Monday, October 26, 2020
Home خصوصی رپورٹس گرین لائن بس منصوبے میں تاخیر کیوں؟ (عبدالرحمٰن عاجز)

گرین لائن بس منصوبے میں تاخیر کیوں؟ (عبدالرحمٰن عاجز)

2 26فروری 2016 پاکستان کے وزیر اعظم میان محمد نواز شریف نے صوبہ سندھ کے دارالحکومت اور ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں پبلک ٹرانسپورٹ کے مسائل کو حل کرنے کے لیے نارتھ ناظم آباد میں انو بھائی پارک میں نقاب کشائی کر کے گرین لائن ریپڈ بس منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا تھا۔ اس وقت پرنٹ میڈیا پر دیے گئے حکومت پاکستان کے اشتہارات کے مطابق منصوبے کی لاگ 16.085 ملین روپے تھی۔ منصوبے کی مجموعی لمبائی 18.4 کلو میٹر، اسٹیشن کا درمیانی اوسط فاصلہ 800 میٹر، خودکار ٹکٹنگ مشینوں کی تنصیب، معذور افراد کے لیے خصوصی انتظام اور تزئین و آرائش سے شاہکار 2 رویہ بس لین ہو گی۔ جبکہ منصوبہ 1سال میں مکمل ہو جانا تھا۔
مگر اب گرین لائن منصوبے کو حتمی منظوری کے لیے قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی (ایکنک) میں پیش کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ مگر 8 ارب 60 کروڑ روپے اضافی لاگت کی منظوری کے ساتھ اور نظرثانی شدہ منصوبے کی لاگت 16 ارب سے بڑھ کر 24 ارب 60
4
کروڑ روپے کر دی گئی ہے۔ اور تقریباً 27 کلومیٹر طویل سگنل فری سڑک تعمیر کی جائے گی۔ منصوبے کی تکمیل سے یومیہ کراچی کے 4 لاکھ شہری مستفید ہو سکیں گے اور 100 سے زیادہ بسوں کی گنجائش ہو گی۔ منصوبہ پہلے صدر سے شروع ہو کر سرجانی ٹاؤن تک جانا تھا لہٰذا اب سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ تک توسیع کر دی گئی ہے۔ یہ منصوبہ دسمبر 2017 تک مکمل کیا جائے گا۔
3
ایکسپریس نیوز ٹی وی کے مطابق کراچی کی آبادی پورے سندھ کی آبادی کا 30 فیصد ہے۔ پورے صوبہ سندھ کو بجٹ 1 ہزار ارب ملتا ہے جبکہ اصولی طور پر کراچی کو 300 ارب ملنا چاہیے تھا مگر وفاقی حکومت کی ناانصافی دیکھیے کہ کراچی کو صرف 35 ارب ملتا ہے۔ جبکہ صرف لاڑکانے کو 90 ارب ملے ہیں مگر ترقیاتی کام زیرو فیصد ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کراچی کے ساتھ پہلے ہی ناروا سلوک رکھا جا رہا ہے، تو اتنی تاخیر کس بات کی ہو رہی ہے۔ 26 فروری 2016 سے 26 فروری 2017 تک ایک سال پورا ہو جاتا ہے اور مجوزہ گرین لائن منصوبہ جسے وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کی طرف سے کراچی کی عوام کے لیے ایک عظیم تحفہ قرار دیا جا رہا تھا وہ ایک سال میں مکمل ہو کر عوام الناس کو مستفید ہونے کے لیے کھول دینا چاہیے تھا مگر اتنا وقت گزرنے کے باوجود اسے فی الحال حتمی منظوری کے لیے قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی (ایکنک) میں پیش کرنے کا فیصلہ ہی کیا گیا ہے۔ اور اس منصوبے کی تکمیل کو فروری 2017 کی بجائے دسمبر 2017 تک بڑھا دیا گیا ہے۔ آخر کیوں؟

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular

علی عمران کی گمشدگی، وزیراعظم کی ہدایت پر کمیٹی قائم

کراچی، وزیراعظم عمران خان نے جیو نیوز کے رپورٹر علی عمران سید کے لاپتہ ہونے کا نوٹس لیتے ہوئے جوائنٹ فیکٹ...

قائد اعظم ٹرافی ، 24 اکتوبر سے شروع ہوگی

کراچی، 24 اکتوبر سے قائد اعظم ٹرافی کا میلہ سجے گا۔ پی سی بی ذرائع کے مطابق قائد اعظم ٹرافی کی...

سندھ حکومت علی عمران کے لاپتہ ہونے کی تحقیقات کرے، فواد چوہدری

کراچی، وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے جیو نیوز کے رپورٹر علی عمران کے لاپتہ ہونے کی تحقیقات کےلئے سندھ...

جلد آٹا کی قیمت نیچے آجائیگی، کمشنر کراچی

کراچی، شہر کے انفرااسٹرکچر کی بہتری کے لئے بہت کام شروع ہوجائے گا، ان خیالات اظہار کمشنر کراچی سہیل راجپوت نے میڈیا...