Thursday, October 22, 2020
Home Uncategorized حب الوطنی کی قیمت(محمد سمیع)

حب الوطنی کی قیمت(محمد سمیع)

hangحب الوطنی کی کوئی قیمت نہیں لگائی جاسکتی۔ آپ فضائیہ کے جانباز سرفراز رفیقی کی حب الوطنی کی کیا قیمت لگائیں گے جنہوں نے 1965کی جنگ کے دوران اپنی جان پر کھیل کر بھارت میں ایک ائیر پورٹ پر اپنے طیارے کو کریش کرکے وہاں موجود بھارتی فضائیہ کے طیاروں کو تباہ کرتے ہیں حالانکہ کہا جاتا ہے کہ انہیں اس کا آپشن دیا گیا تھا کہ وہ اپنے طیارے سے بیل آﺅٹ کرجائیں۔ اسی طرح پاک فوج کے ان جوانوں کی حب الوطنی کی کیا قیمت لگائیں گے جو چونڈہ کے محاذ پر بھارتی ٹینکوں کے سامنے اپنے جسموں پر بم باندھ کر لیٹ گئے تھے تاکہ وطن کی آبرو رہ جائے ۔لیکن ایک طرف وہ حب الوطن افراد ہیں جو بنگلہ دیش میں دار پر لٹکائے جارہے ہیں کیونکہ انہوںنے 1971کی جنگ میں پاکستانی کی حیثیت سے پاکستانی فوج کا ساتھ دیا تھا۔
رہا یہ الزام کہ انہوں نے بنگالیوں کو قتل کیا تھا تو اس الزا م کی کوئی حیثیت نہیں کیونکہ سقوط ڈھاکہ کے بعد وہاں کے غیر بنگالی شہریوں کو وہاں کی جیلوں میں قیدیوں کی مطلوبہ تعداد سے تین چار گنا افراد سے بھر دیا گیا تھا ۔ حالانکہ ان میں شاید انگلیوں پر گنے جانے والی تعداد ان کی ہوتی تھی جنہوں نے عملی طور پر پاک فوج ساتھ کا ساتھ دیا ہوگا۔ البتہ ان سب کے دل پاک فوج کے ساتھ تھے۔ ان سب پر یکساں فرد جرم عائد کیا گیا تھا جس میںان پر لوٹ مار، قتل و غارت، جنسی جرائم وغیرہ کے الزامات تھے اور یہ تمام جرائم اس دو ڈھائی سال کے معصوم بچوں پر بھی لگائے گئے تھے جو اپنے والد یا دیگر رشتے داروں کے ساتھ وہاں پہنچ گئے تھے۔
پاک فوج کا ساتھ دینے والوں میں بلا تخصیص بنگالی و غیر بنگالی تھے جو ایسٹ پاکستان سول آرمڈ فورسز اور البدر اور الشمس نامی تنظیموں میں شامل تھے۔ آج ہمارے کچھ ”محب وطن“ جماعت اسلامی پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ الشمس اور البدر اسی کی قائم کردہ تنظیمیں تھیں اور ان میں شامل لوگوں نے بنگالیوں کا قتل عام کیا تھا حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ جماعت اسلامی وہاں بھی باطل قوتوں کے خلاف سینہ سپر تھی اور یہاں بھی ہے اوروہاں کی مذکورہ تنظیموں میں بنگالی پاکستانی بھی شامل تھے۔ حیرت ہے کہ ہمارے ان ناام نہاد ”محب وطن“ دانشوروں نے ان بنگالیوں پر اپنے ہی بنگالی بھائیوں کے قاتل ہونے کی بات نہیں کی۔
اس وقت صورتحال یہ ہے کہ بنگلہ دیش میں دو قسم کے طبقات پاکستان سے اپنی حب الوطنی کی سزا بھگت رہے ہیں۔ ایک تو وہ غیر بنگالی ہیں جنہیں عرف عام میں بہاری کہا جاتا ہے حالانکہ ان میں بیشک عظیم اکثریت بھارت کے صوبہ بہار سے ہجرت کرنے والوں کی ہے لیکن ان میں نہ صرف بھارت کے دیگر علاقوں کے مہاجروں کے علاوہ اس وقت کے مغرب پاکستان کے لوگ بھی شامل ہیں اور جو گزشہ 43 سال سے وہاں کے کیمپوں میں محصور ہیں اور شیڈولڈ کاسٹ سے بھی ان کی کمتر حیثیت حاصل ہے اور چونکہ انہیں ہماری کسی حکومت نے آج تک پاکستانی تسلیم نہیں کیا لہٰذا وہ وہاں جانوروں سے بدتر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ حالانکہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے قیام پاکستان کے نتیجے میں جان و مال اور عزت و آبرو کی بیمثال قربانی پیش کی ۔ ان کے لئے کیسے ممکن تھا کہ وہ مشرقی پاکستان میں سورش کے زمانے میں علیحدگی پسندوں کا ساتھ دیتے۔ انہوں نے قیام پاکستان کے بعد دفاع وطن کے لئے ایک بار اسی قربانی کو دوہرایا۔
دوسرے وہ بنگالی ہیں جنہوں نے کسی بھی حیثیت سے پاکستانی ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے ملک کے دفاع کا خدمت انجام دیا تھا خواہ وہ جماعت اسلامی کے لوگ ہوں یا کسی بھی اور تنظیم سے وابستہ رہے ہوں۔ ان کی حب الوطنی کا یہ حال ہے کہ انہوں نے نہ صرف دفاع پاکستان کا فریضہ انجام دیا بلکہ بنگلہ دیش قائم ہونے کے نتیجے میں وہاں ہی رہائش اختیار کرکے اپنے ملک سے حب الوطنی کا مظاہر ہ کرتے ہوئے وہاں کی سیاسی اور معاشی ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔ان میں سے کچھ لوگ تختہ¿ دار ہر چڑھائے جارہے ہیں ایک ایسے نام نہاد عالمی ٹریبونل کے ذریعے جس کو دنیا ان شرائط پر مبنی نہ ہونے کی وجہ سے جس کی حامل ایک عالمی ٹریبونل تسلم نہیں کررہی۔ایک طرف تو ان پر وہ ظلم ہورہا ہے اور دوسری جانب ہماری حکومت کا ظلم دیکھیں کہ وہ ان دار پر چڑھنے والوں کے معاملے کو بنگلہ دیش کا اندرونی معاملہ قرار دے رہی ہے۔
خواجہ نوید احمد کراچی کے ایک معروف وکیل ہی نہیں، ایک سینئرکالم نگا ر بھی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں توفیق بخشی کہ وہ بنگلہ دیش کے عالمی ٹریبونل کے اس ظلم کا اپنے کالم میں نہ صرف ذکر کریں بلکہ اس حوالے سے حکومت کواپنی جانب سے ظلم کے اس سلسلے کو روکنے کے لئے تجویز بھی پیش کریں۔ لیکن کون سنتا ہے فغان درویش کے مصداق مجھے یقین نہیں کہ حکومت ان کی تجویز کو درخور اعتناءبھی سمجھے گی۔ وہ تحریر فرماتے ہیں:
”مجھے خارجہ امور سے زیادہ واقفیت نہیں ہے مگر پھر بھی عام شہری کی حیثیت سے میرے ذہن میں یہ خیال ابھرتا ہے کہ ان لوگوں کو پاکستان اور پاکستانی افواج کا ساتھ دینے پر سزائیں دی جارہی ہیں ۔کیا ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ اگر بنگلہ دیش کو یہ شہری منظور نہیں تو ہمیں دے دئیے جائیں۔ انہوںنے ہمارا ساتھ دیا تھا ، انہیں جنگی قیدی سمجھا جائے ۔پوری دنیا میں جنگی قیدیوں کے تبادلے ہوتے ہیں ،چونکہ یہ لوگ اس وقت پاکستان کے ساتھ تھے تو ہم ان کو اب بھی پاکستانی تصور کرتے ہیں ، انہیں جنگی قیدی سمجھ کر ہمارے حوالے کیا جائے۔ اگر ہم چاہیںگے تو خود مقدمہ چلالیں گے۔ غیروں کے ہاتھوں پاکستان دوستوں کا جنگی جرائم میں نہ تو مقدمہ ہمیں منظور ہے اور نہ ہی کوئی سزا۔ اگر ہم نورالامین کو کراچی میں دفنا سکتے ہیں تو جماعت اسلامی کی امیر کو بھی پاکستان میں رکھ سکتے ہیں۔ میرا حکومت کو مشورہ ہے کہ اپنے وزارت خارجہ کے ماہرین کو یہ ٹاسک دے اور اس پر کوئی پالیسی بیان فوری طور پر بنایا جائے اور جماعت اسلامی کے رہنماﺅں کو پاکستان لایا جائے۔ ان کی رہائش اور روزگارکی فکر حکومت کو نہیںکرنی پڑے گی ، جماعت اسلامی (پاکستان) ان کو سنبھال لے گی ۔میرا پاکستان کے دانشوروں کو بھی یہ مشورہ ہے کہ وہ اس موضوع پر زیادہ سے زیادہ سوچیں اور دیکھیں اوراس مسئلے کا کوئی سیاسی حل نکالیں۔“
میں اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کی خدمت میں گزارش کروں گا کہ وہ محصورین بنگلہ دیش کے بارے میں غور فرمائیں جو گزشتہ چار عشروں سے زیادہ عرصے سے پاکستان منتقلی کی آس لگائے ہوئے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے قیام پاکستان کے بعد مشرقی پاکستان کی جانب ہجرت کی تھی اور بنگلہ دیش کے قیام تک وہ پاکستان کے شہری رہے ہیں۔ وہ چونکہ ایک قانون داں ہیں لہٰذا وہ اس پر روشنی ڈال سکیں گے کہ پاکستانی حکومت انہیں اپنا شہری تسلیم کرنے کے لئے کیوں آمادہ نہیں۔ اگر اس سلسلے میں کوئی قانونی رکاوٹ ہو تو اسے دور کرنے کے لئے بھی کوئی حل تجویز فرمائیں۔ جہاں تک مجھے علم ہے سقوط ڈھاکہ کے موقع پر حکومت پاکستان نے کہا تھا کہ وہاں مقیم لسانی اقلیت کو تحفظ دیا جائے۔ مجھے نہیں معلوم کہ سرنڈر ایگریمنٹ میں ان محصورین کے بارے میں کوئی معاہدہ شامل تھا یا نہیں لیکن کیا صرف انہیں لسانی اقلیت قرار دے کر حکومت پاکستان اپنے شہریوں سے جان چھڑا سکتی ہے۔
ان لوگوں کی منتقلی کے لئے اب تک نجی اداروں کی سطح پر جو کچھ بھی جدوجہد کی گئی ہے ، محترم نوید احمد ایڈوکیٹ صاحب مجھ سے زیادہ واقف ہوں گے ۔ اس جدوجہد میںاگر ان کی یہ کاوش بھی شامل ہوجائے اور اس کے نتیجے میں ان کی منتقلی کی راہ ہموار ہوجائے تو یہ ایک بہت بڑی بات ہوگی اور اللہ تعالیٰ انہیں اس کا دنیا و آخرت میں صلہ عطا فرمائیں گے۔

msami.ti@hotmail.com

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular

سندھ حکومت اور پولیس ڈرامہ کررہی ہے، شبلی فراز

کراچی، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز نے ایک بار پھر سندھ پولیس کی چھٹیوں کی درخواست کو ڈارمہ قرار دے...

کراچی، مسکن چورنگی پر دھماکے کے زخمیوں کے علاج کے معاملے محکمہ صحت سندھ نے نجی اسپتال کو خط لکھ کر آگا...

کراچی میں جھڑپوں کی جھوٹی خبر،بھارتی میڈیا دنیا بھر میں رسوا

کراچی ،بھارتی میڈیا نے پاکستان کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈے کے اپنے ہی ریکارڈز توڑ دیے۔ بھارتی میڈیا اپنی اِس احمقانہ خواہش کو خبر...

کورونا وائرس، حکومت کا کئی شعبوں کی بندش پر غور

کراچی، نیشنل کمانڈ آپریشن سینٹر کا اجلاس وفاقی وزیر اسد عمر کے زیر صدارت ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ جس...