حکومت کی ابتدائی کارکردگی (عثمان الدین)

parliament-houseپچیس جولائی کے انتخابات کے بعد اقتدار میں آنے والی موجودہ حکومت کی اب تک کی کارکردگی میڈیا اور عوام میں زیر بحث ہے ، تعریفی اور تنقیدی دونوں قسم کے تبصرے ہورہے ہیں البتہ تنقید کا پہلو غالب ہے، قابل تنقید معاملات پر بروقت تنقید ضروری بھی ہے کیوں کہ اسی سے حکومت کا قبلہ کسی حد تک درست رہتا ہے۔ پاکستان میں سیاست دانوں کا اقتدار
میں آنے سے پہلے قوم سے بڑے بڑے وعدے اور دعوے کرنا معمول کی بات ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے البتہ گزشتہ کئی سالوں میں جس طرح کے بلند و بانگ وعدے اور دعوے کرکے قوم کوسبز باغ دکھائے ہیں ،اس کی مثال ماضی میں ملنا بہت مشکل ہے اور اسی وجہ سے قوم کی ان سے توقعات بھی بہت زیادہ ہیں ۔اقتدار حاصل ہونے کے بعد اب ان کے لیے سب سے بڑا چیلنج ان کے مطابق کارکردگی دکھا نا ہے اور یہی موجودہ حکومت کا سب سے بڑا امتحان ہے ۔ حکومت کی اب تک کی کارکردگی ان دعووں اور وعدوں کے مقابلہ میں پہاڑ کے سامنے رائی کی حیثیت رکھتی ہے۔  یوں محسوس ہورہا ہے کہ عمران خان کے لیے خود ان کے بیشتر دعوے اور وعدے اب پریشانی کا باعث بن رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ معمولی عرصہ میں ہی اپنی کہی ہوئی بہت ساری باتوں پرعملی طور پر یوٹرن لے چکے ہیں۔  میڈیا اور عوام ان کو مسلسل ان سب باتوں کی یاد دہانی کرارہے ہیں۔ حکومت اسی وجہ سے ہر محاذ پر جلد بازی اورجھنجھلا ہٹ کا شکار بھی نظر آرہی ہے۔
خارجہ پالیسی کی بات کی جائے تو اس حوالہ سے منصوبہ بندی اور سفارت کاری کا فقدان نظر آتا ہے۔اس کی ایک بڑی مثال پاک بھارت تعلقات کا معاملہ ہے ۔ وزیر خارجہ نے پہلے تو دعوی کیا کہ بھارت نے مذاکرات کی پیشکش کی ہے۔بھارت نے اس کی تردید کردی اور حکومت خاموش ہوگئی ۔پھر ہمارے وزیر اعظم کی طرف سے خفیہ طور پر بھارتی وزیر اعظم کو مذاکرات کی بحالی اور وزرائے خارجہ کی ملاقات کے لیے خط لکھنے کا معاملہ سامنے آیا۔ قوم کو تب پتہ چلا جب بھارت نے اس خط کو دنیا کے سامنے لا کر پہلے ملاقات کے لیے ہاں کی اور پھرانکار کردیا۔ جواب میں وزیر اعظم نے خودبھارتی وزیر اعظم سے متعلق ایک ایسی ٹویٹ کردی جو سفارتی لحاظ سے شاید مناسب نہیں تھی۔ ۔بھارت سے تعلقات جیسے اہم اور حساس معاملہ پر عجلت میں کیے گئے ان اقدامات کا نتیجہ آج ہمارے سامنے ہے کہ دونوں ملکوں میں جنگ تک کی باتیں ہورہی ہیں ۔دوسری جانب بھارت سے ہی جڑے مسئلہ کشمیر اور بھارتی جاسوس کلبھوشن پر وزیر اعظم اپنے پہلے خطاب سے اب تک پر اسرار خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔
اس کے علاوہ امریکی وزیر خارجہ کے فون کال پرایک تنازعہ کھڑا کردیا گیا۔ فرانسیسی صدر کے فون کال معامل پرتماشہ لگادیا گیا،چین کے ساتھ تعلقات اور سی پیک منصوبوں پر شکوک و شبہات پیدا کرکے ان کو بند کردینے تک کے بیانات دیے گئے ۔یہ سب باتیں خارجہ محاذ پر حکومتی ناکامی اور ناتجربہ کاری کی عکاس ہیں۔ دوسری جانب حکومت کی داخلی سطح پر کارکردگی بھی اب تک اس معیار سے کوسوں دور ہے جو عمران خان نے عوام کے ذہنوں میں اپنی حکومت کے لیے قائم کیا تھا اور جس کی بنیاد پر وہ سابقہ حکومت پر ہر وقت تنقید کیا کرتے تھے ،حکومت کے عملی اقدامات اقتدار میں آنے سے پہلے کیے جانے والے بلند و بانگ عوامی دعووں کے بالکل برعکس ہے ،وزیر اعظم ہاوس میں نہ رہنے ،پروٹوکول نہ لینے ، پاک و شفاف اور قابل افراد کو عہدے دینے ،میرٹ پر تعیناتی ،بیرونی قرضہ نہ لینے اور ان جیسے بے شمارنئے اور خوش نما دعوے جو پرانے پاکستان میں کیے جاتے تھے ،وہ سب نئے پاکستان میں بہت جلد ہی پرانے ہوچکے ہیں ، واضح طور پر نظر آرہا ہے کہ محض حصول اقتدار کے لیے ان کے ذریعہ قوم کے جذبات سے کھیلا گیا تھا جو یقینا باعث افسوس ہے۔
حیرت کی بات یہ ہے حکومت اب بھی بالغ نظری کا ثبوت دینے کے بجائے اسی طرح زبانی دعووں کی روش پر قائم ہے۔ آئے روز قوم کے سامنے ایک دعوی کرکے اگلے ہی دن اس پر یوٹرن لے لیا جاتا ہے اور پھر ایسی تاویلیں کی جاتی ہیں کہ عقل حیران رہ جاتی ہے۔ حکومت نے ٹیکسوں سے بھرپور منی بجٹ کے نام پر عوام پر مہنگائی بھی مسلط کردی ہے ،گیس،بجلی،آٹے اور گندم جیسی بنیادی ضروریات زندگی کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا ہے ۔ اہم بات یہ بھی ہے حکومت اتفاق رائے کے بغیر جلد بازی میں پیچیدہ قسم کے فیصلے اور اعلانات کررہی ہے ،افغان مہاجرین اور بہاریوں کو پاکستان کی شہریت دینے کا اعلان اس کی ایک بڑی مثال ہے ،چنانچہ حکومت ہی کی اتحادی جماعت کی مخالفت کے بعدوزیر اعظم نے یوٹرن لے کر کہا کہ یہ محض ایک تجویز ہے ۔
حکومت کی داخلی اور خارجی سطح پراس کارکردگی کے علاوہ بعض اقدامات حکومت کے عزائم کو ہی مشکوک بنارہے ہیں ،قادیانی میاں عاطف کو اقتصادی مشاورتی کونسل کا ممبر بنا نا اس کی ایک بڑی مثال ہے ،بعد میںسخت عوامی دباوپر یہ فیصلہ واپس لے لیا گیا۔قادیانیوں کی سرگرمیوں میں بھی اس کے بعد غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ۔اسی طرح مدارس کی رجسٹریشن منسوخ کرکے ان کو نیکٹا کے حوالہ کرنے کا معاملہ ،مدارس کے نصاب میں تبدیلی کی باتیں ،بعض وزراءکے بیانات اور اس طرح کے بعض دیگر اقدامات سے حکومتی مقاصد کے بارے میں سوالات جنم لے رہے ہیں ۔
غرض یہ کہ حکومت کی اب تک کی کارکردگی مایوس کن اورپریشان کن ہے ، اس کوفوری طور پر بہتر کرنے کی ضرورت ہے ، حکومت کے سامنے مظبوط و طاقتور حریف سیاسی جماعتوں اور خود حکومتی دعووں اور وعدوں کی صورت میں بہت مضبوط اپوزیشن موجود ہے اور اس سے نمٹنے کا واحد حل جلد سے جلدغیر معمولی کارکردگی دکھانا ہے ،اگر حکومت ایسا کرنے میں کامیاب نہیں ہوتی ہے تو وہ کسی بھی وقت اپوزیشن اور عوامی غیض و غضب کا شکار ہوکربڑی محنت اور کاوش سے حاصل کردہ اقتدار سے محروم بھی ہوسکتی ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top