Saturday, October 24, 2020
Home Trending عافیہ کا مقدمہ مصنوعی، سزا غیر منصفانہ ہے، امریکی قانون دان

عافیہ کا مقدمہ مصنوعی، سزا غیر منصفانہ ہے، امریکی قانون دان

dr fowziaکراچی: مشہور امریکی قانون دان اسٹیفن ڈائونز اور کیتھی مینلے نے کہاہے کہ امریکہ میں دہشت گردی کے الزامات میں گرفتار 94% افراد معصوم ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستانی معصوم شہری اور تین بچوں کی ماں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو بھی اس طرح سے غیراخلاقی اور غیرقانونی طور پر مصنوعی مقدمے میں ملوث کرکے غیرمنصفانہ سزا دی گئی ہے۔ البانے اٹارنیز اسٹیفن ڈائونز اور کیتھی مینلے نے کراچی پریس کلب میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پروجیکٹ سلام (Support and Legal Advocacy for Muslims-SALAM) اور (National Coalition to Protect Civil Freedom) این سی پی سی ایف کے تحت کی جانے والی ریسرچ نے ثابت کیاہے کہ 9/11 کے بعد دہشت گردی کے حوالے سے امریکی حکومت کی جانب سے قائم کئے گئے مقدمات کی اکثریت ناانصافی پر مبنی تھی جس میں ڈاکٹر عافیہ کا کیس بھی شامل ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ درحقیقت مصنوعی اور جعلی طریقوں پر بنائے گئے مقدمات پر مشتمل ہے جس کا مقصد امریکی عوام کو یہ باور کرانا ہے کہ دہشت گردوں کی فوج امریکہ میں جنگ ہار رہی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں گرفتار کئے جانے والے اکثر افراد صرف حفظ ماتقدم اور احتیاطی اقدامات جیسی حکمت عملی کے تحت گرفتار کئے گئے تھے اور حقیقت میں امریکہ کو ان سے کوئی خطرہ لاحق نہیں تھا۔ اسٹیفن ڈائونز اور کیتھی مینلے کی حال ہی میں سامنے آنی والی نئی ریسرچ ’’ دہشت گردوں کی ایجاد : احتیاطی تدابیرکے تحت گرفتار کرنے کے قوانین‘‘ (Inventing terrorist: The law fare of preemptive prosecution) کے تحت 9/11 کے بعد حفظ ماتقدم اور احتیاطی تدابیر کے تحت بنائے جانے والے مقدمات کا عمیق جائزہ لیاگیااور ان کے نتیجے میں سامنے آنے والے بھیانک نتائج کو تنقید کا نشانہ بنایاگیا۔ انہوں نے مزیدکہا کہ ان قوانین کے تحت امریکی قانون نفاذ کرنے والے اداروں نے بغیر کسی ثبوت کے ان افراد اور تنظیموں کو نشانہ بنایا جن کے نظریات ، فکر اور مذہبی رجحانات ان کے اندازے کے مطابق ممکنہ طور پرملکی سلامتی کیلئے خطرہ بن سکتے تھے۔امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ان قوانین کو دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ میں ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے۔
امریکی ماہرین قانون نے کہاکہ امریکی حکومت نے حفظ ماتقدم کے لائحہ عمل کے تحت بنائے جانے والے قوانین کوملکی سلامتی کو لاحق خطرات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کیلئے استعمال کیا تاکہ اس کو مسلمانوں کے خلاف استعمال کیا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ اس ریسرچ کے تحت انہوں نے امریکی حکومت کی جانب 2001 سے اب تک دہشت گردی کے حوالے سے بنائے جانے والے 399 مقدمات کا تفصیلی جائزہ لیا اور اس کے نتیجے میں حفظ ماتقدم (Preemptive prosecution) کے طور پر بنائے گئے غیرمنصفانہ قوانین کی تبدیلی پر زور دیا۔ان 399 مقدمات کے جائزے سے یہ بات واضح ہو گئی کہ 94 فیصد مقدمات صرف احتیاطی تدابیر یا پھر معمولی نوعیت کی غلطیوں کی بنیاد پر قائم کئے گئے ہیں جن کا دہشت گردی سے کوئی واسطہ نہیں صرف چھ فیصد ایسے مقدمات ہیں جن دہشت گردی سے منسلک کیا جاسکتا ہے۔
اسٹیفن ڈائونز اور کیتھی مینلے نے کہا کہ اس ناانصافی کی سب سے بڑی مثال سیاسی قیدی ڈاکٹر عافیہ صدیقی ہے گو کہ عافیہ کے علاوہ بے شمار مقدمات ناانصافی اور عدم ثبوت کی بنیاد پر بنائے گئے ہیں لیکن ڈاکٹر عافیہ صدیقی سب سے زیادہ اہم سیاسی قیدی ہے جن کے کیس میں نا صرف قانون بلکہ اخلاق کی بھی دھجیاں بکھیر ی گئی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ عافیہ کے کیس میں ان کے معصوم بچوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی بھی لمحہ فکریہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا کیس ہی ہماری پاکستان آنے کی اہم وجہ ہے کیونکہ یہ چند ایک بھیانک مقدمات میں سے ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ ہم ڈاکٹر عافیہ کی فیملی کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے ڈاکٹر عافیہ کی وطن واپسی کیلئے حقیقی کوششیں کرسکیں۔
امریکی قانون دانوں نے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ کی واپسی کیلئے مختلف طریقہ کار اور لائحہ عمل پر کام کیا جاسکتا ہے لیکن سب سے اہم یہ ہے کہ حکومت پاکستان امریکی حکومت سے سرکاری سطح پر باقاعدہ درخواست کرے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے لئے یہ حیرت کا مقام ہے کہ پاکستانی عوام میں ڈاکٹر عافیہ کیلئے پائے جانے والی بے انتہا محبت اور ہمدردی کے جذبات کے باوجود حکومت پاکستان نے اب تک ڈاکٹر عافیہ کی وطن واپسی کیلئے سنجیدہ کوشش کیوں نہیں کی؟ہم امید کرتے ہیں کہ ہم پاکستانی حکومت اور دیگر اہم افراد سے ملاقات میں عافیہ صدیقی کی واپسی کیلئے قابل عمل تجاویز پیش کریں گے تاکہ پاکستان کی بیٹی کو واپس لایا جاسکے۔
اس موقع پر عافیہ موومنٹ کی سربراہ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف سے اپیل کی کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی پاکستان واپسی کیلئے امریکی حکومت سے سرکاری سطح پرباقاعدہ مطالبہ کیا جائے تاکہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی اپنے بچوںاور بیمار والدہ کے پاس اپنے خاندان میں واپس آسکیں، قوم ان کا یہ احسان ہمیشہ یاد رکھیں ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular

جیو نیوز کے صحافی علی عمران کے اغوا کا مقدمہ درج

کراچی: جیو نیوز کے صحافی علی عمران کے اغوا کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔ پولیس کے مطابق علی عمران کے بھائی طالب...

گلشن معمار، اسلحے کے زور پر 2 ملزمان شہری سے گاڑی چھین کر فرار

کراچی: شہر میں اسٹریٹ کرمنلز سے شہری غیر محفوظ، گلشن معمار میں احسن نامی شخص سے2 ملزمان ا سلحے کے زور پر...

آلو، ٹماٹر اوردودھ سمیت 14اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں مزید اضافہ

کراچی: آلو، ٹماٹر اوردودھ سمیت 14اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں بتدریج اضافہ، اعداد وشمار کے مطابق 22 اکتوبر2020 کو ختم ہونے والے...

شہباز گل نے کراچی واقعہ کو سازش قرار دے دیا

کراچی: وزیراعظم عمران خان کےمعاون خصوصی شہباز گل نے کراچی واقعہ کو سازش قرار دیدیا اور کہا کہ کیپٹن(ر)صفدر کی گرفتاری کا...