زنانی کی زبان (انیلہ افضال)

female2آج کل سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہے اور تقریباً ہر شوہر اپنی بیگم کو ثواب کی نیت سے بھیج رہا ہے۔ ویڈیو کچھ یوں ہے کہ ایک خاتون گاڑی میں بیٹھتے ہوئے اپنے شوہر نامدار سے کہتی ہیں کہ آپ ہی بتائیں کہ زنانی (عورت) آپ کا گھر سنبھالے، آپ کے والدین کو سنبھالے ، آپ کے بچے سنبھالے، آپ کو سنبھالے، آخر ایک زنانی کیا کیا سنبھالے؟ اور شوہر نامدار فرماتے  ہیں  کہ ”زنانی صرف اپنی زبان سنبھالے“۔ (ویڈیو ختم) یعنی! سچ میں! زنانی اپنی زبان نہیں سنبھالتی۔

بچپن سے لے کر بڑھاپے تک اور پھر اپنی موت تک زنانی اپنی زبان کو بہت اچھی طرح سنبھالتی ہے۔ چھوٹی بچی کو کوئی اگر کچھ کہہ دے ، کچھ غلط سلط یا کچھ نازیبا تو نہ صرف اس بچی کی ماں خود اپنی زبان سنبھالتی ہے بلکہ بچی کو بھی یہی درس دیا جاتا ہے کہ ”کسی سے کچھ مت کہنا “یعنی اسے زبان سنبھالنا سکھا دیا جاتا ہے۔ سکول کالج جاتے ہوے کسی اوباش ، چھچھورے نے کوئی آوازہ کسی تو زنانی نہ صرف وہاں اس جگہ اپنی زبان سنبھالتی ہے بلکہ گھر میں بھی باپ یا بھائی سے تذکرہ کرنے سے گریز کرتی ہے کہ مبادا کچھ اونچ نیچ ہوجائے۔ دفتر ہو یا بازار ، سڑک ہو یا بس ہر جگہ زنانی زبان سنبھال کر رکھتی ہے ۔ شادی ہو جائے تو ساس کے طعنے سننے کو ملیں یا شوہر صاحب کے نخرے اٹھانے ہوں ہر جگہ زنانی زبان سنبھالتی ہے۔

 

اگر مشترکہ خاندانی نظام ہو تو وہ قائم ہی اسی صورت میں رہ سکتا ہے جب زنانی زبان سنبھال کر رکھتی ہے۔ یہ جو کچھ شوہر حضرات کہتے پھرتے ہیں نا کہ میں نے تو بیوی کو جناب دبا کر رکھا ہے مجال ہے کہ اسے اتنی جرات ہو جائے کہ میرے گھر والوں کے خلاف کچھ بول جائے۔ تو ان کی خدمت میں عرض یہ ہے کہ آپ نے بیوی کو دبا کر نہیں رکھا اس کرموں والی نے زبان دانتوں تلے دبا کر رکھی ہے ورنہ اگر وہ آپ کے پیارے گھر والوں کے بارے میں کچھ بولے گی تو زیادہ سے زیادہ کیا ہو گا، پہلے آپ اسے ڈانٹ دیں گے پھر دو تھپڑ جڑ دیں گے مگر اس بیچ وہ اپنی بات کہہ چکی ہو گی 2، 4 ،10بار ایسا ہوگا مگر آہستہ آہستہ وہ باتیں آپ کے دل میں جگہ بنانے لگیں گی کیوں کہ اگر پانی کا قطرہ بھی مسلسل گرتا رہے تو پتھر میں بھی سوراخ ہو جاتا ہے یہ تو پھر آپ کا دل ہے۔

 

شکریہ ادا کیجیے اپنی زنانی کا کہ اس نے زبان سنبھالی ہوئی ہے ورنہ آپ کے گھر والوں کا شمار ملائکہ میں نہیں ہوتا آپ کی بیوی کو بھی ان سے کچھ شکایات ہو سکتی ہیں، اسے بھی کسی کی بات بری لگ سکتی ہے اور وہ ایک عام مقولہ ہے” اگر عورتیں اپنی زبان بند نہ رکھیں (راز نہ رکھیں) تو مرد معاشرے میں سر اٹھا کر نہیں چل سکتا“۔ بہرحال آج بھی بہت سے گھر اس لیے آباد ہیں کہ زنانی نے زبان سنبھالی ہوئی ہے۔ بہت سے خاندان جڑے ہوئے ہیں کیوں کہ زنانی اپنی زبان سنبھالتی ہے۔

 

بہت سے رشتے اس لیے قائم ہیں کہ ایک عورت اپنی زبان سنبھالے ہوئے ہے۔اچھائیاں برائیاں سب میں ہوتی ہیں نہ تومرد صرف خوبیوں کا مرقع ہے اور نہ ہی عورت صرف برائیوں کی ذمّہ دار ہے ۔ خدارا ! ہر وقت مذاق اڑانے اور عورت کو کم تر ثابت کرنے میں اپنی توانائیاں صرف کرنے کی بجائے اسے اس کا جائز مقام دیجئے اور یاد ہے نہ اماں حوا کے بنا بابا آدم جنت میں بھی بے چین تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top