Tuesday, October 27, 2020
Home کالم /فیچر عبدالحفیظ خٹک سیلاب اور رفاہی جماعتیں (حفیظ خٹک)

سیلاب اور رفاہی جماعتیں (حفیظ خٹک)

Final flood 2014ملک میں حالیہ سیلاب واضح طور پر ملکی کی تاریخ کا بدترین سیلاب ہے۔ اس سیلاب نے قریبا پورے پنجاب کو ہی اپنی لپیٹ میں لیا، سینکڑوں افراد کی زندگیاں اس سیلاب کی نظر ہوئیں، لاکھوں بے گھر ہوئے، کروڑوں کی املاک کا نقصان ہوا، مال و مویشیوں کی اموات، اور ان ہی جیسے بے شمار نقصانات اس برس کے سیلاب کے نتیجے میں ہوچکے ہیں۔ ابھی یہ سلسلہ ختم نہیں ہوا۔بلکہ اس کے نتائج ابھی تک سامنے آ رہے ہیں۔
قطع نظر اس کے کہ سیلاب کے جملہ وجوہات پر بات کی جائے، اس کی اب ضرورت نہیں۔ ہمارے ارباب اختیار خواہ وہ سند ھ کے ہیں یا پنجاب کے یا پھر مرکزی حکومت کے۔ انہیں عوام کے جان و مال سے کوئی دلچسپی ہی نہیں۔ اگر ذرا برابر بھی ہوتی تو ملکی تاریخ کے پہلے سیلاب کے بعد آئندہ سیلاب سے بچنے کی تدابیر نہ صرف سوچی جاتیں بلکہ ان پر عمل کیا جاتا۔ لیکن یہاں انکی ترجیحات کچھ اور ہوتی ہیں۔ حکمرانوں نے یہ تو طے کیا ہوتاہے کہ سیلاب کے دوران کس کس متاثرہ علاقے کا دورہ کرنا ہے اور کیسے کپڑے پہن کر عوام سے کس انداز میں بات کرنی ہے۔ کتنے ہیلی کاپٹر کے ذریعے دورے کرنے ہیں اور کتنے بغیر ہیلی کاپٹر کے۔
اسی طرح سے متاثرہ عوام کو امداد فراہم کرنی ہے تو اس کا کیا طریقہ کار ہوگا، اندرون ملک اور عالمی سطح پر امداد کے حصول کا طریقہ کیا ہوگا۔اس امداد میں کتنا واقعتا استعمال کی کیا جانا ہے اور کتنا اپنے اور اپنے بیٹوں ، عزیزوں ، و دیگر کے بینکوں میں رکھنا ہے۔ یہ سارا ایک سرکل ہے جو ہر آنے والی حکومت اپنے انداز میں پورا کرتی ہے۔ ملک کے غریب عوام نہیں دو وقت کی روٹی بھی صحیح سے میسر نہیں ہوتی وہ سارا سال محنت کر کے اناج اگاتے ہیں اور غلط منصوبہ بندی کے باعث آنے والا سیلاب انکا سب کچھ بہا لے جاتا ہے۔
ramadan-or-not-hunger-hits-pakistan-flood-victims-2010-08-12_lسیلاب کے متاثرین کیلئے جہاں حکومت نمود و نمائش کیلئے امدادی کام کرتی ہیں ، عارضی کیمپ بناکر اس میں متاثرین کو کھانا کھلایا جاتا ہے ، کچھ امداد بھی کر دی جاتی ہے تاہم جونہی حکومتی فرد کا وہ دورہ ختم ہوتاہے وہ کیمپ منٹوں میں ختم کر دیا جاتاہے۔ میڈیا نے حالیہ سیلاب میں متعد د ایسی اطلاعات ثبوت کے ساتھ عوام کو دیکھائیں۔ لیکن اس کے باوجود متاثرین کی مدد کا حق ادا نہیں جاتا۔
سیلاب ہو، زلزلہ ہو، یا کوئی اور ناگہانی آفت وطن عزیز کی پاک فوج ہر موقع پر اپنے فرائض منصبی بھر پور انداز میں نبھاتے ہیں۔ فرائض کے انجام دہی میں بسا اوقات کئی جوانوں کی زندگیا ں بھی کام آجاتی ہیں ، لہٰذا فوج کا کردارحالیہ سیلاب میں امدادی سرگرمیوں کے حوالے سے قابل تحسین ہے۔
یہاں ان تمام غیر سرکاری تنظیموں کا ذکر بھی از حد ضروری ہے جو ملک اور بیرون ملک کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر امدادی سرگرمیاں شروع کردیتے ہیں۔ حالیہ سیلاب ہو یا ماضی میں آنے والے دیگر سیلاب اور زلزلے کے متاثرین ان تنظیموں نے ہمیشہ بھرپور انداز میں امدادی سرگرمیاں کیں۔ BxaHj0YIgAAbAsBکسی بھی ایسی ناگہانی صورتحال میں وہ این جی اووز جو نام نہاد ہوتی ہیں ان کردار سب کے سامنے آجاتا ہے۔ وہ کاغذی این جی اووز دیکھانے کیلئے شہر میں جابجا کیمپ قائم کردیتی ہیں جن پر عوام امدادی سامان پہنچاتے ہیں ،اس سامان کا کتنا
حصہ مستحق افراد تک پہنچتا ہے یہ بات بھی اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی۔ یہی وجہ ہے کہ عوام الناس کا ایسی نام نہاد این جی اووز پر اب اعتماد اٹھتا جارہاہے اور چند ہی تنظیمیں رہ گئی ہیں جن پر عوام اعتماد کرتے ہوئے نہ صرف اپنی بلکہ اوروں سے بھی لے کرامداد ،ان تنظیموں کے کیمپوں تک پہنچاتی ہے۔
01ان چند تنظیموں کی خدمات کا اعتراف نہ صرف حکومتی سطح پر کیا جاتا ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی انکی خدما ت کو تسلیم کیا جاتاہے۔ حالیہ سیلاب زدگان کیلئے بھی ان تنظیموں کے امدادی سرگرمیاں روز اول سے شروع ہو کر تاحال جاری ہیں۔
عوامی خدمت کے جذبے کے تحت سیاسی سرگرمیوں کے ساتھ سیاسی جماعتیں اپنی ذیلی تنظیمیں بناتی ہیں۔ جبکہ ایسی کئی غیر سیاسی تنظیمیں بھی ہیں جو بڑے اور بھر پور انداز میں خدمات طویل مدت سے سرانجام دے رہی ہیں۔
10511305_435839086557085_6821835309666259846_nالخدمت ، خدمت خلق، فلاح انسانیت، میمن ویلفیئر ، عالمگیر، سیلانی، سیمت دیگر کئی تنظیموں کے سیلاب زدگان کی امداد کیلئے کراچی بھر میں کیمپ لگائے۔ ان کے علاوہ بھی این جی اووز نے امداد جمع کی اور اپنے طور پر متاثرہ افراد تک پہنچائی۔ سیلاب زدگان کی امداد کرنے والے ایسے افراد بھی بڑی تعداد میں ہیں جو سامنے آئے بغیر پس پردہ رہ کر امدادی سرگرمیاں کرتے ہیں۔ انفرادی اور اجتماعی طور پر امداد جمع کرنا اور اسے متاثرین تک پہنچانا ان کا اصل مقصد ہوتاہے۔

حالیہ سیلاب کے نتیجے میں فلاح انسانیت فاﺅنڈیشن اور الخدمت نے بھرپور اندازمیں متاثرین کی مدد کی۔ فلاح انسانیت جو جماعة الدعوکا رفاہی ادارہ ہے اس کے سربراہ حافظ محمد سعید نے خود سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا۔ الخدمت ، جو کہ بنیادی طور پر جماعت اسلامی کی تنظیم ہے اور سابق ناظم کراچی نعمت اللہ خان اس کے سرپرست ہیں، انہوں نے بھی امدادی سرگرمیوںکا ازخود معائنہ کیا۔ اس کے ساتھ امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے بھی نہ صرف متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا بلکہ فلاح انسانیت اور الخدمت کے کیمپوں کا خصوصی دورہ کیا اور دونوں تنظیموں کے رضاکاروں کے خدمات کو سراہا۔
al-khidmatضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت سیلاب سے بچاﺅکیلئے ترجیحی بنیادوں پر مستقل انتظامات کرے۔ حالیہ سیلاب کے متاثرین کے متاثرین کی آبادکاری سمیت انکی مکمل مالی معانت کرے، اس کے ساتھ فلاح انسانیت اور الخدمت جیسی تنظیموں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے ان کے رفاہی کاموں کو مزید موثر بنانے کے لیے انہیں مکمل انفرااسٹریکچر فراہم کرے۔

hafikht@gmail.com

حفیظ خٹک
Biographical Info

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular

گساخانہ خاکے، کراچی بار کی بدھ کو ہڑتال کا اعلان

کراچی ، فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کامعاملہ کراچی بارایسوسی ایشن نے بروزبدھ عدالتوں میں ہڑتال کااعلان کردیا کل سٹی...

اختر کالونی، پسند کی شادی کرنےوالے نوجوان پر حملہ

کراچی، اختر کالونی میں پسند کی شادی کرنے نوجوان کا جرم بن گیا، نامعلوم افراد نے نور نامی نوجوان کو فائرنگ کرکے...

تنخواہوں کی عدم ادائیگی، ڈاکٹرز کا کے ایم سی آفس پر مظاہرہ

کراچی، شہری حکومت کے زیر انتظام اسپتالوں کے ڈاکٹرز نے سات ماہ سے تنخواہیں نہ ملنے کےخلاف کے ایم سی آفس...

12 ربیع الاول، ڈی جی رینجرز کے زیر صدارت اجلاس

کراچی ، 12ربیع الاول کےحوالےسے رینجرزہیڈ کوارٹرمیں اجلاس ،12 ربیع الاول کے حوالے سے سیکورٹی پلان کا جائزہ لیا گیا، اجلاس...