Thursday, January 21, 2021
"]
- Advertisment -

مقبول ترین

ایم کیو ایم لندن کے 2 ٹارگٹ کلرز گرفتار

لیاقت آباد شریف آباد میں سی ٹی ڈی حکام نے کارروائی کرتے ہوئے ایم کیو ایم لندن کے 2 ٹارگٹ کلرز کو گرفتار کرلیا۔...

فائرنگ کے مختلف واقعات میں 2 افراد زخمی

فائرنگ کے مختلف واقعات میں 2 افراد زخمی ہوگئے۔ تفصیلات کے مطابق لانڈھی داؤد چالی ریلوے ٹریک کے قریب فائرنگ سے 1 شخص زخمی...

سونے کی قیمت مزید بڑھ گئی

سونے کی قیمت مزید برھ گئی، فی تولہ سونا 150 روپے مہنگا ہوگیا۔ تفصیلات کے مطابق عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت مزید 9...

بختاور کے دولہا شادی کے لئے کراچی پہنچ گئے

سابق صدر آصف علی زرداری کی صاحبزادی اور چیئر مین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی ہمشیرہ بختاور بھٹو زرداری کے ہونے والے دولہا...

گٹکا:حکومت تیاری و فروخت پر کنٹرول میں ناکام (محمد نعیم)

gutka 03گٹکا شہر کراچی میں زیادہ مقبولیت رکھتا ہے اور اب ملک کے دیگر شہروں میں بھی اس کی فروخت و استعمال میں اضافہ ہو رہا ہے۔ محکمہ صحت کو گٹکا کے جان لیوا اثرات سامنے آنے کے باوجود اس کی فروخت اور استعمال پر مکمل پابندی عائد کرنے میں ناکامی کا سامنا ہے۔ سروے رپورٹ کے مطابق کراچی میں 30فیصدبچے، مرد اور خواتین گٹکا چبانے کی بری عادت میں مبتلا ہیں۔ کچی آبادیوں کے کم پڑھے لکھے افراد اور محنت مزدوری کرنے والوں میں اس کا استعمال زیادہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کا ایک سبب ان میں گٹکا کے مضراثرات سے لا علمی ہے۔ شہر کے مختلف مقامات پر چار سو سے زائد خفیہ کارخانے غیر قانونی طور پر اس زہر کو تیار کر رہے ہیں۔ گٹکے کی فروخت ہر گلی کونے کی دکان اور پان سیگرٹ کے کیبن پر ہوتی ہے۔ گزشتہ برس جب اس پر پابندی عائد ہونے کے بعد کھلے عام اس کی فروخت اور سپلائی عارضی طور پر رکنے کے بعد ان کیبن والوں نے اپنا گٹکا تیار کرنا شروع کر دیا، یوں انتظامیہ کی غفلت سے شہر میں چھوٹے پیمانے گٹکا تیار کرنے کے ان گنت مراکز بن گئے۔ حکومت وقت پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ گٹکا اور اس قسم کی دوسری نشہ آور اشیاءکی تیاری و فروخت پر پابندی عائد کرنے کے ساتھ اس کا کاروبار کرنے اور انہیں استعمال کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرے۔

گٹکا مضر صحت تو ہے ہی لیکن اس کے باعث ہمارے ماحول کو کتنا نقصان پہنچتا ہے ۔ کراچی میں اوور ہیڈ بنے برج اور ، بجلی کے کھمبے ،پبلک ٹرانسپورٹ و مقامات پیکدان کا منظر پیش کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ گٹکے کی صورت میںنوجوانوں میں سرایت کرنے والے زہر کو پاکستان میں پھیلانے کا ذمہ دار بھارت ہے۔مقامی طور پر گٹکے کی تیاری کے علاوہ بھارت سے بھی سمندری و خشکی کے راستے ممنوعہ گٹکوں کی اسمگلنگ کی جاتی ہے۔کراچی و اندرون سندھ انڈین گٹکے کی مختلف برانڈز بھی مقبول ہیں۔
gutka 02گٹکا کا استعمال آلودگی اور گندگی میں اضافہ بن کر دوسروں کے لیے بھی تکلیف کا باعث بن رہا ہے۔ گٹکا اور اس جیسی دیگر اشیاءکا مضر صحت اور ماحول دشمن ہونے کی بنا پر مشرق وسطیٰ کے بعض ممالک میں اس پر پابندی عائدہے۔ متحدہ عرب امارات کی ریاست ابو ظہبی میں اس کے سرعام چبانے والے پر دس ہزار درہم جرمانے کی سزا ہے جبکہ سعودی عرب میں گٹکا و پان استعمال کرنے والے پر مقدمہ درج کردیا جاتا ہے جہاں اسے جیل میں قید و بند کی سزائیں دی جاتی ہیں اور بسا اوقات سزا کے بعد اسے ڈیپورٹ بھی کردیا جاتا ہے۔پاکستان میں گزشتہ سال پابندی کے بعد کچھ روز تک پولیس اور رینجرز نے عوامی مراکز اور لوکل ٹرانسپورٹ میں گٹکا کھانے والوں کا مواخذہ کرنا شروع کیا تھا تاہم یہ وقتی طور پر سرزنش کرنے کا عمل بھی چند روز تک جاری رہ سکا، ضرورت اس امر کی ہے کہ گٹکے کے استعمال و خرید و فروخت کرنے والوں کے خلاف مستقل بنیادوں پر قانونی کارروائی کی جائے۔

گٹکا کے اجزاءترکیبی ایسے ہیں جن کا استعمال صحت کے لیے مضر ہے ہی تاہم انسانی جانوں سے کھیلنے والے اور کم پیسہ لگا کر زیادہ منافع کمانے والے اس میں بعض خطرناک اشیاءبھی شامل کرتے ہیں۔ معیاری تمباکو مہنگا ہونے کی وجہ سے انتہائی غیر معیاری تمباکو استعمال کیا جاتا ہے۔مختلف ٹی وی چینلز کی چھاپہ مار ٹیموں کی جانب سے پیش کردہ رپورٹس کے مطابق گٹکاکا کتھا مہنگاہونے کے سبب اس میں متبال کے طور پر کمیلے سے حاصل کردہ جانوروں کا خون، چھالیہ کی جگہ میں کجھور کی گٹھلیاں اور لکڑی کا برادہ شامل کیا جاتا ہے۔ تمباکو میں موجود نیکوٹین کو منہ میں زیادہ جذب کرنے اور اس کا نشہ دوبالا کرنے کے لیے کانچ کے باریک ذرات استعمال کیے جاتے ہیں۔ جبکہ خشک گٹکے میں مضر صحت تیز کیمیکل استعمال کیے جاتے ہیں۔

gutka 04پاکستانی عوام میں مقبول نشہ “گٹکا” سیگرٹ سے زیادہ مضراور خطرناک ہے ۔ گٹکا کھانے والے کا سب سے پہلے منہ متاثر ہوتا ہے۔ اس کا زیادہ استعمال اور اس میں موجود کانچ کے ذرات منہ کے نرم گوشت کو سخت کر دیتے ہیں جس کے سبب منہ پورا کھولنا اور زبان کا ہونٹوں سے باہر نکالنا دشوار ہو جاتا ہے، نیز چونے کا مسلسل استعمال منہ کی جلد کو پھاڑ کر چھالا بنا دیتا ہے جو بعد میں منہ کا السر بن جاتا ہے، اگر متاثرہ شخص فورا چھالیہ، گٹکا، مین پوری وغیرہ کا استعمال ترک نہیں کرتا تو یہی السر آگے چل کر کینسر کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ گٹکا کھانے والے کی پہلے پہل آواز میں خرابی پیدا ہوتی ہے جو بڑھتے بڑھتے گلے کے کینسرتک پہنچ جاتی ہے۔ سروے کے مطابق منہ، گلے، خوراک کی نالی اور معدے کینسر کے مریضوں میں سے 60 فیصد سے لیکر 70 فیصد تعداد گٹکا کھانے والوں کی ہوتی ہے۔سول اسپتال کراچی کے کینسر یونٹ کے جاری کردہ اعداد وشمار اس سے بھی زیادہ بھیانک ہیں۔ کراچی اوراندرون سندھ سے تعلق رکھنے والے 23 فیصد کینسر کے مریض گٹکا اور تمباکو سے متاثر ہوئے ہیں۔جبکہ جناح ہسپتال کے شعبہ کلینکل اونکولوجی (کینسر وارڈ ) کے طبی عملے کے مطابق وہاں لائے جانے والے 90فیصد مریض ایسے ہوتے ہیں جو گٹکا سمیت دیگر نشہ آور اشیا سے متاثرہوتے ہیں۔ لوگوں کی اکثریت ایسی ہے جو گٹکا کے سب نقصانات سے واقف ہونے کے باوجود اس کا استعمال جاری رکھے ہوئے ہے۔ کینسر کی دیگر اقسام کی شرح اس کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ لوگ پیسے دے کرخوبصورت پیکنگ میں دستیاب موت اپنے لیے خود خرید تے ہیں۔حفظان صحت کے لیے کام کرنے والے مختلف سرکاری و غیر سرکاری اداروں کے اعداد و شمار کے مطابق 7فیصد کم عمر بچے گٹکا، چھالیہ ، مین پوری جیسی مضر صحت اشیا کا استعمال کرتے ہیں، جبکہ اس سے بھی افسوس ناک بات یہ دیکھنے میں آئی ہے کہ بعض مائیں شیر خوار بچوں کو خواب آور مادے کے طور پر منہ میں چبائے گئے گٹکے کا لعاب دیتی ہیں۔ منہ کے کینسر میں مبتلا ہونے والوں میں سب سے زیادہ تناسب کراچی والوں کا ہے۔
gutka 05طبی لحاظ سے مضر ہونے کے ساتھ ساتھ اسلامی نقطہ نظر سے بھی گٹکا اور دیگر نشہ آور اشیاءکا استعمال جائز نہیں۔ جماعةالدعوة شعبہ دارالافتاءوالقضاة کے سربراہ مفتی عبدالرحمان عابد کے مطابق تمباکو اور اس سے بنائی گئی تمام اشیا کا استعمال شریعت اسلامیہ کی روح سے ناجائزہے۔ اس حوالے سے انہوں نے کہا کہ چھالیہ و دیگر مضر صحت اجزا کی بنا پر گٹکا اور اس جیسی خصوصیت رکھنے والی دیگر اشیا حرام ہیں اور ان کا استعمال قطعاً جائز نہیں۔مفتی عبدالرحمان عابد کا کہنا تھا کہ ایسی اشیاءکا استعمال انسان کی ظاہری صورت کو بدنما بنانے کے علاوہ فرشتوں اور دیگر لوگوں کے ایذاپہنچانے کا سبب بھی بنتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ علماءکرام کا حق بنتا ہے کہ اس حوالے سے وہ لوگوں کی رہنمائی کریں اور خطبات جمعہ و دروس میں ان اشیا کے نقصانات اور حرمت کو بیان کرنا چاہیے اور لوگوں کو ایسی جان لیوا اشیا کا استعمال ترک کرنے کی ترغیب دیں۔
naeemtabssum@gmail.com

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Open chat