Wednesday, October 21, 2020
Home اسلام غصے کا علاج ( مقصود الحسن فیضی)

غصے کا علاج ( مقصود الحسن فیضی)

1ترجمہ حدیث:
سیدنا سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ دو آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گالی گلوچ کر رہے تھے ان میں سے ایک غصے میں آ گیا، اس کا چہرہ سرخ ہو گیا اور اس کی رگیں پھول گئیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف دیکھا اور فرمایا: میں ایک کلمہ جانتا ہوں کہ اگر یہ اسے کہہ لے تو اس کی یہ کیفیت دور ہو جائے، وہ کلمہ ہے اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم [میں شیطان مردود سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں] چنانچہ جن لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان سنا ان میں سے ایک شخص اس غصہ ہونے والے شخص کے پاس گیا اور کہنے لگا: کیا تم جانتے ہو کہ ابھی ابھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا: اس نے جواب دیا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے ہیں کہ ہیں میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں جسے اگر یہ پڑھ لے تو اس کا غصہ جاتا رہے، وہ کلمہ ہے، اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم اس شخص نے کہا کہ کیا تو مجھے پاگل سمجھ رہا ہے۔ [صحیح بخاری:3282، صحیح مسلم:2610]
تشریح:
غصہ ایک ایسا اخلاقی مرض ہے کہ اگر فوری اور صحیح علاج نہ کیا گیا تو اس کا اثر باہمی نااتفاقی، حسد و کینہ، بغض و نفرت، گالی و گلوچ حتٰی کہ مارپیٹ، قتل و خونریز ی، طلاق اور مال و اولاد پر بددعا کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے، اس لیے اپنے دین و ایمان پر حریص شخص کے لیے ضروری ہے کہ اس مرض کا علاج کرے۔
واضح رہے کہ سب سے بہتر اور کامیاب وہ علاج ہے جس کی طرف اسلام نے رہنمائی کی ہے، چنانچہ جب ہم نصوصِ شرع پر غور کرتے ہیں تو اس مرض کے بہت سے علاج کی طرف ہماری رہنمائی ہوتی ہے، اختصار کے ساتھ وہ بعض علاج درج ذیل ہیں:
2
اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت:
یعنی ایک مومن یہ سوچے کہ اللہ اور اس کے رسول نے غُصّہ آنے پر صبر سے کام لینے اور لوگوں کی غلطی کو معاف کر دینے کا حکم دیا ہے، اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے
اور بھلائی اور برائی برابر نہیں ہو سکتی، تو (سخت کلامی کا) ایسے طریق سے جواب دو جو بہت اچھا ہو (ایسا کرنے سے تم دیکھو گے) کہ جس میں اور تم میں دشمنی تھی گویا وہ تمہارا گرم جوش دوست ہے۔ (سورۃ فصلت:آیت نمبر 34)
اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے مفسرِ قرآن سیدنا ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ اس سے مراد غُصّہ کے وقت صبر کرنا اور برائی کو معاف کرنا ہے۔ [ صحیح بخاری]
بُرے نتائج پر غور:
غصہ کو پی جانے کا ایک بہترین علاج یہ ہے کہ غصہ کےدینی و دنیوی نتائج پر غور کرے کہ بسا اوقات ایک شخص غصہ میں ایسی بات کر جاتا ہے یا ایسی حرکت کا مرتکب ہوتا ہے جس سے اس کی دنیا و آخرت برباد ہو جاتی ہے۔
پرہیز:
ان اسباب اور چیزوں سے پرہیز (اجتناب) کرے جو غصہ بڑھاتے ہیں۔
اجر و ثواب کی نیت:
اُن فضائل، اجر و ثواب کو اپنے پیش نظر رکھے جو غصہ پی جانے اور غصہ پر کنٹرول کرنے کے عوض حاصل ہوتے ہیں۔ جیسے:
3
اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت:
غصہ پر کنٹرول کرنا اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبّت کے حصول کا ذریعہ ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو قیس کے ایک شخص سے فرمایا: تمہارے اندر دو ایسی عادتیں ہیں جنہیں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پسند کرتے ہیں، بردباری اور سنجیدگی۔ [صحیح مسلم بروایت ابن عباس]
بردباری یعنی غصہ کی حالت میں انتقام کی طاقت کے باوجود صبر سے کام لینا۔
جنت میں داخلہ:
ایک صحابی نے سوال کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کوئی ایسا عمل بتلایے کہ اس پر عمل کر لوں تو مجھے جنت مل جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غصہ نہ کرو تمہیں جنت میں داخلہ مل جائے گا۔ [الطبرانی الاوسط: بروایت ابو داود]
اللہ کے غضب سے بچاو:
ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرتا ہے کہ وہ کونسا عمل ہے جو مجھے اللہ کے غضب سے محفوظ رکھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم غصہ نہ کرو ( اللہ تعالیٰ تم پر بھی غصہ نہ ہو گا) [مسند احمد بروایت عبدا للہ بن عمرو ]
بہت بڑے اجر کا حصول:
غصہ پر کنٹرول کرنا بہت بڑے اجر کے حصول کا ذریعہ ہے۔
ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ: اللہ تعالی کے نزدیک غصہ کا گھونٹ پی جانے سے زیادہ اجر والا کوئی اور گھونٹ پینا نہیں ہے۔ [ابن ماجہ]
4
جنت کی حور:
ارشاد نبی صلی اللہ علیہ وسلم: جو شخص انتقام کی قدرت کے باوجود غصہ پی جاتا ہے تو اللہ تعالی قیامت کے دن اس شخص کو تمام مخلوقات کے سامنے بلا کر فرمائے گا کہ آج تم جنت کی جس حور کا انتخاب کرنا چاہو جا کر انتخاب کرلو۔ [ابو داود الترمذی، بروایت انس بن معاذ]
ذکر الہی:
غصہ جیسی اخلاقی بیماری کے شرعی علاج میں ایک اہم علاج ذکرِ الہٰی ہے، جیسے اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم پڑھنا۔ جیسا کہ زیرِ بحث حدیث میں بیان ہوا ہے۔
تبدیلیِ حالت:
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے اگر وہ کھڑا ہو تو بیٹھ جائے اور اگر بیٹھا ہو تو لیٹ جائے۔ [سنن ابو داود، بروایت ابوذر] اور اگر مناسب سمجھے تو وہ اُ س جگہ ہی کو چھوڑ دے اور دور ہٹ جائے۔
خاموشی:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: سکھاؤ (یعنی لوگوں کو تعلیم دو)، بشارت (خوشخبری) سناو اور سختی نہ کرو “{یہ بات آپ نے تین بار بیان فرمائی} پھر دوبارہ فرمایا: اگر کسی کو غصہ آئے تو وہ خاموش ہو جائے۔ [ مسند احمد بروایت ابن عباس]

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular

شیریں جناح کالونی دھماکے میں ایک کلو بارود استعمال ہوا

کراچی، شیریں جناح کالونی بم دھماکے کے حوالے سے سی تی ڈی انچارج راجہ عمرخطاب نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا...

سندھ پولیس اچھا کرے یا برا، صوبائی حکومت ذمہ دار ہے، گورنر

کراچی، گورنر سندھ عمران اسماعیل نے پولیس افسران کی چھٹیوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا سندھ پولیس اچھا کرے یا...

بچوں سے زیادتی، زیڈ ٹی کا ہدایت کارعظیم احمد سے معاہدہ

کراچی ، سائن انٹر ٹیمنٹ اور زیڈ ۔ٹی (کامران شریف)کا اپنی نئی ڈرامہ سیریلز ،سٹ کام ، ٹیلی فلمز کے لےے ڈرامہ...

سندھ حکومت کا پولیس افسران کی چھٹیاں منظور نہ کرنے کا فیصلہ

کراچی، سندھ حکومت نے پولیس افسران کی چھٹیاں منظور نہ کرنے کا فیصلہ، صوبائی حکومت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ کسی...