خاکوں کی منسوخی، ترکی اور پاکستان کا کردار (حافظ عاکف سعید)

pak turkiہمیں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ مسلمانوں کے شدید احتجاج کے نتیجے میں ہالینڈ کی حکومت کی سرپرستی میں جو توہین آمیز خاکوں کے مقابلے کا اعلان کی گیا تھا ، وہ منسوخ کردیا گیا ہے۔ اس حوالے سے مسلمان ممالک میں سے ترکی اور پاکستان کا رول زیادہ نمایاں ہوا ہے ۔یہ معاملہ انتہائی حساس تھا۔ لیکن معاملے کو ختم نہیں سمجھنا چاہئے۔ او آئی سی کو اس حوالے سے متحرک ہونا چاہئے اور مل بیٹھ کر ایسی منصوبہ بندی کی جانی چاہئے تاکہ آئندہ کسی کو اس قسم کی گستاخانہ حرکت کی جرات نہ ہو۔مسئلے کا اصل حل تو مسلمانوں کا انفرادی اور اجتماعی سطح پر حقیقی مسلمان بننا اور اپنے اپنے ممالک میں اللہ کے دین کو غالب کرنا ہے۔ اس کے نتیجے میں ان شاءاللہ کسی کو توہین رسالت کی جراءت نہیں ہوگی۔اس وقت مسلمان دنیا میں غالب نہیں بلکہ مغلوب قوت ہیں۔ویسے تو دنیا میں مسلمان تقریبا ً پونے دو ارب کی تعداد میں موجود ہیںلیکن ہماری حالت اس حدیث کے مصداق ہوچکی ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ ایک زمانہ آئے گا کہ اقوام عالم ایک دوسرے کو تم پر ایسے دعوت دیں گی کہ جیسے دسترخوان پر کھانا چننے کے بعد مہمانوں کو دعوت دی جاتی ہے کہ آئیے تناول فرمائیے یعنی تم اتنے بے بس، لاچار اور کمزور ہوجاﺅگے کہ جو چاہے تمہارے ساتھ اپنے مرضی کے مطابق سلوک کرے اور تم کچھ نہ کوسکو۔

صحابہ کرام ؓ نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! کیا ہماری تعداد اتنی کم ہوگی کہ ہمیں اس طرح دبالیا جائے گا اور ہم بھی بالکل غیر موثر ہوجائیں گے؟فرمایا نہیں بلکہ اس وقت تم کثیر تعداد میں ہوگے۔جب اس حدیث کو پڑھتا ہوں تو فوراً دل میں آتا ہے کہ صحابہ کرام ؓ نے سوچا ہوگا کہ شاید لاکھوں میں ہوں گے۔اس وقت تو تین سو تیرہ ہزار پر غالب آگئے تھے اور مسلمانوں کی اس وقت زیادہ سے زیادہ تعداد دس ہزار تھی جب مکہ فتح ہوا۔لہٰذا انہوں نے جب یہ سنا کہ ہماری تعداد بہت ہوگی تو ان کا ذہن لاکھوں تک ہی پہنچا ہوگا۔یہ تو وہ سوچ ہی نہیں سکتے تھے کہ مسلمان دنیا میںاربوں میں ہوں گے۔آپﷺ نے فرمایا کہ تمہاری حیثیت اس خس و خاشاک کی سی ہوگی جو سیلاب کے پانی کی سطح پر ہوتا ہے۔انہوں نے پوچھا کہ ہم اتنے کمزور کیوں ہوجائیں گے ؟فرمایا کہ تم میں وھن کی بیماری پیدا ہوجائے گی یعنی دنیا سے محبت اور اس کے نتیجے میں دل میں موت سے کراہت کا پیدا ہوجانا۔اس وقت اللہ کی راہ میں جان دینا سب سے مشکل کام ہوجائے گا۔

ایک زمانہ وہ بھی تھا کہ حضور ﷺ کی شان میں گستاخی کو کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا تھا۔دیبل سے جو کبھی کراچی کی بندرگاہ ہوا کرتا تھا ، 99ھ میں مسلمانوں کا ایک بحری جہاز گزرا تھا ۔کچھ ڈاکوو¿ں نے اس بندرگاہ پر حملہ کیا تھا اور ایک مسلمان خاتون کے ساتھ زیادتی کی تھی اور اس نے مدد کے لئے خلیفہ¿ وقت کو پکارا تھا ۔یہ بات دربار خلافت تک پہنچی اور وہاں سے محمد بن قاسم کی سربراہی میں فوج بھیجی گئی۔یہ ردعمل ایک مسلمان خاتون کی حرمت کی پامالی پر سامنے آیا تھا۔ساری دنیا کو سبق سکھادیا گیا کہ مسلمانوں کو کوئی ٹیڑھی نظروں سے نہیں دیکھ سکتا ۔آج حضور ﷺ کے انتہائی توہین آمیز خاکے بار بار بنائے جارہے ہیں لیکن ہم بے بس اور لاچار ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہنہ ہم خود دین کے احکامات پر عمل کرتے ہیں اور نہ کہیں اللہ کے دین کو قائم نہیں کیاہے۔

اس وقت کا دوسرا ایشو یہ ہے کہ امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پیمپیو کا دورہ ہونے والا ہے جن کی شہرت سخت گیر اسلام دشمن کے حوالے سے ہے۔قرائن تو یہ بتاتے ہیں کہ وہ پاکستان کو دھمکی دیں گے ۔وہ دنیا کی ایک بڑی قوت کے نمائندے ہیں ۔ہم کمزور ہیں۔اس میں ہماری نئی حکومت کا بھی امتحان ہوگا۔مقام شکر ہے کہ آج سول اور عسکری قیادت ایک پیج پر نظر آرہی ہےں۔وزیر اعظم کی فوجی قیادت کے ساتھ آٹھ گھنٹے کی مصروفیت کے دوران یقینا کوئی مشترکہ حکمت عملی بنائی گئی ہوگی ۔آرمی چیف کی ان سے تیسری ملاقات کے دوران بھی اس پر گفتگو ہوئی ہے۔بہرحال یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ امریکہ کی روایت ہے کہ وہ مذاکرات کے دوران ڈرانے اور دھمکانے کی پالیسی اختیار کرتا ہے لیکن اگر فریق مخالف ڈٹ جائے تو اپنے موقف میں نرمی کرنے سے بھی نہیںہچکچاتا۔

اصل بات یہ ہے کہ ہمارے ڈٹ جانے اور ان کے کسی بھی دباﺅ میں نہ آنے کا انحصارحقیقی ایمان پر ہے۔اےک بات تو طے ہے کہ اللہ کی مدد اصلاً ہے ہی مسلمانوں کے لئے۔اللہ کے سچے وفادار تو مسلمان ہی ہیں بشرطیکہ ان میں حقیقی ایمان ہو۔لیکن اگر مسلمان اللہ کے دین سے بیوفائی کی روش اختیار کریں تو اللہ انہیں ان کے دشمنوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتا ہے۔قرآن کریم میںاللہ کی تنبیہ بھی موجود ہے کہ وہ دیکھے گا کہ اس صورت میں کون میرے مقابلے میںان کی مددکرسکتا ہے۔دنیا کی اصل قوت تو اللہ تعالیٰ ہی ہے۔آج بھی ہم اپنی روش درست کرلیں تو اس کی نصرت ہم پر سایہ فگن ہوسکتی ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس رخ پر سوچنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین یا رب العالمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top