17 اکتوبر حکیم سعید کی شہادت

4
خصوصی رپورٹ: عارف جتوئی
حکیم محمد سعید کے والد کا نام  حافظ حکیم عبدالمجید تھا، حکیم محمد سعید کی پیدائش 9 جنوری 1920ء کو دہلی میں ہوئی۔ حکیم محمد سعید کے آبائو اجداد کا تعلق چین کے شہر سنکیانگ سے  تھا۔ سترھویں صدی کے آغاز میں پورا خاندان نے چین سے ہجرت کرکے  پشاور منتقل ہو گیا بعد ازاں پشاور سے  دہلی  ہجرت کی۔ 2 برس کی عمر میں والد کا سایہ سر سے اُٹھ گیا۔ 9 جنوری 1948ء کو حکیم محمد سعید پاکستان آگئے۔ حکیم محمد سعید 19 جولائی، 1993ء سے 23 جنوری، 1994ء تک سندھ کے گورنر بھی رہے۔
ایک مایہ ناز حکیم تھے جنہوں نے اسلامی دنیا اور پاکستان کے لیے اہم خدمات انجام دیں۔ انہوں نے مذہب اور طب و حکمت پر 200 سے زائد کتب تصنیف و تالیف کیں۔ حکیم محمد سعید کی محنت سے ہمدرد یونیورسٹی کراچی کا قیام 28 اگست 1991ء میں ہوا۔ جس میں بے شمار ادارے، کالج آف میڈیسن و ڈینٹسٹری 1994ء اور حکمت کالج 1995ء ہمدرد ویلج ا سکول 1997ء کا آغاز ہوا۔
5
ابتدائی دنوں میں انہوں نے کراچی میں 50 روپے مہینہ پر ایک دکان اور ساڑھے 12 روپے ماہانہ پر فرنیچر کرائے پر لے کر اپنے کام کا آغاز کیا، پھر ناظم آباد میں المجید سینٹر کی بنیاد ڈالی جس نے ہمدرد فائونڈیشن کی راہ ہموار کی۔ حکیم محمد سعید نے اس ادارے کو بھی خدمت کے لیے  باقاعدہ وقف کردیا۔
حکیم سعید بچوں اور بچوں کے ادب سے بے حد شغف رکھتے تھے۔ اپنی شہادت تک وہ اپنے ہی شروع کردہ رسالے ہمدرد نونہال سے مکمل طور پر وابستہ رہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے نونہال ادب کے نام سے بچوں کے لیے کتب کا سلسلہ شروع کیا جو ابھی تک جاری ہے۔ اس سلسلے میں کئی مختلف موضوعات پر کتب شائع کی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ بہترین عالمی ادب کے تراجم بھی شائع کیے جاتے ہیں۔
17 اکتوبر 1998ء میں انہیں کراچی میں شہید کر دیا گیا جس کا الزام بعض لوگ متحدہ قومی موومنٹ پر لگاتے ہیں اور اس سلسلے میں سابق گورنر سندھ عشرت العباد کا نام خاص طور پر لیا جاتا ہے ،عشرت العباد کے گورنر سندھ بن جانے کے بعد یہ کیس دبا دیا گیا ہے۔ تاہم پہلے سندھ ہائی کورٹ اور اس کے بعد سپریم کورٹ نے بھی ایم کیو ایم کے 3کارکنوں کو جو اس کیس میں نامزد تھے، باعزت بری کیا۔
جس وقت انہیں آرام باغ میں ان کے دواخانہ کے باہر وحشیانہ فائرنگ کرکے قتل کیا گیا وہ روزہ کی حالت میں تھے یوں انہوں نے روزہ کی حالت میں اپنی جان جانِ آفریں کے سپرد کی۔ ان کا معمول تھا کہ وہ جس روز مریضوں کو دیکھنے جاتے روزہ رکھتے تھے چونکہ ان کا ایمان تھا کہ صرف دوا وجہ شفاء نہیں ہوتی۔ حکیم محمد سعید پاکستان کے بڑے شہروں میں ہفتہ وار مریضوں کو دیکھتے تھے۔ سب سے اہم بات یہ تھی کہ وہ مریضوں کا مفت علاج کرتے تھے۔ ان کا ادارہ ھمدرد بھی ایک غیر منافع بخش ادارہ ہے جس کی تمام تر آمدنی ریسرچ اور دیگر فلاحی خدمات پر صرف ہوتی ہیں۔
کلیوں کو میں سینے کا لہو دے کر چلا ہوں
برسوں مجھے گلشن کی فضا یاد کرے گی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top