Wednesday, November 25, 2020
- Advertisment -

مقبول ترین

عذرا پیچوہونے مساجد بند کرنے کی تجویز دیدی

وزیر صحت سندھ عذرا پیچوہو نے مساجد بند کرنے کی تجویز دے دی،سندھ بھر میں کورونا کے بڑھتے...

طارق روڈپر شاپنگ مال،لیاقت آباد انڈرگرائونڈ مارکیٹ سیل

6 بجے کاروبار بند نہ کرنے پر انتظامیہ حرکت میں آگئی، طارق روڈ پر واقع شاپنگ مال اور...

ناردرن بائی پاس کے اطراف باڑ لگانے کی تجویز

اینٹی وہیکل لفٹنگ سیل نے ناردرن بائی پاس کے دونوں اطراف باڑ لگانے کےلئے نیشنل ہائی وے اتھارٹی...

امریکی تعاون، خوشی یا تشویش (حافظ عاکف سعید)

pak americaایک بارپھر ہماری گردن مروڑی جارہی ہے۔لیکن اسی تناظر میں ایک عجیب معاملہ سامنے آیا کہ بظاہر امریکہ نے ہمارے ساتھ حال ہی میں غیر معمولی تعاون بھی کیا ہے۔پاک افغان بارڈر پر ٹی ٹی پی کے دہشتگرد عناصر پراس نے حملہ کیا ہے جن کے بارے میں ہماری حکومت کہتی رہی ہے کہ وہ وہاں پر چھپے ہوئے ہیں اور ان کے خاتمے کے لئے امریکہ کو ہماری مدد کرنی چاہئے جس کی اب تک کوئی شنوائی نہیں ہورہی تھی ۔پتہ نہیں اس پر خوشی کا اظہارکرنا چاہئے یا تشویش کا۔ہمارے نزدیک یہ بھی درحقیقت تشویش کی بات ہے۔

امریکا جس کا خمیر ہی اسلام دشمنی پر مبنی ہے اور جس نے ہمیشہ پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کے ہاتھ ہی مضبوط کئے ہیں۔اس کا ایسا کام نجام دینا جو پاکستانی فوج کے نقطہ¿ نظر سے ملک کے لئے مفید ہے اور جس کی وجہ سے عوام دہشتگردی سے محفوظ ہوتے ہوں ،ٹرمپ جیسی اسلام اور پاکستان دشمن حکومت کے دور میں ، عام آدمی کے ذہن میں بہت سارے سوالات پیدا کرتا ہے۔وہ جومشہور محاورہ ہے کہ بنئے کا بیٹا کچھ دیکھ کر ہی گرتا ہے امریکہ کے کچھ مفادات ہیں جن کے پیش نظر اس نے یہ تعاون کیا ہے۔بظاہر تو ایسا ہی لگتا ہے۔اندیشہ ہے کہ اب اس کے مطالبات اور بڑھ جائیں گے۔اس کا دباﺅ برداشت کرنے کی ہم پہلے ہی سکت نہیں رکھتے ۔اللہ تعالیٰ امریکہ کے عزائم بد سے ہماری حفاظت فرمائے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان افغانستان میں امریکہ کی مدد کی جانب گامزن ہے؟ہمیں استعمال تو کیا جائے گاجیسے کہ ہم ماضی میں بھی استعمال کئے جاتے رہے ہیں۔یہ بہت سنگین نوعیت کے جواب طلب سوالات ہیں۔بظاہر تو یہ بہت اچھی بات ہے کہ امریکہ نے ہمارا دیرینہ مطالبہ مان لیا لیکن درپردہ ہمارے لئے پریشانی کا باعث بن سکتی ہے اورلگتا ہے کہ ہمارا مزید امتحان ہونے والا ہے۔ہمیں کس کا ساتھ دینا ہے اس کا فیصلہ اللہ تعالیٰ قوم کی بہتری کے لئے فرمائے گا۔گوکہ اس وقت ہمارا مستقبل ہمارے حکمرانوں کے ہاتھوں میں ہے۔اللہ نہ کرے کہ ہم وہ کام کریں جو اسلام دشمن قوتیں چاہتی ہیں۔

پاکستان کی معاشی حالت بھی بہت دگرگوں ہے۔یہ بات آج کل زباں زد خاص و عام ہے۔گوکہ حکومت ایک جانب اس کی تردید کرتی ہے جبکہ دوسری طرف ضروری اشیا ءپر ٹیکس لگاکر وہ عوام کے مصائب میں اضافہ کررہی ہے۔سامان تعیش کی درآمد کی حوصلہ شکنی مطلوب ہے لیکن بنیادی ضروریات کو مہنگا کرکے عوام دشمنی کا مظاہرہ کیا جارہا ہے اور پھر یہ کہا جارہا ہے کہ اس سے غریب آدمی متاثر نہیں ہوگا ۔ اسے ایک سنگین مذاق کے سوا اور کیا کہا جاسکتا ہے؟بہرحال حکومت پر تنقید کی جائے یا نہیں، مجموعی طور پر میں پھر وہی بات یاد دلاﺅں گا کہ ان حالات کی ذمہ دار پوری قوم ہے۔جیسے ہم ہیں ویسے ہی حکمراں ہم پر مسلط ہیں۔ہمارے ہاں کون ساایسا طبقہ ہے جس نے دیانتداری کے ساتھ اپنی ذمہ داری ادا کی ہو؟چاہے وہ حکومت ہو یا اس کے مختلف ادارے کیا لوگوں کو انصاف فراہم کررہے ہیں؟جس کسی کو موقع ملتا ہے ، وہ داﺅ لگانے سے گریز نہیں کرتا ۔الا ما شاءاللہ۔

مختلف مسالک کے دینی طبقوں کا رول کیا رہا ہے؟سب ظاہر وباہر ہے۔ویسے تو بڑی بڑی تحریکیں چلانے کو ہمیشہ آمادہ رہتی ہیں لیکن اللہ کے دین کو قائم کرنے کے لئے تحریک چلانے کو تیار نہیں۔ان سب کو صرف انتخابی سیاست کا راستہ نظر آتا ہے۔سب جانتے ہیں کہ ہماری سیاست کا کیا حال ہے؟آج تک انہیں اس میدان میں کیا حاصل ہوا ہے؟ان کا حال تو یہ ہے کہ ہر کہ در کان نمک رفت نمک شد۔یہ ہمارے قومی جرائم ہیں۔کچھ افراد تو ہر جگہ مستثنیٰ ہوتے ہیں۔ان کو اللہ تعالیٰ جزا عطا فرمادیتا ہے۔لیکن قوموں کی مجموعی کرتوتوں کی بنیاد پر اللہ تعالیٰ فیصلے فرماتا ہے۔سورہ انفال میں اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر فرمادیا ہے کہ بچو اس فتنے سے جو اگر نازل ہوگا تو خاص طور پر ظالموں ہی کو نہیں بلکہ سب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے عذاب سے محفوظ فرمائے۔آمین یا رب العالمین

Open chat