Wednesday, October 28, 2020
Home کالم /فیچر امن بذریعہ جعلی مقابلے(حسن مجتبی)

امن بذریعہ جعلی مقابلے(حسن مجتبی)

مانا کہ سندھ کے کئی شہر جہاں فقط چند ماہ قبل تک امن و امان کی صورتحال انتہائی مخدوش تھی وہاں اب قدرے جرائم میں کمی واقعی ہوئی ہے۔ لوگ راتPolicesearchoperationsohrabgoth گئے تک آجا سکتے ہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ سندھ کے یہ شہر اور علاقے امن کا گہوارہ ہوگئے ہیں۔ یہ خاموشی قبرستانوں کی سی خاموشی ہے جو سندھ میں پولیس اور پریس کی مشترکہ پسندیدہ اصطلاحات ’’ہاف فرائی اور فل فرائی‘‘ کے ذریعے لائی گئی ہے۔ کیا یہ مجرموں، رہزنوں اور ان کے پتھاریداروں کو کوئی انڈے کھلا کر امن لایا گیا ہے یا پولیس کو مرغیاں دے کر۔ نہیں۔ پولیس کے چند دبنگ پولیس افسروں نے یہ مصنوعی امن سو فیصد جعلی مقابلوں کے ذریعے قائم کیا ہے۔ یعنی کہ انڈین دبنگ فلموں کی زبان میں ’’ٹھوک دو‘‘۔

سندھ کے زیادہ ذہین پڑھاکو اور سی ایس ایس جیسے وفاقی مقابلے کا امتحان پاس کر کے پولیس گروپ میں آنیوالے کن نوجوانوں نے یہ ہاف فرائی فل فرائی مقابلہ بازی شاید نہ ایڈمنسٹریٹو اسٹاف اکیڈمی والٹن لاہور میں سیکھی تھی، نہ ہی یہ انگریز بہادر کے مجریہ فوجداری یا کوڈ آف کرمنل پروسیجر میں ہے، نہ ہی پولیس آرڈیننس میں اور نہ ہی رولز آف بزنس میں۔ نہ ہی اس کی پاکستان کا آئین اجازت دیتا ہے جس کے آرٹیکل نو میں شہریوںکی زندگی کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری بتائے گئے ہیں۔ اس کے لئے آپ کو نہ تو آکسفورڈ یونیورسٹی کی پڑھائی کام آتی ہے نہ کسی سپاہی کے مفت مشورے یہ سب چوہدری اسلم یا چنڑ تھانیدار اکیڈمی آف انکائونٹر میں ملتا ہے ۔ بس فائر داغ دو۔ اس کے لئے چھوٹ چلتی توپ بن جائو۔ دی لوز کینن۔
اسی طرح اٹھائیس سالہ نوجوان ڈاکٹر دیپک راج ہاف فرائی بنایا گیا ہے۔ کراچی کے چکرا گوٹھ میں کلینک چلانے والا ڈاکٹر دیپک جو آٹھ اپریل کو اس کے لواحقین کہتے ہیں حیدرآباد اپنے دوستوں سے ملنے گیا تھا دوستوں کے ہمراہ فتح چوک پر ایک ہوٹل پر بیٹھا تھا کہ بقول اس کے لواحقین کے سادہ وردی پہنے پولیس کے ڈھاٹے باندھے لوگ اترے جنہوں نے فائرنگ کرنا شروع کردی (پھر نہ جانے ان کا ٹارگٹ ڈاکٹر دیپک تھا کہ ہوٹل پر بیٹھے ہوئے دیگر لوگ)۔ بعد میں ڈاکٹر دیپک کے لواحقین، دوستوں اس کی بیوی سونیتا کو تب معلوم ہوا جب ڈاکٹر دیپک کی تصویر مقامی اخبارات میں شریف ابڑو کے طور پر چھپی اور اس کو’’پولیس مقابلے‘‘کے واقعے میں زخمی مجرموں میں بتایا گیا۔ ڈاکٹر دیپک کے دوست نے مجھے ٹیلیفون پر حیدرآباد سندھ سے بتایا کہ بقول اس کے ڈاکٹر دیپک کو پولیس کارروائی کے وقت ابتدائی طور پر ایک ٹانگ میں اور ایک کہنی میں گولی ماری گئی تھی۔ بعد میں جب اسے پولیس موبائل میں لے جایا گیا تو اسے ٹانگوں میں دس گولیاں مار دی گئیں۔ حیدرآباد پولیس نے بعد میں اسے پولیس مقابلہ ظاہر کر کر یہ موقف اختیار کیا کہ اس شخص نے اپنا نام شریف ابڑو بتایا تھا اور اس پر بارہ مقدمات درج ہیں!
ڈاکٹر دیپک ہوا ’’ہاف فرائی‘‘ جو اب شدید زخمی حالت میں زندگی موت کی کشمکش میں مبتلا ہے۔
اسی طرح اسی جگہ ایک اور شخص بلاول نوناری فل فرائی کردیا گیا یعنی گولیاں مار کر ہلاک کردیا گیا جس کے لئے بعد میں اس کے ضعیف العمر پرائمری ٹیچر والد لطف اللہ نوناری اور والدہ کلثوم نوناری نے پریس کانفرنس کی کہ اس کے بیٹے کو زندہ پکڑ کر گولیاں مار کر ہلاک کر کے مقابلہ گنوایا گیا۔ دیپک کے لواحقین اور نوناری کے والدین علیحدہ علیحدہ طور پر ان جعلی پولیس مقابلوں کا الزام حیدرآباد پولیس کو دیتے ہیں۔ لگتا ہے پولیس پروسیکیوشن، کچہریوں وغیرہ کے چکر میں پڑناہی نہیں چاہتی۔ سڑکوں پر خود جج اور جیوری بنی ہوئی ہے۔
ڈاکٹر دیپک راج سندھی قوم پرست تنظیم جئے سندھ جی ایمیسٹ نظریاتی کونسل کا سرگرم رکن رہاہے۔ مجھے اس کے قریبی دوست سارنگ جویو نے بتایا۔ .
ان کیرئیررسٹ نوجوانوں کو پتہ ہوتا ہے کہ میڈیا کی ہیڈلائنز میں کارروائی ڈال کر کس طرح اپنے کاندھے کے پھولوں میں اضافہ کیا جائے۔ اگر جب بڑے بڑے پھولوں والوں کی اشیر باد حاصل ہو تو پھر چھوٹے پھولوں والوں کی قدم آدم تصاویر اور پینا فلیکس سے تو شہروں کی دیواریں لد جاتی ہیں، بہار ہی بہار ہوجاتی ہے ہر طرف۔ سندھ میں آج کل دبنگ پولیس افسروں کے پینا فلیکس بڑی مچھلی وڈیروں پیروں میروں کی تصاویر کے ساتھ ساتھ ہیں۔ چائنا کٹنگ والے، بھتہ خور، اغوا کنندگان، زمینوں پر قبضے کروانے والے سب بڑے بڑے ہائوسز کے خاص آدمی ہیں۔ ان پر شاید یہ دبنگ افسر ہاتھ نہ ڈال سکیں۔
انہی کیرئيرسٹوں کو بخوبی اندازہ ہے کہ ان کی سرخ لکیر کہاں تک ہے۔ خیرپور میرس کی مثال موجود ہے جہاں ہاف فرائی فل فرائی فلسفے پر عمل پیرا ہوکر امن لانے والے پولیس افسروں کو خیرپور کے وڈیروں کی مافیا کو چھیڑنے پر لینے کے دینے پڑ گئے تھے، ان پر جرگہ ہوا تھا معافی تلافی کرواکر تبادلے رکوائے گئے تھے۔ پریس کے ہیرو پولیس افسروں کو وڈیروں کے ڈیفنس کے اوطاقوں پر جانا پڑ گیا تھا۔ ابھی کل ہی کی بات ہے۔
پچھلے ہفتے والےکالم میں میں نے جس مظلوم خاتون اللہ ودھائی سولنگی کا ذکر کیا تھا اسے اوراس کی بارہ سالہ بیٹی کو ساتھ اجتماعی زنا بالجبر کا شکار بنا کر جلا دیا گیا تھا، جس میں بارہ سالہ بچی تو زندہ جل گئی تھی لیکن اللہ ودھائی ستر فیصد سے زیادہ جل کر کراچی اسپتال کے برنس وارڈ میں شدید زخمی حالت میں داخل کردی گئی تھی وہ بھی گزشتہ پیر کے روز فوت ہو گئی۔ سول سوسائٹی کی سرگرم خواتین حکومت سندھ کے وزیروں مشیروں بشمول ڈپٹی اسپیکر شہلا رضا سے اپیلیں کرتی رہیں کہ اس خاتون کا بیان لیا جائے اور مجرموں کو گرفتار کیا جائے لیکن سندھ حکومت اور حکمران پارٹی تو اس نشے میں ٹائٹینک کی طرح غرق ہے جسے اقتدار کا نشہ کہتے ہیں۔ دو بیٹیوں کے باپ پی پی پی کے ڈی فیکٹو حکمران کو شاید یاد نہ ہو کہ ایک ایسی شعلوں میں گھری غریب مظلوم خاتون مائی جندو کی بیٹی کی آہ پچھلی دفعہ ا نکی حکومت کو تختہ عرش سے فرش پر بلانے کو بلند ہوئی تھی لیکن آپ کے کان تب بھی بہرے تھے۔ مائی جندو کے بیٹے بھی ان نو غریب ٹنڈو بہاول کے کسانوں میں سے تھے جن کو چنڑ تھانیدار کی ہاف فرائی فل فرائی سوچ کے مطابق عمل کر کر قطار میں کھڑا کر جامشورو کے دریائی بند پر گولیاں مار کر جعلی مقابلے میں بھارت کے ایجنٹ بتایا گیا تھا۔ یہ اور بات ہے کہ ایک اہم ملزم میجر ارشد جمیل کو ٹنڈو بہاول کیس میں پھانسی دے دی گئی تھی۔ اگر فوج کا میجر جعلی مقابلے کے کیس میں سزا پا سکتا ہے تو ہاف اور فل فرائی والے پولیس والے کیوں نہیں۔مائی اللہ ودھائی اور اس کی بارہ سالہ بیٹی کے ساتھ اجتماعی زنا بالجبر اور اس کے بعد ان کو جلا کر مار ڈالنے کے مجرم اب تک گرفتار نہیں ہو سکے۔ شاید یہ غریب سولنگی پی پی پی کے وزیر اور ایم پی اے کے ووٹرز نہیں ہوں گے۔ہاف فرائی فل فرائی سورمے ایوارڈ یافتہ افسر کہاں ہیں؟ وڈیروں سرداروں کے صحرائی محلوں کے ہیلی پیڈوں پر یا بڑے بڑے پھولوں والوں کے ہیوی ڈیوٹی میں اپنے کاندھوں پر پھول بچانے اور بڑھانے کے چکر میں ہیں میڈیا بھی ان پر پھول برسا رہا ہے۔ایوارڈ اور اجرکیں نذر کی جا رہی ہیں۔وہ صحافی جنہوں نے کل ٹنڈو بہاول کے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کیاتھا۔ صاحب رشوت نہیں لیتے لیکن صاحب کی زمینیں بہت ہیں۔ بھینسوں کے باڑے، پٹرول پمپ، بتیس وہیلرز ہیں یہ سب مقابلوں کے انعامات سے حاصل کئے ہیں۔ ہاف فرائی فل فرائی۔
ہاف فرائی فل فرائی میں نہیں جانتا میں فقط اتنا جانتا ہوں کہ میں اور میرے بچے دن اور رات کے کسی بھی وقت شہر کے کسی بھی حصے میں آ جاسکتے ہیں، مجھے میرے اس صحافی دوست نے بتایا جو جعلی پولیس مقابلوں کے خلاف ہے۔ ’’اس امن سے جنگ بہتر ہے جو کسی معصوم کے خون کی قیمت پر آئے‘‘ ایک خاتون انسانی حقوق کی سرگرم کارکن کا کہنا تھا۔ان کا یہ بھی اعتراف تھا یہ ہاف فرائی فل فرائی پولیس عملداروں نے تشدد کی شکار عورتوں کی مدد ضرور کی تھی۔
بشکریہ جنگ

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular

گستاخانہ خاکے، کراچی بار کی سٹی کورٹ تا لائٹ ہائو س ریلی

کراچی ، فرانس میں گستاخانہ مواد کی اشاعت پرکراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے احتجاجی ریلی میں وکلاءکی بڑی تعداد نے...

لانڈھی پروسیسنگ زون میں لگنے والی آگ پر قابو پالیا گیا

کراچی:لانڈھی ایکسپورٹ پروسیسنگ زون میں فیکٹری میں لگنے والی آگ پر قابو پالیا گیا، ریسکیو ذرائع کے مطابق ایکسپورٹ زون میں آگ...

کورنگی میں مبینہ پولیس مقابلہ، ایک ڈاکو ہلاک، دوسرا زخمی

کراچی:کورنگی میں مبینہ پولیس مقابلہ، پولیس کے مطابق کورنگی کبڈی گراؤنڈ 2 ڈاکو اسلحہ کے زور پر لوٹ مارکررہے تھے ،ملزمان نے...

رینجرز کا بلدیہ ٹائون میں فری میڈیکل کیمپ

کراچی، سندھ رینجرزکابلدیہ ٹاون میں فری میڈیکل کیمپ، میڈیکل اسپیشلسٹ، بچوں کےماہرڈاکٹرسمیت مختلف امراض کےڈاکٹرز نےمریضوں کاچیک اپ کیا ، کیمپ...