Monday, November 30, 2020
- Advertisment -

مقبول ترین

گیس کی سپلائی بہتر ہوگئی، سوئی سدرن گیس کمپنی کا دعویٰ

سوئی سدرن گیس کمپنی کا کہنا ہے کہ تین روز قبل ہونے والی سسٹم کی خرابی دور کرلی گئی ہے، ترجمان سوئی سدرن گیس...

پیٹرول کی قیمت برقرار، ڈیزل4 روپے فی لیٹر مہنگا

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردو بدل، پیٹرول ،مٹی کا تیل اور لائٹ ڈیزل کی قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ جبکہ ڈیزل کی قیمت...

میرظفراللہ جمالی کو دل کا دورہ، حالت تشویشناک

سابق وزیراعظم میر ظفراللہ جمالی کو دل کا دورہ ، ذرائع کے مطابق سابق وزیراعظم کو دل کا دورہ پڑنے پر اے ایف آئی...

فائرنگ کے واقعات میں 2 افراد زخمی ہوگئے

فائرنگ کے واقعات میں 2 افراد زخمی ہوگئے، ذرائع کے مطابق محمود آباد ٹی پی ٹو گرائونڈ کے قریب فائرنگ سے 25 سالہ  مزمل...

مذہب کے ساتھ مذاق (حافظ عاکف سعید)

Nawaz Sharifمیاں نواز شریف کی حکومت کا تازہ کارنامہ انتخابی اصلاحات کی آڑ میں عقیدئہ ختم نبوت پر ضرب لگانے کی کوشش کی صورت میں سامنے آیا ہے جو انتہائی افسوسناک ہے۔یہ اور بات ہے کہ اس مسئلہ پر حکومت نے پسپائی اختیار کرلی ہے ۔یہ دین کے ساتھ ایک کھلا مذاق ہے۔ایسا جس نے بھی کیا ہو، خواہ ہمارے حکمرانوں میں سے ہی کوئی ہو ،اس کا انجام بہت ہی برا ہوگا۔مسلم لیگ کی لڑکھڑاتی ہوئی حکومت کبھی دہشت گردی کے حوالے سے بیرون ملک اعترافی بیان دیتی ہے ،جیسا کہ خواجہ آصف صاحب اپنا مقدمہ لے کر امریکہ گئے تھے ۔کبھی عقیدئہ ختم نبوت پر کاری ضرب لگا کر اسلام دشمن عالمی قوتوں کی ہمدردیاں حاصل کرنا چاہتی ہے۔ یہ اسی لیے کیا جارہا ہے کہ عالمی حمایت حاصل کی جاسکے۔بظاہرکوئی اور وجہ نظر نہیں آتی۔بعض تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ختم نبوت کے قانون میں تبدیلی اور پھر پسپائی ایک منصوبے کے تحت کی گئی تاکہ اس حوالے سے قوم کی نبض بھی چیک کی جاسکے کہ وہ اس پر کس قدر واویلا کرتی ہے اور دوسری طرف عالمی قوتوں کو بھی یہ بتایا جاسکے کہ ہماری حکومت تو آپ کے ہر ایجنڈے کی تکمیل کے لیے تیار ہے ۔یہ سب اوپر کے دباﺅ کے نتیجے میں کیا جارہا ہے۔ ان کا مطالبہ تو دستور کی دفعہ-c 295کو ختم کرنا ،آسیہ بی بی کی رہائی، قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیئے جانے والی متعلقہ شق کو آئین سے نکالنا ہے۔

یہ ساری باتیں دباﺅ ڈالنے کے حربے کے طور پر حکمرانوں کے سامنے آتی ہیں۔لیکن کیا ہم اتنے گرگئے ہیں کہ ان کے سامنے سجدہ ریز ہونے کے لیے اپنی تمام دینی اقدار کو قربان کرنے کے تیار ہوجائیں۔درحقیقت ہمارے حکمران اپنے بیرونی آقاﺅں کو خوش کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔وہ دبے پاﺅں آئین کی دفعہ 295-cکو ختم کرنا چاہتے ہیںتاکہ ان پرجو دباﺅ ہے اس سے نکل سکیں۔اہل یورپ کی اسلام دشمنی اور نبی اکرم ﷺ سے ان کے بغض کا ایک مظہریہ سامنے آیا ہے کہ آسیہ بی بی کو جو توہین رسالت کی اعترافی مجرم ہے، یعنی اس پر محض الزام نہیں ، اُس ملعونہ کوبچانے کے لیے ساری دنیا اکٹھی ہوچکی ہے۔ گویا کہ یہ تاریخ انسانی کا ایک بہت بڑ اظلم ہے کہ جو توہین رسالت کی مرتکب ہے ،اسے موت کی سزا دے دی جائے۔ یورپ نے اس خاتون کو جس نے نبی اکرم ﷺ کی توہین کی ہے اسے اظہار رائے اور انسانی حقوق کا دفاع کرنے کے انعام کے لیے نامزد کیا ہے ۔یہ اسلام دشمنی کے کتنے گھناﺅنے انداز ہیں جو اختیار کئے جارہے ہیں۔ہمارے حکمرانوں کاحال یہ ہے کہ ایسے اقدامات کرنے والوں کی وہ خوشنودی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

امریکی صدر جنہوں نے پاکستان کو عریاں دھمکیاں دی تھیں ،پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ آصف کے اعترافی بیانات اور ڈومور کی پیشکش کے بعد اب کچھ نرم لہجہ اختیار کرکے پاکستان کو ٹریپ کرنا چاہتے ہیں۔امریکی حکام نے خصوصی شفقت سے کام لیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم پاکستان کے خلاف حتمی کارروائی سے پہلے اسے ایک موقع اور دیں گے۔ اگر وہ ہمارے ایجنڈے پر عمل کرتا ہے تو ہم اس کے سابقہ رویے کو معاف کردیں گے ۔گویا اس کی جانب سے ایک بار پھر چھڑی اور گاجر والی پالیسی اختیار کی جارہی ہے۔پاکستان پہلے ہی ستر سال سے امریکی مطالبات پر عمل درآمد کرکے خود کو تباہ کرچکا ہے۔معیشت کی صورتحال تو اتنی خوفناک ہوچکی ہے کہ جس کی تفصیل میں جانا اس وقت ممکن نہیں۔ ہم پر معاشی شکنجہ کسا جاچکا ہے ۔اب اگر پاکستان امریکہ کے بچھائے ہوئے اس جال میں پھنستا ہے تو ہمارے لیے مکمل تباہی سے بچنا ممکن نہ ہوگا۔اندیشہ یہ ہے کہ ہمارے اہم قومی اداروں نے ایک بار پھر ڈبل گیم کھیلنے کی کوشش کی تو اس کے بہت خطرناک نتائج سامنے آئیں گے۔ایسے بھی امکانات ہیں۔ پاکستان کو اس وقت بہت ہی نازک صورتحال درپیش ہے۔سچی بات تو یہ ہے کہ ہمیں فرعون وقت امریکہ کے شر سے بچنے کے لیے حقیقی معنوں میں رب کائنات کا دامن تھامنا ہوگا ۔ علامہ اقبال کا وہ شعر ایک بار پھر یاد آرہا ہے

وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات

ہماری نجات کی واحد صورت یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے رہنماﺅں کو توفیق دے کہ وہ بھی دین اور قرآن کے بتائے ہوئے راستے کو اختیار کریں اور اللہ کی مدد کے ذریعے آنے والے مشکل وقت سے نبرد آزما ہونے کے لیے اللہ کی مدد کو حاصل کرنے کی کوشش کریں جو کچھ مشکل نہیں ۔ صرف ہم اپنا قبلہ سیدھا کرلیں ۔یہ مملکت جو اسلام کے نام پر بنی ہے ، اس میں اللہ کے دین کو غالب کرنے کے لیے پوری قوم متحد ہوجائے تو آج ہی اللہ کی مدد شروع ہوجائے گی۔اور اگر ہم نے یہ نہیں کیا توہمارا کیا انجام ہوتا ہے اسے اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔پاکستان ایک خوفناک دہانے پر پہنچا ہوا ہے۔اللہ پاکستان کی حفاظت فرمائے۔ آمین یا رب العالمین

Open chat