جھوٹی گواہی اور عباد الرحمان (مفتی عبداللطیف)

islamاللہ کے بندوں کے اوصاف میں سے ایک بڑا وصف یہ ہے کہ وہ جھوٹ کی مجلس میں، جھوٹ کی محفل میں، جھوٹی گواہی میں شریک نہیں ہوتے۔ آج ہم اپنا جائزہ لیں، یقیناً ہم میں سے ہر شخص عباد الرحمان بننے کا شوق رکھتا ہے اوریہ شوق ہونا بھی چاہیے،لیکن یہ اس وقت پورا ہو گا جب ہم عباد الرحمان کے اوصاف کو اپنے آپ میں جمع کرنے کی کوشش کریں گے اور ان اوصاف کے ساتھ متصف ہوں گے جو عباد الرحمان کی پہچان کراتے ہیں۔ آج وہ مجلسیں جہاں ہمارا ایمان تازہ ہوتا ہے ، جہاں کتاب و سنت کی بات کی جاتی ہے، وہاں جانے کے لیے ہمارے پاس وقت نہیں۔ علم کے باوجود وہاں جانے سے گریز کرتے ہیں۔ عباد الرحمان کا وصف تو یہ تھا کہ جہاں اللہ کی نافرمانی ہو رہی ہو، جہاںشعائر اللہ کا مذاق اڑایا جا رہا ہو، جہاں طرح طرح کے قہقہے لگائے جارہے ہوں، جہاں لوگوں کی غیبتیں کی جا رہی ہوں ،وہ ان مجلسوں اور نشستوں سے دور رہتا ہے۔ مگرآج افسوس ناک طور پر اس طرح کی مجلسوں میں جانے کے لیے میرے پاس وقت میسر ہوتا ہے اور اس کے برعکس نیک مجلسوں کے لیے ہم وقت نکال نہیں پاتے۔ قرآن کریم میں اللہ کا فرمان ہے کہ میرے نیک بندے کسی بھی غلط مجلس میں نہیں جاتے ۔ دراصل ہم دنیا دار لوگوں کے پاس عزتیں تلاش کرتے ہیں ، حالاں کہ قرآن میں ارشاد ہے کہ ساری کی ساری عزتیں اللہ کے پاس ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ دنیا والے مجھے عزت دیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم عباد الرحمان کے اوصاف سے دور ہو رہے ہیں۔
 رحمان کے بندوں کی بڑی نشانی یہ ہے کہ وہ جھوٹ کی گواہی نہیں دیتے اورجھوٹی مجلسوں میں نہیں جاتے۔ آج یہ غلط افعال تقریباً ہر جگہ عام ہوچکے ہیں۔ جھوٹی گواہیاں دی جا رہی ہیں، موجودنہ ہونے کے باوجود سنی سنائی بات پر یقین کر کے گواہیاں دی جاتی ہیں۔ اللہ فرماتے ہیںکہ عباد الرحمان ایسے نہیں ہوتے۔واضح رہے کہ اگر آپ کسی محفل میں موجود ہیں اور وہاں جھوٹی گواہی دی جا رہی ہے اور آپ خاموش رہتے ہیں تو یہ بھی جھوٹی گواہی کی ایک شکل ہے۔ آپ اس لیے خاموش رہتے ہیں کہ فلاں شخص ناراض ہو جائے گا۔ حالاں کہ اس جھوٹی گواہی کی وجہ سے جس کی عزت پامال ہوئی ہے وہ قیامت کے روز تیرا گریبان پکڑے گا۔ ہم ایک کو راضی کرنے کے لیے دوسرے کو ناراض کردیتے ہیں۔ درحقیقت اس بندے کی ناراضی میں اللہ کی ناراضی شامل ہے۔ اس طرح یہ دہرا نقصان اٹھا ئے گا۔اگر آپ یہ کہہ دیں کہ بات یوں نہیں یوں تھی، ممکن ہے کہ دوسرا شخص ناراض ہو جائے مگر اللہ اس سچی گواہی سے راضی ہو گا اورآپ اپنا ایمان بھی بچا لیں گے اور اس طرح اپنے آپ کو عباد الرحمان میں شامل کر لیں گے۔ ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انسان کبھی گونگا شیطان ہوتا ہے اور کبھی بولنے والا شیطان۔ حق بات بیان کرنے کی بجائے جھوٹ پر خاموش رہنا گونگا شیطان بنا دیتا ہے۔
ایک مرتبہ رسول اللہﷺ سے پوچھا گیا کہ بڑے بڑے گناہ کون سے ہیں؟ فرمایا کہ انسان اللہ کے ساتھ شرک کرے، والدین کو پریشان کرے، کسی ناحق کو قتل کرے اور کسی کے خلاف جھوٹی گواہی دے۔ یہ تمام کبیرہ گناہ ہیں۔ ایک دوسرے موقع پر فرمایا کہ سب سے بہتر میرا دور ہے پھر صحابہ کا دور ہے اور اس کے بعد ایک ایسا دور آئے گا جس میں جھوٹی گواہی سبقت لے جائے گی۔ جبکہ رحمان کے بندے تو وہ ہیں جو جھوٹی گواہی نہیں دیا کرتے۔ ہم ذرا تنہائی میں بیٹھ کر سوچیں کہ صبح سے شام تک کتنی ایسی محفلوں میں بیٹھا ہوں جہاں جھوٹ پہ جھوٹ بولا جا رہا ہو، جس سے اللہ بھی ناراض ہوتا ہے اور وہ بندہ بھی جس کے خلاف جھوٹی اور لغوباتیں کی جاتیں ہیں۔
اس طرح کی محفل میں آپ اس شرط پر جائیں اگر آپ اس برائی کو ختم کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔اس کے برعکس اگر آپ بھی وہاں جا کر ان کے رنگ میں رنگ گئے تو عباد الرحمان کی فہرست سے نکل جائیںگے۔ عباد الرحمان وہ ہیں جو بے ہودہ اور لغو محفلوں کے پاس سے گزرتے ہیں تو اس کا حصہ نہیں بنتے، بلکہ خاموشی سے گزر جاتے ہیں۔ فرمان رسولﷺ ہے جس محفل میں اللہ کا ذکر نہیں ہوتا، کوئی دینی و اصلاحی بات نہیںہوتی، اللہ کے رسولﷺ پر درود نہیں پڑھا جاتا، جب وہ لوگ اس مجلس سے اٹھ کر جاتے ہیں تو پیارے پیغمبرﷺ فرماتے ہیں یہ جہاں بھی بیٹھیں گے یہ بدبودار گدھے کی مانند ہوں گے اور یہ مجلس قیامت کے روز اس کے لیے شرمندگی و ندامت کا باعث بن جائے گی۔
بلا شبہ رحمان کے بندے وہ ہیں جن کو اللہ کی آیات کے ساتھ نصیحت کی جاتی ہے تو وہ ان آیتوں پر اندھے بہرے ہو کر گر نہیں پڑتے، بلکہ اس پر غور و فکر کرتے ہیں۔ کوئی ٹال مٹول سے کام نہیں لیتے، بلکہ غور و فکر و تدبر کرتے ہیں۔ وہ تہیہ کرلیتے ہیں کہ آئندہ قرآن و حدیث پر عمل پیرا ہوں گے اور صرف اپنے خالق و مالک کو راضی کریں گے۔ دنیا ناراض ہوتی ہے ہوتی رہے، مگر رب ناراض نہیں ہونا چاہیے۔رب راضی تو سب راضی۔ اگرچہ موجودہ دور میں یہ اوصاف اپنانے مشکل ہیں مگر اس کا اجر بھی زیادہ ہے۔ اپنے دین پر پکا رہنے والا اور قرآن و حدیث پر عمل کرنے والا، اپنا ایمان بچا لیتا ہے۔ فرمایا اس بندے کو پچاس بندوں جتنا اجر ملے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی قرآن و حدیث پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top