Thursday, October 22, 2020
Home اسلام خاوند خاندان کا نقطہ محور (حلیمہ سعدیہ)

خاوند خاندان کا نقطہ محور (حلیمہ سعدیہ)

imagesدنیا میں کوئی بھی دو انسان یکساں فطرت نہیں رکھتے۔ بعض اوقات یہ فرق نمایاں نہیں ہوتا اور کبھی کبھی یہ فطری تفریق اس قدر زیادہ ہوتی ہے کہ ایک مدت تک ساتھ زندگی بسر کرنے کے بعد ہی مزاج کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ یہاں ہم بات کریں گے معاشرے کی اکائی خاندان اور خاندان کی خشت اول خاوند کی۔
خاوند گھرانے کا ایک ایسا فرد ہوتا ہے جو مسلسل امتحان میں رہتا ہے۔ بطور شوہر، باپ ،بیٹا اور بھائی اس پر آن اتنی ساری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں کہ ان ذمہ داریوں کو نبہاتے نبہاتے وہ خود کو بھی بھول جاتا ہے۔
یہ بات اٹل ہے کہ مختلف قسم کی رشتہ داریوں پر مشتمل ایک گھرانے کو چلانا نہایت ہی مشکل کام ہے۔ اس لئے اگر گھر کا سربراہ حکمت و تدبیر سے کا م لے کر گھرانے کی گاڑی چلائے تو بہت راحت کے ساتھ وہ گاڑی چل سکتی ہے، تاہم اگر صبر، ضبط اور حوصلے کا دامن چھوڑ دے گا تو پھر نا ختم ہونے والی پریشانیاں اس کی دامن گیر رہیں گی۔
گھر میں جھگڑے اور نا چاقی کا ایک بڑا سبب ہوتا ہے گھر کے سربراہ کی اصول و ضابطے کی بجائے رشتوں کو ان کی نزاکتوں کے اعتبار سے پرکھنا اور ان رشتوں کے عظمتوں کے بارے میں جذباتی ہوکر فیصلے کرنا۔ ایک مشترکہ گھر کسی کے ایک فرد کے نہیں بلکہ مختلف رشتے داروں سے مل کر بنتا ہے۔ اس میں ماں بھی ہے باپ بھی ہیں، بہن، بھائی، بیٹا، بیٹی، دادا، دادی اور بعض اوقات نانا، نانی بھی شامل ہوتے ہیں۔ اب ذرا سا غور کیجئے ان میں سے کوئی بھی ایسا رشتہ نہیں جو غیر اہم ہو۔ ہر ایک کا تعلق اور حق اپنی اپنی جگہ اہم ہے۔ ان تمام رشتوں میں بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی کو اپنی رشتہ داریت کے حقوق کی تسکین میں کمی محسوس ہورہی ہو تو ایسے میں پیدا ہونے والے شکوے اور شکایات کا مرکز صرف ایک وہی گھر کا سرابرہ ہوتا ہے جو اکثر اوقات بیٹا یعنی بیوی کا خاوند ہوتا ہے۔
ماں باپ اپنے دکھ اپنے بیٹے کو سنائیں گے، جبکہ بیوی خاوند کو، بیٹا بیٹی باپ کو اور بہن اپنے بھائی کے سامنے دل کے حال کھول کر رکھے گی۔ اس تمام صورتحال کے دوران پیدا ہونے والے منظر نامہ پر اگر غور کیا جائے تووہ گھر کا سربراہ کس نازک ذمہ داری پر فائزہوسکتا ہے، اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔ ایسے میں اس ذمہ داری کو سہولت اور خوش اسلوبی سے نبہانا ایک مشکل کام ہے۔
یہاں ضرورت اس امرکی ہے کہ اگر ماں بہو کی شکایت کرے تو وہ تحقیق کرے۔ اگر بیوی ساس کی شکایت کرے تو بھی تحقیق کرنی چاہیے۔ تحقیق کے بعد جس کی بھی غلطی سامنے آئے اس کو بغیر جذبوں کی کشش میں آئے اپنے رویے کا خوش اسلوبی سے احساس دلایا جائے۔ گھر کا سربراہ کوئی جج نہیں ہوتا کہ وہ سزا قائم کرے، بلکہ کمال حکمت عملی سے تمام معاملات کو سلجھائے۔ اس حکمت عملی کا سب سے اہم راستہ یہ ہے کہ وہ جذباتیت سے کام نہ لے بلکہ مکمل تحقیق کے بعد اپنے رد عمل کا اظہار کرے۔ رشتوں کی کسوٹی پر لگ کر کوئی فیصلہ نہ سنائے ، مثلا اگرماں کہہ کہ ان کی بیوی کا رویہ ان کے ساتھ درست نہیں ہے تو ایسے میں وہ صرف ماں ہونے کے ناطے یہ سمجھ لے کہ ماں ضرور سچ کہتی ہوں گی اور پھر بیوی کو مورد الزام ٹھہرایا جائے۔ ایک ہی رشتے کو خوامخواہ سر پر سوار نہ کرے، کہ ماں کی بات سن کر بیوی کو کہا جائے گا تم ہی غلط ہو، یا بیوی کی محبت میں ماں اور بہن بھائیوں کے خلاف ذہن بنا لے۔
اگر بغیر کسی تحقیق کے ماں کی بات کو ترجیح دے کر بیوی کو زیر عتاب لایا جائے یا پھر بیوی کی بات کو سنتے ہی بہن بھائیوں پر تعیش آجائے تو ایسے میں وہ سربراہ اپنی ذمہ داری کا غلط اور ناجائز فائدہ اٹھا رہا ہوگا۔ ایسے شخص کو کوئی بھی سمجھ دار اور عقل مند نہیں کہہ گے اور نہ ہی ایسی صورت میں کوئی گھر کو صحیح معنوں میں چلا سکتا ہے۔ اسے چاہیے کہ تحقیق کا دامن ہاتھوں سے نہ چھوڑے ، غور و فکر اور پھر اس کے بعد رد عمل کا اظہار کرے۔
محتاط اندازہ کے مطابق عموما دیکھا گیا کہ بیوی ہی بیچاری ہوتی ہے کیوں کہ بیوی کے علاوہ تمام افراد اس گھرانے کے ماضی کے تسلسل سے چلتے آرہے ہوتے ہیں۔ صرف ایک بیوی ہوتی جو ان رشتہ داریوں کے اکھاڑے میں نووارد ہوتی ہے۔ اکثر جگہوں پر اس کی غلطی نہ بھی ہو تو وہ الزام اس کے سر لگا دیا جاتا ہے۔ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ گھر کی روٹین کو سمجھنے میں بیوی کو وقت لگ جاتا ہے۔ باہر کا فرد کہہ کر وہ الزام اس کے سر لگا دیا جاتا ہے۔ اس بیچاری پر سب کی رقابت اور حسد کا نزلہ گھرتا ہے اور قصور وار نہ ہوتے ہوئے بھی وہیں سب کے زیر اعتاب وہی رہتی ہے اور یہ سراسر ظلم ہے۔ بیوی کے خاوند پر حقوق ہیں اور شریعت نہ متعین کیے ہیں۔ اب خاوند اپنی ماں بہن باپ وغیرہ کے ساتھ اپنی رشتہ داری کی بھینٹ بیوی کو نہ چڑھائے اور میانہ روی اختیار کرے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular

کیپٹن صفدرکی گرفتاری تحقیقات کیلئے کمیٹی قائم

سندھ حکومت نے کیپٹن صفدرکی گرفتاری اور پولیس افسران کی چھٹیوں کی درخواست پرتحقیقاتی کمیٹی قائم کردی ، کمیٹی تحقیقات مکمل کرکے...

مسکن چورنگی ھماکہ،مقدمہ گلشن اقبال تھانے میں درج

مسکن چورنگی کے قریب دھماکے سے عمارت کے تباہ ہونے کی ایف آئی آرگلشن اقبال تھانے میں درج کرلی گئی ہے، پولیس...

سندھ حکومت اور پولیس ڈرامہ کررہی ہے، شبلی فراز

کراچی، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز نے ایک بار پھر سندھ پولیس کی چھٹیوں کی درخواست کو ڈارمہ قرار دے...

کراچی، مسکن چورنگی پر دھماکے کے زخمیوں کے علاج کے معاملے محکمہ صحت سندھ نے نجی اسپتال کو خط لکھ کر آگا...