Friday, October 30, 2020
Home طنز و مزاح آپ خود انصاف کریں!(شوکت علی مظفر)

آپ خود انصاف کریں!(شوکت علی مظفر)

  Petrol میری کریانے کی دکان ہے۔ پچھلے دنوں ، یعنی پچھلی حکومت میں پیٹرول کو جب آگ لگی تھی اس کی تپش میری دکان پر رکھے ہوئے راشن تک بھی پہنچی تھی۔میں نے اس موقع پر از خود تمام اشیاءکی قیمتیں بڑھا دی تھیں کیونکہ اگر میں نہ بڑھاتا تو کوئی اور یہ نیک کام کر گزرتا اور چونکہ میں پیدائشی نیک صفت انسان ہوں اس لیے نیکی کے کاموں میں آگے آگے رہتا ہوں۔ اُسی دن میری دکان پر ایک غریب عورت آگئی، ایک پاﺅ گھی مانگا لیکن پیسے اس کے پاس آدھ پاﺅ کے تھے۔ میں نے اس طرف توجہ دلائی تو وہ مکاری سے بولی”کل ہی تو اتنے پیسوں کا پاﺅگھی لے کر گئی تھی۔“ میں نے اس کی مکاری کا پردہ چاک کرنے کی غرض سے کہا”اماں! وہ مہینے کی آخری تاریخ تھی، آج صبح پیٹرول کی قیمت بڑ ھ گئی ہے۔“ میں مطمئن تھا کہ وہ میری بات سمجھ گئی ہوگی لیکن وہ تو مکار کے ساتھ ساتھ چالاک بھی نکلی اور منہ پھاڑ کر بولی”پیٹرول پر دو روپے بڑھے ہیں، تم نے ہر چیز پر دس روپے بڑھا دیئے۔“ میں پہلے بتا چکا ہوں کہ نیک صفت انسان ہو، جھگڑے وغیرہ سے دور رِہتا ہوں اس لیے میں نے اس عورت کو گھی دینے سے صاف انکار کردیا ۔ اب کسی ٹیکنیکل غلطی سے پیٹرول کی قیمتیںکم ہونا شروع ہوگئی ہیں لیکن وہ عورت آج چھ سات سال بعد اچانک سے نمودار ہوگئی اور پاﺅ والی قیمت میں آدھا کلو گھی مانگ رہی ہے، کہتی ہے پیٹرول سستا ہوگیا ہے، گھی بھی سستا کرو۔ آپ خود انصاف کرو ۔ پانچ سال پہلے کی قیمت میں جس قیمت میں پاﺅ گھی آتا تھا، اتنی مہنگائی کے دور میں آدھا کلو کیسے دے سکتا ہوں۔ پیٹرول کا گھی سے کیا تعلق؟
٭٭
ماں کی دعا ، جنت کی ہوا
باپ کی دعا، جا بیٹابس چلا
7_11400جب سے میں نے بس لی ہے ، یہ شعر اسی دن سے اس کی پشت پر لکھوا رکھا ہے تاکہ تما م جلنے والوں کا منہ کالا رہے۔ ایک زمانہ تھا کہ ٹرانسپورٹ کے کاروبار میں بڑی برکت تھی، مگر اب میری دس بسیں ہیں لیکن نفع نام کا نہیں ہے۔ کچھ حاسدین کہتے ہیں کہ اگر اس کاروبار میں منافع نہیں ہے تو پھر ایک سے دس بسےں کیسے ہوگئیں؟میں ایسے لوگوں پر لعنت بھیجتا ہوں، یہ کسی کو پھلتا پھولتا نہیں دیکھ سکتے۔ اگر میں سی این جی کی کٹس لگوا کر درجن بھر سلنڈر چھت پر اورآدھ درجن سیٹوں کے نیچے فٹ نہ کرواتا تو کبھی میری بسوںمیں اضافہ نہ ہوتا، کیونکہ پیٹرول کی قیمتیں بڑھ رہی تھیں اور میں الحمد اللہ ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کا سرگرم ممبربھی ہوں تو اسی حساب سے غریب ٹرانسپورٹرز کی سپورٹ کیلئے کرائے میں اضافہ کرواتا رہا۔ کل میری بس میں ایک لوکل دانشور سوار ہوگیا اور کرائے نہ کم کرنے کی وجہ اس طرح پوچھنے لگا جیسے وہ میرا سالا ہو۔ آپ خود انصاف کریں، سی این جی کی قیمتیں تو کم نہیں ہوئی ناں جو میں بھی کرایہ کم کردوں۔ پیٹرول اور ٹرانسپورٹ کرائے کا کیا موازنہ؟ مانا کہ پھانسیوں کا موسم ہے لیکن ہم کمزوروں کو تو پھندے لگائے جائیں۔
٭٭
میرے والد صاحب بتاتے ہیں کہ جب وہ اس شہر میں آئے تھے تو ان کے پاس سوائے ایک صندوق کے کچھ نہ تھا اور دیکھتے ہی دیکھتے انہوں نے اتنی ترقی کی ایکڑوں کے حساب سے زمین کے مالک بن گئے۔ میں نے ایک دن غلطی سے پوچھا لیا”آخر صندق میں ایسا تھا کیاجسے بیچ کر آپ نے زمینیں خرید لیں۔“ والد صاحب نے انتہائی غم زدہ لہجے میں فرمایا”بیٹا، میرے صندوق میں بیچنے والی کوئی چیز تھی ہی نہیں۔“ یہ سن کر میری آنکھوں میں آنسو آگئے کہ میں نے انہیں بیٹھے بٹھائے دکھی کردیا۔ والد صاحب نے میری آنکھوں سے آنسو پونچھتے ہوئے بات مکمل کی”میرے صندوق میں سوائے نوٹوں کے کچھ نہیں تھا، اتنی جگہ بھی نہیں تھی کہ دانت صاف کرنے کیلئے منجن کی ڈبی ہی رکھ لیتا۔“ میں نے اپنے والد کی ذہانت سے بہت متاثر ہوا ۔ اُن کی خرید ی گئی زمینوں پر گودام بنالیے اور وہ ہر چیز اس میں ذخیرہ کرنا شروع کردی جسے مشکل وقت میں بیچ کر اپنی غربت کم کی جاسکتی تھی۔ نجانے لوگوں نے کیوں مجھے ذخیرہ اندوز کہنا شروع کردیا۔ کوئی میرے دکھ کو نہیں سمجھ سکتا، اب کچھ نا ہنجار لوگ کہتے ہیں کہ میں ذخیرہ اندوزی چھوڑدوں ورنہ پیٹرول کی طرح باقی چیزوں کی قیمتیں بھی کم ہوئیں تو میں اپنی موت آپ مر جاﺅں گا۔ آپ خود انصاف سے بتائیں، چینی، چاول، گندم اور دیگر اناج کی قیمتوں کا پیٹرول سے کیا تعلق۔ موت تو سب کو آنی ہے، لیکن پیٹرول، ڈیزل کی قیمتیں کم ہوجانے سے عام طبقے کو کیوں موت پڑگئی ہے کہ سب چیزوں کی قیمتیں کم ہوجانی چاہئیں۔
٭٭
article-0-0B687186000005DC-89_233x324میری کپڑے کی دکان ہے، فیصل آباد سے ٹرک ٹرک بھر کر مال آتا ہے لیکن یقین جانئے بچت ساری کرائے میں چلی جاتی ہے۔ میں جیب سے تو خسارہ بھرنے سے رہا، قیمتیں دگنی کرنی پڑیں، چار سو کا سوٹ ، بارہ سو کا دینا مجبوری ہوگیا۔ ایک آدمی بضد ہے کہ اب پیٹرول کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں لیکن میں سوٹ پندرہ سو کا بتا رہا ہوں۔ کیا کروں، اب پیٹرول صرف منگوانے کیلئے ہی نہیں جنریٹر چلانے کیلئے بھی پھونکنا پڑتا ہے، میرا حساب کا جوں کا توں ہے جبھی سوٹ پر تین سو بڑھا نے پڑے۔ لیکن معلوم ہوا ، جسے میں نظر کی عینک کی وجہ سے اندھا سمجھ رہا تھا وہ بڑا ڈرامے باز نکلا۔ جنریٹر سے منسلک پائپ کی طرف اشارہ کرکے کہا”یہ تو گیس پر چل رہا ہے۔“ لیکن غریبوں کو کون سمجھائے کہ گیس کا جنریٹر اسٹارٹ کرنے کیلئے شروع کے دو تین منٹ پیٹرول پر چلانا پڑتا ہے۔ اگر فل ٹائم جنریٹر پیٹرول پر چلایا تو آپ خود انصاف سے بتاﺅ، سوٹ اٹھارہ سو کا ہوجائے گا یا نہیں؟ میں تو سوچ رہا ہوں، مکمل طور پر زنانہ کپڑے دکان پر رکھ لوں۔ عورتیں تو ویسے بھی سستا کپڑا طعنوں کے ڈر سے نہیں خریدتیں۔
٭٭
میری پہلے گنے کا رس نکالنے کی دکان تھی۔ گنے کے علاوہ برف کا خرچہ الگ تھا، لیکن میں نے اپنا پیٹ کاٹ کر دکان چلائی اور کچھ ہی عرصے میں مرغی کی دکان بھی کھول لی۔ پیٹرول کی قیمتیں بڑھنے سے گنے دکان تک لانے میں خرچہ بڑھ گیا، گلاس میں برف ڈبل کردی تاکہ کسٹمر کی جیب پر بوجھ نہ آئے لیکن چھ سات سالوں میں پیٹرول سو سے بھی اوپر چلا گیا۔ مجبوراً پانچ والا گلاس دس میں اور دس والا بیس میں کردیا۔ مرغی کی قیمتیں بھی پیٹرول پمپ والوں کی بد معاشی کی وجہ سے بڑھانی پڑیں۔ لیکن کچھ دنوں سے بے غیرت قسم کے لوگ مجھے گھور کر دیکھتے ہیںاور ایک ہی بات پوچھتے ہیں”گنے کا جوس کب سستا ہوگا، پیٹرول کا ریٹ تو کتنا نیچے آگیا ہے۔“ اب ان کو کون سمجھائے کہ گنے کا رس کوئی پیٹرول پمپ پر بِکتا ہے جو اس کا ریٹ کم کردوں۔ آپ ہی انصاف کرو، مرغیاں پیٹرول تھوڑی پیتی ہیں جو میں ان کی قیمتیں بھی گرا دوں۔
٭٭
ابھی تو اور بھی جان لیوا قصے تھے مگریہ کہانیاں سن کر مَلک صاحب نے کہا”تندور والے سے لے کر پھل فروش تک سب دوسروں سے انصاف چاہتے ہیں مگر دوسروں کیلئے ان کے پاس صرف وہ چھریاں ہیں جن سے یہ کھال اتارسکیں۔“
مَلک سے اختلاف نہیں کرسکتا، کیونکہ ذہنی مریض، زخمی شیر اور غصے سے بھری ہوئی بیگم سے اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔مَلک کی ذہنی حالت اس لیے خراب ہے کہ اس نے تین چارہ ماہ قبل بڑی مشکل سے ایک پیٹرول پمپ قائم کیا تھا اور سال بھر کا پیٹرول بڑے بڑے ٹینکس میں ذخیرہ کرلیا تھا کہ خوب منافع کما کر سال کے اندر اندر اپنی لاگت پوری کرلے گا مگرجب سے اب تک یہ ”گو نواز گو“ کے نعرے لگا رہا ہے۔!!
samuzzaffar@gmail.com

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular

کراچی سینٹرل جیل میں عید میلاد النبیﷺ کا بڑا پروگرام

عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موقع پر کراچی سینٹرل جیل میں عید میلاد النبی ﷺ کا بڑا پروگرام منعقد...

تعلیمی ادارے کورونا کے پھیلاؤ کا باعث نہیں بن رہے: اسد عمر

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اور نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے سربراہ اسد عمر کا کہنا ہے کہ تعلیمی ادارے کورونا...

کرونا کے بڑھتے کیسز، سندھ کے محکمہ داخلہ نے نئی گائیڈ لائنز جاری کردیں

کراچی: محکمہ داخلہ سندھ نے کرونا ایس او پیز سے متعلق نئی گائیڈ لائنز جاری کردیں۔ نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کی...

کراچی سمیت سندھ بھر میں موٹر سائیکل ڈبل سواری پر پابندی عائد کر دی گئی

کراچی: محکمہ داخلہ سندھ نے 12 ربیع الاول کے باعث کراچی سمیت سندھ بھر میں موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر پاپندی...