اپنوں کو ہی گراں گزری ہے(شیخ خالد زاہد)

Parliament320x180کسی ملک کی سالمیت اور استحکام کامعیشت کے ساتھ ساتھ دارومدار اس کے محکمہ خارجہ اور داخلہ کی حکمت عملیوں پرمنحصر ہوتا ہے۔ دور حاضر میں جہاں ایک طرف اسلحہ کی دوڑ لگی ہوئی ہے جدید اور مہلک ہتھیار بے دریغ بنائے جا رہے ہیں اور جہاں طاقتور کو اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنا ہوتا ہے وہ ان ہتھیاروں کا استعمال بھی کرتا ہے لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ بے تحاشہ انسانی جانیں انسانیت سوز سلوک کا نشانہ بن رہی ہیں لیکن کسی کو جیسے دکھائی ہی نہیں دیتا، سب کے سب اندھوں اور بہروں کی طرح اپنے اپنے مفادات کے حصول کے لیے تگ و دو میں بر سر پیکار ہیں۔ دوسری طرف نام نہاد ادارہ اقوام متحدہ کسی انتہائی ایسے مظلوم کی طرح جو کہ اپنی نوکری بچانے کے لیے ہر وہ کام کر رہا ہو جو اسے اس کا آقا کرنے کو کہہ رہا ہو، کرتا دکھائی دے رہا ہے۔
اقوام متحدہ کا بنیادی مقصد دنیا کو جنگ اور جنگ کی صورتحال سے باز رکھنا تھا لیکن اقوام متحدہ دنیا جہان کے سماجی اور فلاحی کاموں میں بہت آگے ہے لیکن اپنے اصل مقصد، جنگ کی صورتحال پر قابو پانے سے قاصر ہے اور جنگ کے بعد فلاحی کاموں اور امداد کے لیے فعال دکھائی دیتا ہے۔ یعنی طاقت کے نشے میں دھت امریکہ دنیا پر حکومت کا خواب دیکھنے اور اسے عملی جامع پہنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے پر تلا ہواہے اور اقوام متحدہ کو اپنا ایک ذیلی ادارہ بنا کر رکھ لیا ہے۔ عراق، افغانستان اور شام اس کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ افسوس اس بات کا بھی ہے کہ یہ ثبوت پیش کرنے کے لیے کوئی عدالت نہیں ہے۔
مذکورہ وجوہات کی بنا ءپر ساری دنیا امریکہ کے ساتھ اچھے تعلقات کی خواہشات میں اندھی ہوچکی ہے، لا محالہ امریکہ کی ہر بات ماننے کو تیار دکھائی دیتے ہیں اور یہاں تک کہ ایک دوسرے کے تعلقات بھی امریکا کی ایماء پر مرتب کیے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔ ایران اور شمالی کوریا کا معاملہ بظاہر سمجھ سے بالا تر ہے ان کی من مانیوں کا سلسلہ دراز ہوتا ہی چلا جا رہا ہے لیکن امریکہ ابھی تک کوئی ایسی خاطر خواہ تدبیر سامنے نہیں لاسکا جس سے ان ممالک کے بارے میں امریکہ کا واضح لائحہ عمل سمجھ آسکے۔ امریکہ نے ہمیشہ ہر اس ملک کی پشت پناہی کی ہے جس نے پاکستان کی مخالفت میں ایک جملہ بھی کہا ہے جس کا سب سے بڑا منہ بولتا ثبوت ہما را پڑوسی ملک ہے جس کے کرتوت ساری دنیا کے سامنے ہیں لیکن دنیا کے چند ممالک سوائے زبانی جمع خرچ کرنے کے کبھی بھی کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا ہے۔ مسئلہ کشمیر ہو یا پھر سرحدوں کی خلاف ورزی بھارت کو ہمیشہ امریکہ کی بھرپور حمایت حاصل رہی ہے۔
پاکستان کی موجودہ حکومت کے مزاج اور طرز حکومت کو سمجھنے میں کافی مشکلات کا سامنا کر پڑرہا ہے خصوصی طور پر ان لوگوں کے لیے جو روائتی سیاسی سوچ کے حامل ہیں، عرصہ دراز سے دو جماعتی حکومتی حکمت عملی چل رہی تھی جنہوں نے سوائے اپنے مفادات و اثاثہ جات کو تقویت پہنچانے کے اور کوئی قابل ذکر کارہائے نمایاں سرانجام نہیں دیا۔ خوف و ہراس کی آب و ہوا ملک پر تانے رکھی، دہشت گردی کی جنگ کا راگ الاپتے رہے اور اپنی جیبیں بھرتے ہیں غریب، غریب سے غریب تر ہوتا چلا گیاملک پر قرضوں کا بوجھ بڑھتا چلا گیا۔ من چاہی اور من مانی حکمت عملیاں ملک کی خارجہ و داخلہ کی حکمت عملیاں بنتی گئیں۔ ان جماعتوں میں مختلف امور پر داخلی اختلافات بھی ہوئے اور بہت پرانے لوگوں نے اصولوں پر سمجھوتا نہ کرتے ہوئے ملک کے وسیع تر مفاد میں ان جماعتوں سے علحیدگی اختیار کر لی۔ لیکن طاقت اور اقتدار کا ایسا نشہ سر پر چڑھا ہوا تھا کہ اپنے آگے ابھی تک کوئی دکھائی نہیں دے رہا۔

 

موجودہ حکومت کی خوش قسمتی کہہ لیجیے کہ امریکہ کے داخلی حالات بھی کچھ خاص مستحکم نہیں دکھائی دے رہے ہیں، آئے دن کسی نہ کسی اہم ذمہ دار کو اس کے عہدے سے سبکدوش کیا جا رہا ہے یا پھر کوئی خود ہی اپنی ذمہ داریوں سے مستعفی ہو رہا ہے۔ حکومت وقت نے ایسی صورتحال کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور تعلقات کی بحالی یااستحکام کے لیے کوئی شور شرابا نہیں کیا بس کن انکھیوں سے دیکھتے رہے۔ یہ عمل کارگر ثابت ہوا امریکیوں کو احساس ہوا کہ پاکستان کی حکومت ہمارے بغیر بھی چل سکتی ہے یہ ہم سے قرضے کی بات نہیں کررہے تو امریکی صدر نے پاکستان کے ساتھ میل ملاپ اور اچھے تعلقات کو قائم کرنے کی خواہش ظاہر کردی۔ ایک طرف امریکا بہادر کا یہ بیان کہ وہ پاکستان کے ساتھ کی نو منتخب حکومت سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں اور تعلقات میں آنے والی پیچیدگیوں کو دور کرنا چاہتے ہیں۔ امریکہ کے اس بیان اور پاکستانی وزیر اعظم عمران خان صاحب کا دورہ ترکی اور امارات کے ولی عہد کا دورہ پاکستان میں کافی معاملات مشترک دکھائی دے رہے ہیں۔
سب سے اول جس بات کا خطرہ امریکہ کو محسوس ہو رہا ہوگا وہ یہ کہ پاکستان کا خطے میں اپنی اہمیت کو اجاگر کرنے کی کوشش کرنا اور موجودہ وزیر اعظم کی قابلیت اور شہرت کا دنیا کے دیگر ممالک کا معترف ہونا۔ امریکہ کو اس بات کی سمجھ آگئی کہ پاکستان کی موجودہ حکومت پاکستان کے لیے کچھ کر گزرنے کے لیے پر عزم ہے جس کی وجہ سے امریکی سوچ بچار کرنے والوں کو اپنی سوچ میں بدلاو لانے پر اکسایا جا رہا ہوگا اور یہ اس سوچ کے بدلاو کا ہی نتیجہ ہے کہ امریکی صدر نے پاکستانی حکومت کے ساتھ مثبت تعلقات بڑھانے کے لیے بات کی ہے۔
اگر عمران خان کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں ان کا ہر ارادے کی تکمیل کے لیے کی جانے والی پیش قدمی ابتداءمیں اچھی نہیں تھی لیکن ان کی نہ رکنے والی اور نہ جھکنے والی خوبی نے قدرت کو متاثر کیا اور پھر قدرت نے ان کے ہر فیصلے اور اقدام کو عملی جامع پہنانے میں بھرپور مدد کی ہم صرف کرکٹ کا ابتدائی دور اٹھالیتے ہیں اور پھر شوکت خانم جیسے دیو ہیکل منصوبہ پر نظر ڈال لیتے ہیں ہم سیاسی بصیرت سے عاری اس شخص نے پاکستان کے ایوانوں میں بیٹھنے والوں کی نیندیں حرام کر کے رکھ دیں۔ یہ تو دنیا کا پاکستانی حکومت پر بھروسہ اور اعتبار ہے جو ہم لوگ پاکستان کی سرحدوں سے باہر بھرپور طریقے سے دیکھ رہے ہیں، کیا یہ بات جھوٹ ہے یا پھر کچھ اور کہ عمران خان مدینے کی گلیوں میں ننگے پاوں گھوم رہے ہیں اگر یہ بھی نہیں تو پھر کیا عمران خان چور ہے اور ان کے اب تک کے کیے جانے والے اقدامات جھوٹ اور فریب پر مبنی ہیں۔ اپنے اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر اپنے آپ سے یہ سوال کریں اگر جواب مثبت آئے تو فیصلہ کریں حق اور سچ کا ساتھ دیں گے۔
ساری دنیا ہی عمران خان کی پذیرائی کرتی دکھائی دے رہی ہے، اگر ہمارے ملک کے سیاستدان محب وطن ہیں تو پھر دوست ممالک سے ان کا رویہ مختلف کیوں ہے، ساری دنیا نے عمران خان کے اقدامات کو سراہا ہے، کسی اقدام پر شک و شبہ ظاہر کیے بغیر قرضہ یا امداد فراہم کی ہے لیکن وہ وجہ کون بتائے گا کہ جو اپنوں کو ہی گراں گزری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top