Thursday, November 26, 2020
- Advertisment -

مقبول ترین

پولیس اور حساس ادارے کی کارروائی،4 دہشت گرد گرفتار

غربی پولیس اور حساس اداروں کی مشترکہ کارروائی، 4 دہشت گرد گرفتار، پولیس کے مطابق 3 دہشت گردوں...

تاجرتنظیموں کا 6 بجے دکانیں بند کرنے سے انکار

شام 6 بجے دکانیں بند کرانے کےخلاف تاجر برادری میدان میں آگئی، شہر بھر کی تاجر تنظیموں...

ارجنٹائن کے معروف فٹ بالر دیگو میراڈونا چل بسے

ارجنٹائن کے لیجنڈری فٹ بالر ڈیگو میراڈونا انتقال کرگئے، مرحوم کے خاندانی ذرائع کے مطابق میراڈونا کو دل...

صرف اللہ ہی کافی ہے (حافظ عاکف سعید)

pakistanامریکی وزیر خارجہ افغانستان ہی سے پاکستان کو للکارتے ہوئے اسلام آباد پہنچے تھے جس کی تفصیل میڈیا میں آچکی ہے ۔ اس میں ان کا لب و لہجہ وائسرائے جیسا تھا اور انہوں نے دھمکی دی تھی کہ پاکستان سیدھے راستے پر آجائے اور دہشتگردوں کی سرپرستی چھوڑ دے ۔حقیقت یہ ہے کہ ماضی میں ہم نے خود ہی امریکہ کو یہ حیثیت دی جیسے گویا کہ وہ آقا ہو اور ہم غلام۔سب جانتے ہیں کہ ایک طویل عرصے تک ہم امریکہ کی دہشتگردی کے خلاف نام نہاد جنگ میں پرویز مشرف نے ایک ہی دھمکی پر سپر ڈالے رکھی تھی۔پرویز مشرف کو اقتدار پر لایا ہی اس لئے گیا تھاکہ امریکہ نے اس سے کام لینا تھا ۔وجہ ظاہر ہے کہ ایک ہی بااختیار شخص سے کام لینا آسان ہوتا ہے۔بہرحال اب یہ تاریخ کا حصہ ہے اور اس کے حقائق کھل کر سامنے آچکے ہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پوری قوم نے پرویز مشرف کے اس فیصلے کو قبول کیا تھا۔ آغازمیں تو معاملہ دوستی کا رہا لیکن ہم سے بھرپور کام لینے کے بعد اب ہمارے ساتھ غلاموں جیسا رویہ اختیار کیا جارہا ہے۔

الحمد للہ کہ ہماری موجودہ حکومت نے اپنا رویہ بدلا ہے یہاں تک کہ بی بی سی بھی کہہ اٹھا کہ پاکستان نے امریکی وزیر خارجہ کے ساتھ سرد مہری کا رویہ اختیار کیا ۔پاکستان کے وزیر خارجہ نے بھی کہا ہے کہ امریکہ تسلیم کرے کہ اسے افغانستان میں شکست ہوئی ہے۔اسے اس حقیقت کو تسلیم کرنا چاہئے اس لئے کہ ایک محتاط اندازے کے مطابق افغانستان کے 50فیصد سے زائد حصہ پر طالبان افغانستان کی عملداری ہے۔ایک وقت وہ تھا جب امریکی حملے کے بعد طالبان پہاڑوں میں چھپ گئے تھے ۔گوریلا جنگ تو دو تین سال کے بعد شروع ہوئی ۔پندرہ سال کے بعد اب پوزیشن یہ ہے کہ افغانستان کے پچاس فیصد سے زیادہ حصے پر وہ قابض ہیں۔امریکہ اپنے نیٹو اتحادیوں کے لاﺅ لشکر کے ساتھ افغانستان پر حملہ آور ہوا تھا لیکن موجودہ حقائق کے پیش نظر اسے اپنی شکست تسلیم کرلینی چاہئے۔ہماری جانب سے اس بات کا کہ اظہار ہمارے وزیر خارجہ کی جانب سے ہوا ہے جو یقینا خوش آئند ہے۔ایسی بات کرنے کی ہمیں پہلی بار جرا ءت ہوئی ہے۔لیکن دوسری جانب ہمارے ہاں سیاسی عدم استحکام کی صورتحال ہے اوربالخصوص معاشی سطح پر ہم دیوالیہ پن کا شکار ہیں ۔ان حالات میں ہم عالمی قوتوں کا مقابلہ کس طرح کرسکتے ہیں؟عالمی قوتیں تو اسلام اور پاکستان کی دشمنی پر اتر آئی ہیں۔ہماری معاشی بدتری کی بنیاد پر وہ ہمارا استحصال کریں گی اورہمارا بازو مروڑیں گی۔اس وقت تو ہماری پوزیشن یہی ہے۔اس کے لئے عوام و خواص میں سچا جذبہ ایمانی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔

ہم اپنے منحرف نظرئیے کی طرف واپس آئیں اور حقیقی معنوں میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے وفادار بن جائیں تو سب کچھ ممکن ہوسکے گا۔اللہ کی نصرت آئی تو اس کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا چاہے دنیا کی بڑی سے بڑی قوت ہی کیوں نہ ہو۔کائنات کی سب سے بڑی قوت اللہ ہے جو احکم الحاکمین ہے۔ہمارا نعرہ ہی اللہ اکبر ہے۔کل قوت کا مالک بھی وہی ہے کیونکہ وہی قادر مطلق ہستی ہے۔لا حول ولا قوة الا باللہ ۔کسی اور کے پاس اس کے مقابلے میں کوئی قوت نہیں۔ایسا نہیں کہ کچھ چھوٹی قوتیں ہیں اور اللہ بڑی قوت ہے بلکہ قوت کا مالک صرف اور صرف اللہ ہے۔ہم مسلمانوں کا عقیدہ تو یہی ہے۔لیکن چونکہ ہم اس کے وفادار نہیں رہے اور نہ ہی بظاہر ہمارا ایسا کوئی ارادہ ہے ۔ہم توزمینی خداﺅں کے آگے سربسجود ہوچکے ہیں۔نصرت خداوندی ہی ہمیں اس صورتحال سے نکال سکتی ہے ورنہ ہمارے بس میں نہیں کہ ان قوتوں کے خلاف مزاحمت کرسکیں۔ہماری دعا ہے کہ اللہ ہمیں ان بدی کی قوتوںکے شر سے محفوظ فرمائے۔

دوسرا ایشو یہ سامنے آیا ہے کہ لاہور کے حلقے NA-120 کی طرح پشاور کے حلقے NA-4کے الیکشن میں اسلامی جماعتوں کی بہت ہی افسوسناک کیفیت سامنے آئی ہے ۔انہیں بہت بری طرح ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔یہ صورتحال ان تمام اسلامی جماعتوں کے لئے جو الیکشن کے میدان میں ہیںلمحہ¿ فکریہ ہے۔انہیں سر جوڑ کر بیٹھنا چاہئے کہ انہیں اس صورتحال کا سامنا کیوں ہے۔دوسری طرف عقیدئہ ختم نبوت کے حوالے سے ان جماعتوں کی تحریک چلانے کی دھمکی کے نتیجے میں حکومت نے پسپائی اختیار کرلی ہے۔اس بات سے ہمارے اس موقف کی صداقت کی توثیق ہوتی ہے کہ اسلامی نظام کا نفاذ انتخابی سیاست کے ذریعے ممکن نہیں بلکہ اس کے لئے ایک بھرپور اور پر امن عوامی تحریک کی ضرورت ہے۔بار بار یہ صورتحال سامنے آرہی ہے لیکن ہم اس سے سبق حاصل کرنے کے لئے تیار نہیں۔ہماری مذہبی سیاسی جماعتوں نے طے کررکھا ہے کہ وہ ان تلخ تجربات سے کوئی فائدہ نہیں اٹھائیں گی۔بار بار کی عبرتنا ک شکست کے باوجود اسی راستے پر آئندہ بھی جازم رہیں گی۔اپنا تبصرہ تو اس صورتحال پر بس اتنا ہی ہے کہ:
اک طرز تغافل ہے سو وہ ان کو مبارک ا ک عرض تمنا ہے وہ ہم کرتے رہیں گے
اللہ تعالیٰ انہیں اس راستے پر آنے کی توفیق عطا فرمائے تو یقینا یہ ایک بہت بڑی قوت بن کر سامنے آئیں گی اور اللہ کے دین کو غالب کرنے کی حقیقی جدوجہد کریں تو اللہ کی مدد ان کے شامل حال رہے گی۔ان شاءاللہ۔

Open chat