احساس و کفالت اور حقیقی ریاست مدینہ (عنایت کابلگرامی)

imran khanپچاس سال قبل جب ذوالفقار علی بھٹو نے پہلی مرتبہ پیپلز پارٹی کی نام کے ساتھ الیکشن لڑا تو ان کا اور ان کی پارٹی کا نعرہ ”روٹی ،کپڑا اور مکان“ کا تھا۔ تب سے لے2018ءتک پیپلز پارٹی نے چار مرتبہ وفاق اور چھ مرتبہ سندھ پر حکومت قائم کی ہے، جب کہ اب ساتویں مرتبہ بھی سندھ پر راج قائم کرچکی ہیں۔ ان تمام ادوار میں پیپلز پارٹی نے اپنا ابتدائی منشوری نعرہ ”روٹی کپڑا اور مکان“ جس کا وعدہ وہ ہر الیکشن میں کرتی آئی ہے وہ پورا نہیں کرسکی۔ پاکستان بھر کو پیپلز پارٹی کہ یہ موروثی سیاست والے کیا سہولیات فراہم کرتے ، ان کے آبائی صوبہ(صوبہ سندھ ) اور آبائی صوبے کے ساتھ ان کے مین قیادت کے آبائی حلقے اورآبائی شہر لاڑکانہ کے باسی نصف صدی کے بعد بھی روٹی کپڑے اور مکان سے محروم ہیں۔ پورے سندھ کا حال بورا ہے، تھر پار کھر میں ہر ماہ سینکڑوں لوگ بھوک و پیاس سے مررہے ہیں، جن میں زیادہ تعداد شیر خوار بچوں کی ہیں۔ روشنیوں کا شہر کراچی کس طرح پیپلز پارٹی کے مسلسل تیسرے دور میں کھنڈرات کا منظر پیش کرہاہے۔وہ سب کے سامنے ہے۔
پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کے ادوار میں غربت مٹاﺅ کے نام پر کئی پروگرام شروع کیے گئے اور ان کے لیے قومی خزانے سے خطیر رقم نکالی گئی، جن کا بیشتر حصہ خورد بر د کے نذر ہوگیا۔ اگر کسی غریب تک ان پروگراموں میں کوئی رقم پہنچی بھی تو اسے اس غریب کو بھی عزت نفس کو مجروح کرنا پڑا ہوگا۔ بے نظیر انکم سپورٹ کے نام پر غریبوں کو ماہانہ دو ہزار روپے دیے جارہے ہیں، جو حکمرانوں کے دس سالہ بچے کے ایک روزہ پاکٹ منی سے بھی کم ہیں۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام، لیپ ٹاپ اسکیم اور غربت مٹاﺅ کے نام پر ماضی میں بھی کافی لوٹ کھسوٹ ہوچکی ہے، جس سے قومی خزانے کو کھربوں روپے کا نقصان اُٹھانا پڑا ہے، جب کہ غربت و بے روز گاری اور مہنگائی آج بھی اس ملک کے باسیوں کے ستانے میں مصروف ہیں۔

موجودہ حکمرانوں بل الخصوص وزیر اعظم عمران خان صاحب نے سابقہ حکمرانوں سے سبق حاصل کرنے کے بجائے انہی کے نقش قدم کو اپنا لیا۔ جب کہ انہوںنے اقتدار میں آنے سے پہلے نیا اور بہتر پاکستان جیسے نعروں کا سہارہ لیا تھا۔ عمران خان صاحب نے ماضی کے حکمرانوں کی بھی پیچھے چوڑ دیا اور نیا پاکستان کے ساتھ ”مدینہ جیسے اسلامی ریاست“ کے قیام کا اضافہ کیا ۔ مگر سات ماہ گزر گئے اب تک کیے گئے وعدوں میں سے ایک بھی وفا نہیں ہو ا ماضی کے حکومتوں کی طرح موجودہ حکومت میں عوام دن بہ دن مہنگائی کے بوجھ تلے دبتے جارہے ہیں۔ گزشتہ سات ماہ میں موجودہ حکومت کی پالسیوں سے عوام میں شدید بے چنیاں بڑھتی جارہی ہیں۔ موجودہ حکومت عوام کو شدید مایوسی، غربت، بے روز گاری، بد امنی اور بد انتظامی سے نجات دلانے میں ناکامی کے بعد غربت ختم یا کم کرنے کا نعرہ، وعدہ اور دعویٰ لے کرسامنے آئی ہے، موجودہ حکمرانوں کا کہنا ہے کہ ”روٹی ، کپڑا، مکان، تعلیم اور صحت ہر پاکستانی کا بنیاد ی حق ہیں، جس کے لیے آئین پاکستان میں ترمیم کی جائے گی اور غربت کو مٹانے کے لیے سب نے ملک کر جہاد کرنا ہوگا۔ موجودہ حکومت نے غربت مٹاﺅ پروگرام” احساس اور کفالت“ کے نام سے شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پس ماندہ اور کمزور طبقات کے لیے مختص شدہ رقم میں 80ارب روپے کا اضافہ کرکے ایک کھرب بیس ارب کیا جائے گا۔

وزیر اعظم عمران خان صاحب اور ان کی حکومت کے وزرا کے علم میں یہ بات لانی ضروری ہے اور میں اس کو ضروری ہی سمجھتا ہوں کہ پاکستان کی عوام اب، گا، گی، گے، کی گردان سننا نہیں چاہتی ہیں۔تحریک انصاف کی حکومت کی اب تک ناقص حکومتی کارکردگی کے تناظر دیکھتے ہوئے عوام ان کے وعدوں پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں ہیں اور نہ ہی پاکستان کی عوام اپنے نام پر مزید کسی کو لوٹ کھسوٹ کی اجازت دے گی۔

غربت مٹاﺅ کے نام پر شروع ہونے والے ”احساس اور کفالت“ نامی اس پروگرام کے لیے حکومت نے ایک نئی وزارت قائم کی ہے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ موجودہ حکومت بھی سابقہ حکومت کی طرح صرف اپنے ارکان کو ہی احساس و کفالت فراہم کرتی ہیں۔ چھ ارکان کی اکثریت سے قائم موجودہ مخلوط حکومت میں پہلے ہی وزیروں ، مشیروں اور معاونین کے بڑی فوج موجود ہے۔ اس کے بعد ایک اور وزارت اس سے غربت ختم ہوگی یا غربت کے نام پر حکمرانوں کی حوس؟

 اسلام آباد میں ”احساس اور کفالت“ نامی پروگرام کے تقریب اجراءسے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم پاکستان عمران خان صاحب نے کہا کہ،” ملک سے غربت مٹانا جہاد ہے۔ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے، جو اسلام کے نام پر وجود میں آیا، اس کو دنیا میں ایک مثالی ملک بننا تھا، لیکن ہم ریاست مدینہ کے اصولوں کے خلاف چلے گئے۔ ریاست مدینہ کے اصولوں کے جانب احساس اور کفالت ہمارا پہلا قدم ہے“۔ پروگرام احساس اور کفالت کو ریاست مدینہ کے اصولوں کی جانب پہلا قدم قرار دینے والے وزیر اعظم عمران خان صاحب سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ اگر واقعی ان کے دل میں احساس جاگ گیا ہے تو پہلے وہ اپنی ذاتی زندگی ، حکومتی ارکان اور اپنے وزرا کے معمولات پر نظر ڈال کر دیکھیں اور اصلاح کا آغاز خود سے اور اپنے وزرا و ارکان سے شروع کریں۔
یہی پہلا وہ قدم ہوگا جو ”حقیقی ریاست مدینہ“ کے اصولوں کی جانب ہوگا اور غریبوں کی کفالت کا ذریعہ بن جائے گا، کیوں کے ”حقیقی ریاست مدینہ“ میں صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین سب سے پہلے اپنی اصلاح کیا کرتے تھے۔ خلفائے راشدین ؓخود بھوکے سوتے تھے مگر اپنی رعایا کو بھوکا سونے نہیں دیتے تھے، ”حقیقی ریاست مدینہ “ کے حکمران راتوں کو جاگ کر اپنی رعایا کی خود حفاظت کیا کرتے تھے۔لیکن کیا موجودہ حکمرانوں میں ہے کوئی ایسا؟ اگر ایسا نہیں تو پھر اپنے مُنہ سے بار بار ”ریاست مدینہ“   کا رٹ لگا نا بند کردیں۔ یااللہ تعالیٰ تو ہی میرے ملک پاکستان کو نیک و صالح حکمران عطا فرما (آمین)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top