Monday, November 23, 2020
- Advertisment -

مقبول ترین

وزیراعلیٰ کی سربراہی میں سیف سٹی اتھارٹی قائم

کراچی سمیت سندھ کے برے شہروں میں سیف سٹی پروجیکٹ شروع کرنے کےلئے اتھارٹی قائم،اتھارٹی کے سربراہ وزیراعلیٰ...

ایس ایچ او شپ کا امتحان پاس کرنےوالے 4 اہلکاروں کی تعیناتی

آئی جی سندھ مشتاق مہر کی جانب سے بنائی گئی کمیٹی و پالیسنگ کے تحت ایس ایچ او...

سڑک پر کچرا کیوں پھینکا،21 افراد گرفتار

مقررہ جگہوں کے علاوہ کچرا پھینکنے پر 21 افراد جیل روانہ ،ضعلی انتظامیہ کے مطابق نارتھ کراچی سے...

آصف زرداری کی طبیعت اچانک بگڑ گئی، اسپتال داخل

پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین و سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری کی طبعیت اچانک بگڑ گئی، پی...

ساحل پر بڑھتی آلودگی، مچھلیاں ناپژد، ماہی گیر بے روزگار ہونے لگے

fishing sea1کراچی: کراچی کے ساحل پر بڑھتی آلودگی سے مچھلیاں ناپید ہونے لگی ہیں ، چھوٹے پیمانے پر مچھلی پکڑنے والے ماہی گیروں کے لیے شکار کرنا مشکل ہوگیا، سمندری آلودگی کے حوالے سے سروے کے دوران ماہرین نے بتایا ہے کہ سمندر میں بڑھتی ہوئی آلودگی کے پیش نظر سمندر میں 10 ناٹیکل میل کے اندر مچھلی ناپید ہوگئی ہے جو چھوٹے پیمانے پر مچھلی پکڑنے والے ماہی گیروں کے لیے سنگین معاشی مسئلہ بن گیا ہے۔ سمندر میں آلودگی کے سبب وائٹ پمفرے، پمتوسمیت دیگر نایاب نسل کی مچھلیاں تقریباً ناپید ہوچکی ہیں، ملکی و غیر ملکی تنظیموں نے پاکستان کے ساحل پر بڑھتی ہوئی آلودگی کو سمندری آبی حیات کے لیے خطرناک قرار دیا ہے، ابراہیم حیدری کے ماہی گیر احسن نے بتایا ہے کہ گزشتہ 10 سال کے دوران کراچی کے ساحلی علاقوں میں مچھلی پکڑنے کے کام میں نمایاں کمی آگئی ہے بعض اوقات پورا دن سمندر میں جال بچھانے کے باوجود صرف کچرا حاصل ہوتا ہے، فیکٹریوں کا کیمیکل زدہ پانی اور سیوریج کا پانی اور بحری جہازوں سے بہنے والا تیل ٹنوں کے حساب کے سمندر برد کیے جانے کے باعث سمندری آلودگی بڑھ رہی ہے ۔ کیماڑی، شیری جناح کالونی، مچھر کالونی، لیاری اور صدر کا سیوریج کا پانی فلٹر کیے بغیر سمندر میں پھینکا جارہا ہے جس سے مچھلی سمیت دیگر سمندری آبی حیات ناپید ہوگئی ہے، ماہی گیروں کے مطابق گہرے سمندر میں بھی مچھلی پکڑنے کے لیے پورا دن انتظار میں گزرجاتا ہے مگر سمندر میں ٹنوں کے حساب سے کچڑا پھینکے جانے اور زہریلا پانی شامل ہونے سے مچھلی کا شکار دن بہ دن مشکل ہوتا جارہا ہے۔ جس کا براہ راست اثر ماہی گیروں کی معاشی زندگی پر بھی پڑ رہا ہے، کیماڑی تا منوڑہ کے کنارے بیٹھے ماہی گیر سمندر کا پانی سیاہ ہونے کے سبب مچھلی ناپید ہونے کی داستان سناتے ہیں، لیاری اور ملیر ندی کا 450 ایم جی ڈی سیوریج کا پانی فلٹر کیے بغیر روزانہ سمندر برد کیا جارہا ہے ، فیکٹریوں اور صنعتوں سے نکلنے والے کیمیکل زدہ زہریلا فضلہ اور پانی سمندر میں شامل کیے جانے سے سمندری آبی حیات ختم ہورہی ہے کراچی کے ساحل کا سیکڑوں کلومیٹر علاقہ ڈیڈ زون بن گیا ہے جس کی وجہ پاکستان سے مچھلی کی برآمدات میں بھی نمایاں کمی آرہی ہے۔
Open chat