تبدیل کر کے اور دو قومی نظریہ لا الہ الا اللہ کو ختم کر نے کی کوششیں کی جارہی ہیں، تاکہ وہ اپنے مقصد کو حاصل کر سکیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top