لاوڈ اسپیکراور بے آواز لاٹھی (سفیر چودھری)

fire womenکہا جاتا ہے کہ اللہ کی لاٹھی بڑی بے آواز ہوتی ہے۔ ایسا مظلوم جس کی دنیا میں کوئی آہ تک سننا گوارا نہ کرتا ہو اللہ تعالی اس کی ضرور سنتا ہے اور اسی دنیا میں اس کا انصاف کرتا ہے۔ بے شک وہی سب سے بڑا انصاف کرنے والا ہے۔
6 جولائی2012 احمد پور شرقیہ میں غلام عباس نامی ایک ذہنی مریض کو تھانے لایا جاتا ہے۔ اس پر یہ الزام تھا کہ اس نے قرآن پاک کے اوراق جلائے تھے۔ علاقے کا ایس ایچ او ایک سمجھدار اور پڑھا لکھا آدمی تھا اس نے ابتدائی تفتیش کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا کہ غلام عباس ذہنی مریض ہے اور اس کو پتا بھی نہیں کہ اس نے کیا کیا ہے چنانچہ اس کو چھوڑنے کا فیصلہ کیا مگر اس کو پکڑ کر لانے والے اہل علاقہ مسجد کی طرف بھاگے۔ امام مسجد نے لاو ڈ اسپیکر پر اعلان کیا کہ قرآن پاک کی بے حرمتی کی گئی ہے لہذا اہل علاقہ جلد از جلد پہنچ کر مجرم کو خود انجام تک پہنچائیں۔ اعلان کا سننا تھا کہ گرد و نواح سے بچے، بوڑھے اور جوان ہاتھوں میں کلہاڑیاں اور ڈنڈے تھامے تھانے پہنچے اور بغیر کچھ سنے حوالات توڑ کر غلام عباس کو باہر نکالا اور گھسیٹتے ہوئے ہائی وے پر لے آئے۔ بیچ سڑک پر ایک ذہنی مریض کو پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی گئی اور دو ہزار لوگوں کا مجمع اس پر پتھر برساتارہا اور یوں ایک ذہنی مریض کو ایک ایسے فعل پر جلا کر خاک کر دیا گیا جس کا وہ مطلب تک نہ جانتا تھا۔

 

25 جون 2017 ٹھیک پانچ سال بعد احمدپورشرقیہ میں اسی ہائی وے پر 40 ہزار لیٹر پٹرول سے بھرا ایک ٹینکر موڑ کاٹتے ہوئے گر جاتا ہے اور اس سے پٹرول بہنا شروع ہو جاتا ہے۔ اسی مسجد کے لاو ڈ اسپیکر سے پھر اعلان ہوتا ہے کہ پیٹرول کا ایک ٹینکر الٹ گیا ہے اہل علاقہ جلدازجلد پٹرول لوٹنے پہنچ جائیں۔ ایک بار پھر عورتیں، بچے، بوڑھے گھر کے برتن اٹھا کر پٹرول جمع کرنے آتے ہیں۔ لوگوں کی ایک بڑی تعداد پٹرول اکھٹا کرنے میں مصروف ہوتی ہے کہ کے ایک دھماکے سے ٹینکر پھٹ جاتا ہے اور ہر طرف آگ لگ جاتی ہے۔ ٹھیک اسی جگہ پر جہاں غلام عباس کو جلایا گیا تھا 155 سے زائد لوگ جل کر خاکستر ہو جاتے ہیں۔
یہ دو واقعات صرف ایک مثال ہیں ایسی بہت سی مثالیں روز ہمارے سامنے آتی ہیں مگر ہم غور نہیں کرتے یا شاید سمجھ نہیں پاتے۔ یاد رکھیے جس کا کوئی نہیں ہوتا اس کا اللہ ہوتا ہے اور اللہ اپنے حقوق کی معافی دے سکتا ہے مگر بندوں سے کی گئی زیادتی کو کبھی معاف نہیں کرتا۔ مظلوم کی آہ وہ کبھی بھی رد نہیں کرتا۔ ہم اشرف المخلوقات ہیں اور ہمیں سوچنے اور صحیح غلط کا فرق کرنے کی صلاحیت عطا کی گئی ہے۔ کسی بھی اسی بات سے جس سے انتشار پھیلنے کا خطرہ ہو کو آگے پھیلانے سے پہلے اس پر خوب تحقیق کرکے پھر کسی نتیجے پر پہنچیں اور بلاوجہ انتشار سے اجتناب کریں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ نہ چاہتے ہوئے ہم کسی کی دل آزاری یا کسی کے ساتھ زیادتی کر بیٹھیں اور پھر کل اس کی آہ ہماری دنیا و آخرت دونوں کو تباہ کر ڈالے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top