Wednesday, November 25, 2020
- Advertisment -

مقبول ترین

عذرا پیچوہونے مساجد بند کرنے کی تجویز دیدی

وزیر صحت سندھ عذرا پیچوہو نے مساجد بند کرنے کی تجویز دے دی،سندھ بھر میں کورونا کے بڑھتے...

طارق روڈپر شاپنگ مال،لیاقت آباد انڈرگرائونڈ مارکیٹ سیل

6 بجے کاروبار بند نہ کرنے پر انتظامیہ حرکت میں آگئی، طارق روڈ پر واقع شاپنگ مال اور...

ناردرن بائی پاس کے اطراف باڑ لگانے کی تجویز

اینٹی وہیکل لفٹنگ سیل نے ناردرن بائی پاس کے دونوں اطراف باڑ لگانے کےلئے نیشنل ہائی وے اتھارٹی...

زبان شخصیت کی ترجمان (حبیب اللہ)

    imagesانسان پراللہ تعالیٰ کے بے شمار احسانات ہیں۔ان کو اگر شمار کرنے لگے تو یہ اس کی حسرت ہی بن کر رہ جائے ۔وہ عدد بھی آج تک ایجاد نہیں ہو اجو اللہ کی نعمتوں کا احاطہ کرسکے۔انسان صرف اپنے چھ فٹ کے قد کو ہی لے لے اس میں غور کرے تو اس میں اللہ کی قدرتوں اور احسانات کو گننے سے قاصر نظرآتا ہے۔اللہ کی قدرتیں بے مثال،اس کی نعمتیں لا زوال،اس کے احسانات باکمال ہیں۔وہ چاہے تو ذرے کو ایٹم بم بنادے اورچاہے تو آسمانوں کو چھوتے پہاڑوں کو مٹی میں ملا دے۔وہ چاہے تو چھوٹی سی چیونٹی سے دیو قامت ہاتھی کو مروا دے۔وہ کتنا ہی عظیم رب ہے جس نے انسان کو چھوٹا سا دماغ دیا ہے۔جس کے استعمال سے انسان نے ایسی ایسی ایجادات کی ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔چھوٹے سے مٹی کے ڈھیلے کو اوپر پھینکیں تو وہ فورا نیچے گر جاتا ہے۔مگر خلا ءمیں منوں وزنی لوہا جہاز کی صورت میں اڑرہا ہوتا ہے۔ایسے ہی ایک چھوٹا سا پتھر سمندر میں پھینکا جائے تو وہ اس کی تہہ میں جا کر بیٹھ جاتا ہے۔مگر ٹنوں من وزنی دیو ہیکل بیڑے سمندر کی تہہ پر تیر رہ ہوتے ہیں۔اس کی کمال حکمت پر انسان حیران و ششدر رہ جاتا ہے۔پتھر اتنے سخت کہ انہیں توڑنے کے لیے بارود استعمال کرنا پڑتا ہے مگر ننھے منے پودے کی وہ نرم و نازک کونپل جو انگلی کے ایک اشارے کو برداشت نہیں کر سکتی ،ٹوٹ جاتی ہے وہ اتنے سخت پہا ڑوں کے سینے کو چیر کر باہر نکل آتی ہے۔غرض کہ یہ سب اللہ کے بے شمار احسانات ہیں ۔جن میں ایک نعمت زبان ہے۔زبان انسان کی حقیقت کو افشاں کرتی ہے۔جب تک انسان سکوت اختیار کرتا ہے اور فضول گفتگوسے پرہیز کرتا ہے تو اس کا وقار قائم رہتا ہے۔اس کا رعب و دبدبہ لوگوں پر برقرار رہتا ہے۔جیسے زبان حرکت میں آتی ہے لوگوں پر انسان کو مقام ومرتبہ اور شخصیت واضح کرجاتی ہے۔وہ کھل کر سامنے آجاتا ہے ۔جب زبان کا درست استعمال کیا جائے تو یہ انسان کے کردار کو جلا بخشتی اور شخصیت کونکھارتی ہے۔آپس میں ایسے تعلقات اور رشتے استوار ہوتے ہیں کہ جو برساہا برس تک قائم و دائم رہتے ہیں۔ لیکن جب اس کا غلط استعمال کیا جائے تویہ انسان کی شخصیت کو داغ دار کرجاتی ہے۔اس کا سابقہ کردا ر خاک آلود ہوجاتا ہے۔برسوں سے پیارو محبت کی بنیا د پر قائم رشتے ٹوٹ جاتے ہیں۔خاندانوں کے خاندان اجڑ جاتے ہیں۔ایک انسان کی زبان کے غلط استعمال پر نسلیں اس کا بدلہ چکاتی ہیں۔ ایک محاورہ ہے کہ زبان میں اگرچہ ہڈی نہیں ہوتی مگر یہ ہڈیاں تڑوا دیتی ہے۔
عربی شاعر کہتا ہے
”کہ اے انسان اپنی زبان کی حفاظت کر یہ اژدھے کی مانند ہے کہیں تجھے ڈس نہ لے۔“(الا ذکار للنوی ص :298)
یقینا زبان کے ڈسنے سے جو زخم لگتے ہیں وہ ہمیشہ ترو تازہ رہتے ہیں۔ان کا بھرجانا اور مٹ جانا محال ہوتا ہے۔شاعر کہتا ہے۔
تیرو تلوار کا گھاﺅ بھرا         لگا جو زخم زبان سے رہا ہرا بھرا
languagesعام لڑائی میں ہڈیا ں ٹوٹ جاتی ہیں مگر وقت گزرنے پر وہ جڑ جاتی ہیں اور لوگ بھول جاتے ہیں۔ مگر زبان کے زخم کی چوٹ سیدھی دل پر پڑتی ہے اور اسے کرچی کرچی کرجاتی ہے۔اس لیے تو سلف صالحین اس کے بارے میں محتاط رہتے تھے۔سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اپنے منہ میں کنکری رنکھ لیا کرتے تھے تاکہ وہ بول نہ سکیں (لوگوں نے جب اس بارے میں سوال کیا)تو آپ نے اپنی زبان کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا :”اس نے ہمیں ہلاکت کے گڑھے پر لا کھڑا کیا ۔“(احیاءعلوم الدین:۳/۰۲۱)امام طاﺅس رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے :”زبان درندہ ہے اگر میں نے اسے آزاد چھوڑ دیا تو یہ مجھے ہی کھا جائے گی۔“(احیاءعلوم الدین:۳/۰۲۱)اسی طرح امام محمد بن واسع نے ایک بار مالک بن دینا ر سے کہا :”زبان کی حفاظت لوگوں پر درہم ودینا سے زیادہ مشکل ہے۔“(احیاءعلوم الدین:۳/۰۲۱)ان چند اقوال سے سلف صالحین کی نظر میں زبان کی اہمیت نظر آتی ہے۔واقعتا یہ چھوٹا سا حصہ حرکت میں آتے ہی زمیں میں بھونچال برپا کر جاتا ہے۔اس لیے اس کے استعمال میں حتیٰ الوسع احتیاط کرتے رہنا چاہیے۔رسول اللہ ﷺ نے زبان کی اہمیت واضح کرتے ہوئے فرمایا:”کہ انسان جنت کے کنارے پر پہنچ چکا ہوتا ہے مگر وہ اپنی زبان سے کوئی ایسا کلمہ نکالتا ہے کہ وہ اس سے جہنم میں اوندھے منہ گرا دیا جاتا ہے۔اسی طرح کوئی شخص جہنم کے کنارے پہنچ چکا ہوتا ہے مگر وہ اپنی زبان سے اللہ کی رضا کا کوئی ایسا کلمہ نکالتا ہے کہ وہ اسے جنت میں پہنچا دیتا ہے۔“(صحیح البخاری:۸۷۴۶)اس لیے زبان کے استعمال میں احتیا ط برتنا لازم ہے۔اس کی حفاظت اسی وقت ممکن ہے جب یہ ہر وقت ذکر اللہ سے تر رہے اور فضول گفتگوسے پرہیز کیا جائے۔انسان کی زبان سے جتنے بھی کلمات نکلتے ہیں کرامََا کا تبین وہ فوراََ درج کر لیتے ہیں۔ارشاد باری تعالیٰ ہے”انسان کی زبان سے جو بھی بات نکلتی ہے ہمارے نگرا ن فرشتے اسے فورا ہی لکھ لیتے ہیں۔“(ق:18)انسان جس ماحول میں رہتا ہے اس کے بھی اس پر بہت اثرات ہوتے ہیں۔انسان چاہے تو اپنی زبان کے درست استعمال سے اپنے ماحول کو گلزار بنا لے اور اگر چاہے تو زبان کے غلط استعمال سے ارد گرد کے ماحول میں خس و خار پیدا کردے ۔سلف صالحین خاموشی اور کم گوئی کو ترجیح دیا کرتے تھے۔رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے :”جو شخص اللہ اور اس کے رسول پر ایما ن رکھتا ہے تو وہ بات کرے تو خیر کی وگرنہ خاموش رہے۔“(صحیح البخاری:374)زبان کو ہر وقت ذکر اللہ سے تر رکھنے سے اس میں جان آجاتی ہے وگرنہ وہ مردہ ہوجاتا ہے۔جیسا کہ فرمان رسول ﷺ ہے کہ :”جو شخص اللہ کا ذکر کرتا ہے اور جو نہیں کرتا ان کی مثال زندہ اور مردہ کی مانند ہے۔“(صحیح البخاری:6407)آج کے جس دور سے ہم گزر رہے ہیں ہر طرف مایوسیاں چھا چکی ہیں اور لوگ زندگیوں سے تنگ آچکے ہیں۔ہر شخص کے چہرے پر عجیب قسم کی بے چینی اور بے قراری کی کیفیت کا سماں ہے۔حوصلہ بڑھانے والے اوردلاسہ دینے والے تو خال خال ہی نظر آتے ہیں۔اسی وجہ سے چمن میں خزاں کا دور دورا ہے۔لہٰذا آئیے اپنی زبان کا درست استعمال کرکے خزاں رسیدہ چمن میں بہار لائیے۔مایوسیوں سے پر چہروں پر امیدوں کے دیپ جلائیے۔زبان کو ذکراللہ سے تر رکھ کرحیاتِ جاوداں پائیے۔اپنی شخصیت کو نکھار کر اپنا لوہا منوائیے۔
8939478@gmail.com

Open chat