Wednesday, November 25, 2020
- Advertisment -

مقبول ترین

کراچی پریس کلب پر زمینوں پر قبضہ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ جاری

تفصیلات کے مطابق سیھون شریف سے متعلقہ علاقہ بھٹ جبل کے مقام پر ای این آئی تیل و گیس کمپنی کی جانب...

مزار قائد تاریخ اہمیت مختصر ڈاکومینٹری

Mazar-e-Quaid, also known as Jinnah Mausoleum or the National Mausoleum, is the final resting place of Quaid-e-Azam Muhammad Ali Jinnah, the founder...

عذرا پیچوہونے مساجد بند کرنے کی تجویز دیدی

وزیر صحت سندھ عذرا پیچوہو نے مساجد بند کرنے کی تجویز دے دی،سندھ بھر میں کورونا کے بڑھتے...

سندھ میں گورنر کی تبدیلی (مختار عاقل)

nawazوزیر اعظم نواز شریف نے اپنا وعدہ نبھا دیا۔ سابق چیف جسٹس سعید الزماں صدیقی کو صدر مملکت کے عہدے پر تو براجمان نہ کر سکے، سندھ کا گورنر ضرور بنا دیا۔ صدر کے عہدے کے لیے جس دن ممنون حسین کی ممنونیت کام کر گئی اس دن سے جسٹس (ر) سعید الزماں صدیقی اداس اور آزردہ تھے۔ مسلم لیگ (ن) کے لیے بھی ان کی خدمات بہت محدود رہ گئی تھیں۔ سابق صدر پاکستان پرویز مشرف نے 3 نومبر 2007 ء کو ملک میں ایمرجنسی نافذ کر کے ججوں کو نیا حلف اٹھانے پر مجبور کیا تو جسٹس سعید الزماں کو انکار کی پاداش میں ملازمت سے سبکدوش کر دیا گیا تھا۔ 2013 ء میں میاں نواز شریف تیسری مرتبہ وزیر اعظم بنے اور آصف علی زرداری صدارت سے سبکدوش ہوئے تو صدر کے لیے قرعہ فال جسٹس صاحب کی بجائے ممنون حسین کے نام کھل گیا تھا۔ اب گورنر سندھ کے عہدہ جلیلہ پر فائز کر کے تاریخ کا قرض ادا کر دیا گیا ہے۔
zaman-s
80 سالہ جسٹس (ر) سعید الزماں صدیقی نے جس پیرانہ سالی میں گورنری کا عہدہ قبول کیا ہے اس پر بڑی چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں۔ پیپلز پارٹی کے رہنما بابر اعوان نے تبصرہ فرمایا کہ قائم علی شاہ (سابق وزیر اعلیٰ سندھ) کو مونجودڑو کا وزیر اعلیٰ کہنے والوں کو ہڑپہ کا گورنر مبارک ہو۔ کسی نے تبصرہ کیا کہ گورنر ہاؤس سے ڈاکٹر (عشرت العباد) نکل گیا اور مریض (سعید الزماں صدیقی) داخل ہو گیا ہے۔ حلف برداری کے بعد طبیعت کی خرابی کے سبب مزار قائداعظم پر حاضری نہ دینے کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا گیا کہ گورنر کا حلف اٹھاتے ہوئے ناف اتر گئی۔ اس قسم کا ظالمانہ تبصرہ کرنے والے عدلیہ کی آزادی اور آئین و قانون کی بالادستی کے لیے جسٹس (ر) سعید الزماں کی اعلیٰ خدمات یکسر بھلا بیٹھے۔ جن لوگوں کو تازہ گورنر سندھ باسی اور بوسیدہ لگ رہے ہیں، انہیں یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ ماضی کے چاق و چوبند اور جوان گورنر بھی اسی طرح سے مفلوج تھے۔
ishrat
گورنر عشرت العباد نے ڈیڑھ ماہ کم 14 برس اس عہدے پر براجمان رہتے ہوئے گزارے انہیں سندھ کی شہری (مہاجر) آبادی کا نمائندہ تصور کیا جاتا تھا ایم کیو ایم سے ان کی پکی وابستگی تھی لیکن انہوں نے اس شہری آبادی کے لیے کوئی بڑا کارنامہ انجام نہیں دیا۔1971 ء میں لیفٹیننٹ جنرل (ر) رحمان گل سندھ کے گورنر تھے انہوں نے ایک آرڈر کے ذریعے صوبائی ملازمتوں اور اعلیٰ تعلیمی اداروں میں داخلوں کے سلسلے میں شہری اور دیہی علاقوں کی بنیاد پر سندھ میں کوٹہ سسٹم نافذ کیا تھا۔ دیہی علاقوں کو 60 فیصد اور شہری علاقوں کو 40 فیصد حصہ دیا گیا۔ شہری علاقوں میں کراچی، حیدرآباد اور سکھر کو شامل کیا گیا تھا تب سے یہ سسٹم آج تک نافذ العمل ہے۔ سبکدوش گورنر عشرت العباد اس عہدے پر 14 سال براجمان رہے لیکن کوٹہ سسٹم ختم نہ کرا سکے جبکہ سندھ کی شہری آبادی گزشتہ 45 برس کے دوران کئی گنا زائد بڑھ چکی ہے۔
ayyob
صدر ایوب خان مرحوم نے 1959ء میں وفاقی دارالحکومت کراچی سے اسلام آباد منتقل کیا تھا۔ دو سال بعد1961 ء میں مردم شماری کرائی گئی تو کراچی کی آبادی60 لاکھ تھی لیکن1972 ء کی مردم شماری میں ڈنڈی ماری گئی اور کراچی کی آبادی صرف 35 لاکھ شمار کی گئی جبکہ 11 سال کے دوران قدرتی افزائش اور نقل مکانی کے باعث کراچی کی آبادی کم از کم 65 لاکھ شمار ہونی چاہیے تھی۔ اس زیادتی کا سبب یہ تھا کہ اسمبلیوں میں کراچی کی نشستیں نہ بڑھیں اور کوٹے میں بھی اضافہ کیا جائے۔ اس کے ساتھ ہی کراچی کے لیے وفاقی ملازمتوں میں 2 فیصدکوٹہ بھی ختم کر دیا گیا۔1998 ء کے بعد نئی مردم شماری سے مسلسل گریز کی وجہ بھی یہی ہے کہ کراچی کو اس کے حقیقی سیاسی، اقتصادی اور تعلیمی حقوق سے محروم رکھا جائے۔ عالمی بینک نے حال ہی میں کراچی کو سنگین مسائل کی بنا پر ٹاپ 10 ناقابل رہائش شہروں کی فہرست میں شامل کیا ہے۔
world-bank
عالمی بینک نے پاکستان ڈیولپمنٹ اپ ڈیٹ رپورٹ میں ”کراچی سٹی ڈائیگناسٹک“ کے عنوان سے خصوصی تجزیاتی رپورٹ میں کہا ہے کہ کراچی کی آبادی میں تیز ترین پھیلاؤ کے مقابلے میں شہری سہولتوں کی فراہمی اور بروقت اقدامات نہیں کیے جا رہے ہیں۔ 50 فیصد سے زائد آبادی کچی آبادیوں میں رہائش پذیر ہے جہاں آبادی میں دگنی رفتار سے اضافہ ہو رہا ہے۔ بے ہنگم تعمیرات مسائل کا سبب بن رہی ہیں۔ واٹر بورڈ پانی کی طلب کا صرف 55 فیصد ہی فراہم کر رہا ہے، پانی کا ضیاع اور چوری عام ہے۔43 فیصد پانی کی قیمت وصول نہیں کی جاتی۔ سیوریج کا نظام فیل ہو چکا ہے۔ یومیہ 475 ملین گیلن فضلہ سمندر میں پھینک کر اسے بھی آلودہ کیا جا رہا ہے اس میں کارخانوں سے نکلنے والا صنعتی کچرا بھی شامل ہے۔ گلیوں اور سڑکوں پر کچرے کے ڈھیر جمع ہیں جو آلودگی اور موذی بیماریوں کا سبب بن رہے ہیں۔ قدرتی آفات اور حادثات سے بچنے کا کوئی نظام نہیں ہے۔ منصوبہ بندی اور نقشوں سے بالا بننے والی عمارات زیادہ شدت کے ممکنہ زلزلے سے ملبے کا ڈھیر بن سکتی ہیں۔ عالمی بینک نے کراچی میں ٹریفک کی بدنظمی اور پبلک ٹرانسپورٹ کے فقدان کو بھی بڑا مسئلہ قرار دیا ہے۔ گاڑیوں کی تیزی سے بڑھتی تعداد کے باعث ٹریفک جام کا مسئلہ سنگین صورت اختیار کر چکا ہے۔ سرکاری پبلک ٹرانزٹ سسٹم کا سرے سے وجود ہی نہیں ہے۔ انفرااسٹرکچر کی تباہی کاروبار پر بھی خراب اثر ڈال رہی ہے۔
assembly-haalسیاسی بے یقینی، بجلی کا تعطل اور طویل لوڈشیڈنگ، کرپشن اور بھتہ خوری کے باعث کراچی میں کاروبار کرنا دشوار ہو گیا ہے، یہ وہ مسائل ہیں جنہیں گزشتہ 14 سالہ گورنری کے دوران ڈاکٹر عشرت العباد حل نہ کرا سکے۔ ایم کیو ایم کے ایک رہنما خواجہ اظہار الحسن نے سندھ حکومت کو وزیر اعلیٰ کی ”بادشاہت“ قرار دیا ہے۔ ایسی صورت میں ڈاکٹر عشرت العباد ”جوان“ ہونے کے باوجود اسی قدر ”مفلوج“ اور ”مجبور“ نظر آتے ہیں جتنا کہ جسٹس (ر) سعید الزماں ہیں۔ دراصل سندھ حکومت کا نقشہ ہی کچھ ایسا ہے کہ اس میں شہری سیاسی قیادت خدمات کی انجام دہی سے قاصر ہے۔ بالخصوص 18 ویں آئینی ترمیم نے تو وزیر اعلیٰ کو خودمختار بادشاہ کے درجے پر فائز کر دیا ہے۔ سندھ اسمبلی قومی اسمبلی اور سینیٹ میں دیہی علاقوں سے زیادہ نشستوں کے سبب شہری علاقے ان کے دست نگر ہیں۔ سندھ کے اقتدار پر قابض دیہی سیاسی قیادت کی کوشش ہوتی ہے کہ شہری قیادت ”غفلت“ کی ”نیند“ سوتی رہے یا پھر ”کرپٹ“ ہو جائے اور شہری عوام کی بخوبی خدمت نہ کر سکے۔
moq
ایم کیو ایم کے بطن سے جنم لینے والی پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفےٰ کمال نے ڈاکٹر عشرت العباد پر جو رکیک حملے کئے‘ راز فاش ہوئے اور کردار کشی کر کے گورنری ختم کرنے کی بنیاد ڈالی‘ ان الزامات کو درست تسلیم کر لیا جائے تو ڈاکٹر عشرت کو اس راہ پر ڈالنے والی سندھ کی دیہی قیادت ہی تھی جس نے کراچی کے وسائل اور اداروں پر قبضہ کر کے اپنی تجوریاں بھرنے کے لئے ڈاکٹر عشرت العباد کو اس راستے پر ڈالا۔ اس راہ پر چل کر وہ نہ صرف اپنی پارٹی بلکہ اپنے عوام سے بھی بیگانے ہو گئے۔ دیہی قیادت اور افسر شاہی مزے لوٹتے رہے۔ جھوٹ‘ مکر‘ فریب اور استحصال پر مبنی سیاسی نظام درحقیقت ملکی وسائل اور عوام کو لوٹنے کی سازش ہے۔ منصفانہ اور عادلانہ سیاسی و معاشی نظام ہی ملک کی تقدیر بدل سکتا ہے۔ گورنر کی تبدیلی تو عوام کو بہلانے کا ایک بہانہ ہے۔ مسلم لیگ (ن) سندھ میں گورنر کی تبدیلی کے ساتھ ہی چاروں صوبوں میں (ن) لیگ کے گورنر مقرر ہو گئے ہیں۔
pak-map
پنجاب میں رفیق رجوانہ‘ خیبر پختونخواہ میں اقبال ظفر جھگڑا‘ بلوچستان میں اچکزئی اور اب سندھ میں جسٹس (ر) سعیدالزماں صدیقی کی تقرری نے چاروں صوبوں میں (ن) لیگ کے چاروں پائے مضبوط کر دیے ہیں۔ کسی بھی صوبے میں گڑبڑ کے نتیجے میں گورنر راج نافذ کرنے کا اختیار حاصل ہو گیا ہے۔ مرکز میں صدر ممنون حسین بھی وزیر اعظم نواز شریف کے ”ممنون“ ہیں۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کہتے ہیں کہ نواز شریف فوج سے خوفزدہ ہیں۔ شاید اسی لئے وزیر اعظم خود کو مضبوط کرتے جا رہے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر اور پارٹی کے ڈپٹی جنرل سیکریٹری سید نہال ہاشمی نے گورنر ہاؤس سے ڈاکٹر عشرت العباد کے اخراج کو گورنر ہاؤس میں الطاف دور کا خاتمہ قرار دیا ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ کے بانی الطاف حسین اور ان کی زیر قیادت پارٹی اس وقت سخت آزمائش سے گزر رہی ہے۔ سندھ کی گورنری کا چھن جانا بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔
(بشکریہ روزنامہ جرات)
Open chat